لداخ میں چین کے ہا تھو ں بھا رت کی در گت
01 جون 2020 (14:51) 2020-06-01

یہ ایک انتہا ئی دلچسپ ویڈ یو کلپ تھا۔ دو مختلف ملکو ں کے فو جی آ پس میں لڑ رہے تھے۔ آ پ کہیں گے کہ دو ملکو ں کی فو جو ں کا آ پس میں لڑ نا کو ئی انو کھی بات نہیں۔ فو جیں جب آپس میں لڑ تی ہیں تو بندو قو ں ، توپوں ، اور ٹینکو ں کا بے دریغ استعما ل ہو تا ہے۔ مگراِس لڑ ائی میں کسی ہتھیا ر کا استعمال نہیں ہو رہا تھا بلکہ یہ ہا تھا پا ئی پہ مشتمل لڑا ئی تھی۔ اور فو جی تھے، چین کے اور بھار ت کے۔یہ الگ با ت ہے کہ بعد میں یہ لڑائی با قا عد ہ جنگ کی شکل اختیا ر کر گئی۔ محا زِ جنگ تھا لدا خ کا ایریا۔ مطلب یہ کہ چین نے لد ا خ میں بھا رتی جنگی جنو ن اور اس کے جا رحا نہ عز ا ئم اور تز ویرا تی توسیع پسندی کو نہ صر ف چیلنج کیابلکہ لدا خ میں چینی فو جیو ں نے جس طر یقے سے بھا رتی فو جیو ں کی در گت بنا ئی وہ سو شل میڈ یا پہ ٹا پ ٹر ینڈ بن گیا۔ بھارت چین تنازع کی آتش گیری عالمی برادری کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ بھارت ہمسائیوں کے لیے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ اس کے جنگی جنون کی کوئی انتہا نہیں۔ ایک عمومی زمینی حقیقت یہ ہے کہ خطے کے امن کو بھارتی جارحیت اور جنگی جنون سے کثیر جہتی اور شدید خطرات لاحق ہیں۔ مودی حکومت دنیا کو یہ گمراہ کن تاثر دینا چاہتی ہے کہ اسے کوئی روکنے والا نہیں اور وہ جب چاہے خطے میں من مانی کرسکتا ہے۔ اپنی فسطائیت اور ہلاکت خیز جنگی چالوں سے خطے کے امن کو تہ و بالا کر سکتا ہے۔ سیاسی اور دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی دیوانگی پر مبنی یہ کوشش ہے کہ اس کی جارحیت کا سدباب کوئی نہ کرے ۔ اور یہ کہ بھارت نے فی الفور عاقبت نااندیشی کی اپنی تباہ کن پالیسی ترک نہ کی تو پاکستان اپنی سلامتی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے ۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی فوجی قیادت ایک اجلاس میں علاقے کی تزویراتی اور فوجی صورتحال کا مجموعی جائزہ لے رہی ہے۔ بھارتی قیادت کی بوکھلاہٹ واضح ہے کہ اسے لداخ کی زمینی صورتحال پر چین کی مضبوط دفاعی پیش قدمی درپیش ہے، وہ خفت مٹانے کے لیے حماقت در حماقت کے مضحکہ خیز واقعات اور شرمناک ہزیمتوں سے کولیٹرل ڈی میج کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ادھر پاک فوج نے بھارت کا جاسوس ڈرون ما رگرایا ہے۔ انڈین فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ بھارت دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہا ہے، اس کے سفا ک عزائم کے سامنے پاکستان سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی صورت موجود ہے۔ خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ چین سے چھیڑ چھاڑ کی بھارت کو اب بھاری قیمت چکانا پڑے گی کیونکہ چینی صدر نے چینی افواج کو تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے جس کے ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت اور چین کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ سرحدی تنازع یعنی لداخ کے معاملہ پر ثالثی کے لیے تیار ہے۔ اپنے ٹویٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ وہ بھارت، چین کے درمیان معاملہ کو حل کرسکتے ہیں اور دونوں ممالک کو

