اسلام آباد کا ماڈرن پوپلزئی
01 جون 2020 (14:52) 2020-06-01

عید نہ روزہ، آدھی عید آدھا روزہ مزہ کر کرا ہوگیا۔ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی تلخی باقی۔ ’’سائنسی چاند‘‘ بندگان خدا کی عید خراب کرگیا۔ جنہوں نے رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن کی جانب سے اعلان میں تاخیر کے باعث تراویح پڑھ لیں انہوں نے روزہ رکھا جو انتظار کرتے رہے انہوں نے ساڑھے دس بجے رات اعلان کے بعد بے دلی سے عید منائی۔ ساری خوشیاں کرونا وائرس لے گیا تھا۔ بچی کھچی’’ سائنسی چاند‘‘ نے چھین لیں، اتنی تاخیر سے جلوہ نمائی کی کیا مجبوری تھی۔ سر شام پیدا ہوگیا تھا تو دس بجے تک منہ چھپائی کیوں، عید کی ساری خوشی تو دوستوں کی دید ہے۔ دوستوں کو کرونا بہادر نے روکے رکھا۔ غیر اعلانیہ لاک اپ عید کے روز بھی برقرار، عید کی نماز میں بھی سماجی فاصلے۔ گلے ملنا دور کی بات، ہاتھ ملانے سے بھی گریز، چاند نے ایسی بے دلی پھیلائی کہ عید سوتے میں گزر گئی۔ سچ پوچھیے تو بجھے بجھے چاند سے دل بجھ گیا۔ یوں کہیے کہ چاند رات کی رونقیں چہل پہل اسلام آباد کے ماڈرن پوپلزئی نے اور عید کی ساری خوشیاں کرونا نے چھین لیں، ایک روزہ کم کرنے سے آپ کا کتنا خون بڑھا۔ وزن میں کتنا اضافہ ہوا۔ ذرا سی انا کی خاطر مغفرت کے طلب گاروں کو آخری روزے کی برکتیں سمیٹنے کی مہلت بھی نہ مل سکی۔ مفتی منیب الرحمن دھیمے لہجہ کے عالم با عمل، ہماری بھی یاد اللہ ہے۔ ہمسائیگی کا شرف بھی حاصل رہا۔ 2010ء میں ہماری والدہ ماجدہ کے انتقال کی خبر پڑھ کر گھر تشریف لائے۔ دیر تک باتیں کرتے رہے، خشوع و خضوع کے ساتھ ان کی مغفرت، بلندیٔ درجات اور پورے خاندان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ ان کی پروفیسری کے دور سے واقف ہیں۔ صاحب کردار، نیک سیرت، گفتگو میں کہیں جھول نہیں، کلمۂ حق پر ڈٹ جانے والے۔ علمائے حق میں شمار، اس دن اعلان میں تاخیر سے پوری قوم کو حیرت ہوئی۔ نگاہیں ٹی وی اسکرین پر جمی رہیں۔ روزہ داروںکی دعا کہ 30 روزے پورے ہوجائیں عید کے روز ’’اجرت‘‘ پوری ملے۔ روزہ خوروں کی آرزو چاند نظر آجائے، منچلے نوجوان موٹرسائیکلوں سے سائلنسر نکال کر چاند رات کو ہلہ گلہ کرنے کے لیے بے چین، لڑکیاں بالیاں بلکہ اچھی خاصی عمر کی خواتین بھی چہرہ مہرہ بدلوانے کے لیے بیوٹی پارلر جانے کو بے تاب، چاند ہی دیر سے نکلا، چاند چہرے کہاں نظر آتے، ماضی قریب میں اتنی تاخیر کبھی نہیں ہوئی۔ چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں، پشاور کے مفتی پوپلزئی نے ایک دن پہلے چاند نظر نہ آنے کا اعلان کیا تھا۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک میں بھی ہفتہ کو عید نہیں ہوئی تھی۔ پھر کیا ہوا؟ چہ میگوئیاں، کرنے والوں کا رخ رویت ہلال کمیٹی کی بجائے اسلام آباد کی طرف تھا۔ ایک ماہ قبل ہی اسلام آباد کے ’’ ماڈرن پوپلزئی‘‘ نے اتوار کی عید کا اعلان کر رکھا تھا۔ ’’مذہبی بابوں‘‘ کا مسلسل مذاق اڑایا جا رہا تھا۔ لوگوں نے کہا وہ اپنی بات منوا کر رہیں گے۔ کہیں سے بھی چاندلائیں لا کر رہیں گے۔ چاہے امریکا اور فرانس سے در آمد کرنا پڑے سبکی انہیں برداشت نہیں، چاند نہ ہوا تو اپنے ’’چاند‘‘ کی نظروں سے گر جائیں گے۔ ایک وزارت جا چکی۔ دوسری بھی چلی گئی تو کیا ہوگا۔ ’’اِنہیںتو اور کوئی کام بھی نہیں آتا‘‘ چہ میگوئیاں جاری تھیں کہ رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین

نے رات ساڑھے دس بجے کے لگ بھگ بوجھل دل اور بجھے لہجہ میں اعلان کیا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں چاند نظر آگیا۔ عجیب چاند تھا پہاڑ پر چڑھ کر دیکھنا پڑا۔ شام سے رات دس بجے تک کیا کر رہا تھا۔ لیبارٹری والوں نے کہا ہوگا۔ پہلے ہمیں جی بھر کے دیکھ لینے دو پھر اپنا مکھڑا دنیا کو دکھانا، انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔ سنا کرتے تھے کہ ناروے کے پہاڑوں میں گھرے دور درواز علاقہ میں سورج رات 11 بج کر 50 منٹ پر غروب اور 12 بج کر 10 منٹ پر پہاڑ کی دوسری جانب سے طلوع ہوجاتا ہے۔ واللہ اعلم، عید کے چاند نے بھی یہی کچھ کیا۔ واقعی عید کا چاند ثابت ہوا۔ مفتی صاحب نے چاند کے اعلان کے ساتھ ہی گزارش کی کہ مذہبی معاملات میں مداخلت سے حضرات گرامی کو باز رکھا جائے۔ ماضی بعید میں رمضان المبارک اور عید الفطر کا چاند ہی تنازع کا باعث بنتا رہا۔ باقی دس مہینوں کے چاند کتنے ’’بیبے‘‘ یعنی فرماں بردار ہیں کہ خاموشی سے طلوع ہوتے ہیں اور گول مٹول ہونے کے بعد گھٹنے لگتے ہیں ہر کمالے را زوالے۔ اسلام آباد کے ’’گول مٹول چودہویں کے چاند‘‘ پورا مہینہ اپنا جلوہ دکھاتے ہیں اور اپنے پنڈی والے شیخ صاحب کی طرح ’’بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست کے قائل ہیں۔ جس وزارت سے منسلک ہیں دو سال گزرنے کے باوجود کیا کیا۔ کوئی سائنٹفک تھیوری ایجاد کی۔ ڈاکٹر قدیر کی طرح کوئی بم شم بنایا۔ کائنات کے نصف مادے غائب ہوچکے۔ کیوں غائب ہوگئے پتا چلایا۔ بجلی سے چلنے والا کوئی طیارہ ہی بنا لیتے۔ حادثات سے نجات ملتی کسی سیارے کی طرف خلائی سفر کی منصوبہ بندی کی ہوتی، چاند پر بڑی ریسرچ ہوچکی آدم خاکی کے قدم اس پر چالیس پچاس سال پہلے پہنچ چکے۔ اس کی جان چھوڑ کر مریخ کو چھونے کی ضد کریں یا پھر آفتاب کا سامنا کریں، وزیر اعظم نے وزارت کا قلمدان سونپتے ہوئے یہ تو نہیں کہا ہوگا کہ ’’مذہبی بابوں‘‘ سے پنگا لو، وہ علمائے حق کا احترام کرتے ہیں اسی لیے انہوں نے عید کے لیے رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کا انتظار کیا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے تو برملا کہا کہ حضرت چاند چاند کھیل رہے ہیں ہم تو رویت ہلال کمیٹی کے اعلان پر ہی عید کریں گے کردار کا مظاہرہ ہے جو ایک عالم دین کے شایان شایان ہے۔ اعتراض ہوا اور بجا ہوا کہ مانسہرہ اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقے بھی پاکستان کا حصہ ہیں پھر مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے رویت ہلال کے اعلان کو تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا، ادھر کے پہاڑ نا قابل قبول ادھر کے پہاڑوں کا چاند قبول، حاصل کلام یہ کہ سائنس مذہب سے جدا نہیں، لیکن مذہب سائنس کا تابع نہیں، سائنس کی فیلڈ اپنی مذہب کا دائرہ دنیا اور آخرت تک وسیع اور لا محدود بقول حضرت علامہ اقبالؒ

ستارہ کیا میری تقدیر کی خبر دے گا

وہ خود فراخی املاک میں ہے خوار و زبوں

اسلام آباد کے ماڈرن پوپلزئی ماضی کے منجھے ہوئے سیاستدان حال کے سائنسدان سیاست کے میدان کے ماہر علم نجوم شیخ رشید کی طرح اپنے جوہر دکھاتے رہیں اس میدان کے شہ سوار ہیں اچھے جا رہے ہیں اپوزیشن کی تباہی میں جن اہم کرداروں کے ’’کارناموں‘‘ کا ذکر ذوق و شوق سے کیا جائے گا اور وقت نے وفا کی تو شاید کسی تمغے سے بھی نوازا جائے گا۔ ان میں آپ کا نام نامی بھی شامل ہوگا۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاست کے باب میں نیک نامی سے زندہ رہا جائے۔ علماء سے چھیڑ چھاڑ ان کے عجیب ڈھب سے مذاق اڑانے اور بھولپن سے ان پر طنز کے تیر برسانے کا طرز عمل اچھا نہیں، مذہب اٹل حقیقت ہے اسے سائنس کی لیبارٹریوں میں تلاش کرنے کی بجائے اہل حق کی مجالس اور اہل ذکر کی محافل میں تلاش کیا جائے مذہب کو ’’مذہب کے محافظوں‘‘ کے لیے رہنے دیں وہ بحمداللہ اس کی حفاظت اور تبلیغ و ریسرچ کے لیے ہمہ تن مصروف اور متحرک ہیں علمائے حق نے ہر دور میں تبلیغ و اشاعت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیے ہیں اور دے رہے ہیں عید اور رمضان المبارک کے چاند کو ’’مذہبی بابوں‘‘ کے لیے رہنے دیں آپ مریخ کا رخ کریں اللہ آپ کو کامیاب کرے یکجہتی کے لیے رویت ہلال کمیٹی کی مخالفت اور اسے زائد از ضرورت قرار دینے کی بجائے علمائے کرام کو اعتماد میں لے کر جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ان سے بھرپور تعاون کریں مخالفت سے دوریاں بڑھیں گی عوام بد ظن ہوں گے جو کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ ایک خاندان کی طرح ملک کو آگے لے کر چلیں کسی بھی خاندان میں بزرگ ’’فارغ لاٹ‘‘ نہیں ہوتے، رہنمائی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ’’اجالا جاتا ہے ذہنوں کو درسگاہوں میں۔ مگر مزاج تو بنتے ہیں خاندانوں میں‘‘ بزرگوں کی عزت کریں گے تو عزت ملے گی۔


ای پیپر