انہوں نے اپنی ثالثی کی پیشکش سے آگاہ کردیا ہے۔

قا بلِ غو ر حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی کی فاشسٹ سرکار نہ صرف بھارت میں بسنے والی اقلیتوں بلکہ ہمسایہ ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اس کی متکبر ا نہ اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کے باعث ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ بنگلہ دیش کے لیے یہ شہریت ایکٹ کی صورت میں ، نیپال اور چین کے لیے سرحدی تنازعات کی صورت میں جبکہ پاکستان کو اس کی طرف سے جعلی فلیگ آپریشن کی صورت میں خطرہ ہے۔ مبصرین کے انداز نظر کے مطابق لداخ میں بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت وادی گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیرقانونی تعمیرات کر رہا تھا تو اس دوران بھارتی فوج کا دستہ گرفتار کیا، جسے مذاکرات کے بعد رہا کردیاگیا۔ دنیا نے بھارتی فوجی کو چینی فوجی کے ہاتھوں زبردست کک لگنے کا منظر بھی دیکھا۔ چین لداخ میں زمینی توسیع پسندی کو کسی صورت برداشت کرنے کو تیار نہیں، لہٰذا بھارت اب پسپائی کے بعد سفارتی، سیاسی اور نیم عسکری ذرائع سے شرمندگی مٹانے اور اپنی رعونت چھپانے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔

حکو متِ پا کستا ن کے وز یرِ خا رجہ نے بھارت کو دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ وہ امن سے رہے، ہوش کے ناخن لے، ہمارے خلاف جارحیت کی تو پاکستانی عوام اور افواج منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ بیا ن کے مطابق بھارت جارحیت پر تلا ہوا ہے، پاکستان کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہا ہے، ہم نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا اور نہ چھوڑیں گے مگر دفاع کا بھرپور حق رکھتے ہیں۔ آج پاک فوج نے بھارت کا ڈرون مار گرایا، ہم امن کے راستے کو ترجیح دیتے ہیں، امن کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا دنیا بھارتی عزائم کا نوٹس لے۔ وہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی، سٹیزن ترمیمی ایکٹ کے ذریعے اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات میں الجھا ہوا ہے۔ وہ کس طرف چل پڑا ہے؟ کبھی یکطرفہ غیرقانونی اقدامات کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کا متنازع علاقہ ساتھ ملانے کی کوشش کرتا ہے، کبھی قوانین میں ترمیم کے ذریعے آبادیاتی تنازع بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی سٹیزن ترمیمی ایکٹ، این آر سی جیسے متنازع قوانین متعارف کراتا ہے جس پر بھارت کے اندر سے آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ اسے کبھی نیپال سے مسئلہ ہوجاتا ہے اور کبھی افغان امن عمل میں رخنہ اندازی کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی بلوچستان میں شورش کو ہوا دیتا ہے اور اب لداخ میں وہی حرکت کرکے الٹا چین کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے بر عکس چین نے ہمیشہ بردباری کا مظاہرہ کیا اور امن کی بات کی ہے۔

تاہم پاکستانی عوام، اس کے سیکورٹی حکام اور ارباب اختیار جو بھارت کی مکروہ چانکیائی سیاست اور سفارت کاری کی قلابازیوں کا گہر اشعور رکھتے ہیں انہیں لداخ کی صورتحال میں چین کے ساتھ اپنی تاریخی دوستی، دوطرفہ تعلقات، عالمی صورتحال پر مشترکہ موقف اور غیر متزلزل عسکری، اقتصادی اور تزویراتی حکمت عملی پر ایک ہی پیج پر رہنا ہوگا۔ خطے کی سنگین صورت حال ہمسائیگی کے ناگزیر بندھن میں بندھی ہوئی ہے، پاکستان کو چوکنا رہنا ہوگا۔ چین سے پاکستان کا رابطہ اٹوٹ ہونا چاہیے۔ لداخ کا ایسٹرن علاقہ حساسیت کا مرکز ہے۔ یہی علاقہ گیم چینجر ’’سی پیک‘‘ کے روٹ کی اقتصادی معنویت سے لبریز ہے، عالمی قوتوںاور سی پیک سے ناخوش طاقتوں کی اس پر بری نگاہ ہے۔ امریکی سینئر ڈپلومیٹ ایلس ویلز نے حالیہ دنوں میں سی پیک کے حوالہ سے بلاجواز گوہر افشانی کی جس کا پاکستان اور چین نے بروقت مشترکہ جواب دیا۔ ایلس ویلز نے سی پیک کو متنازعہ بنانے کی ایک بار پھر کوشش کی جسے پاکستان اور چین نے مسترد کردیا اور ان خیالات اور بیان کو زمینی حقائق سے لاعلمی پر محمول کیا ہے۔ دونوں ملکوں نے امریکی عہدیدار کو باور کرایا کہ انہیں سی پیک پر ’’حقیقت اور فکشن‘‘ کو گڈ مڈ نہیں کرنا چاہیے۔ اس موقف کے ساتھ پاکستان کو چین کے ساتھ مل کر بھارتی جارحیت اور جنگی جنون کا راستہ روکنا ہوگا۔ بظاہر بھارت اپنی وہ بیوقوفی دہرانے میں مگن ہے جس کے لیئے وہ ہمیشہ سے مشہو ر ہے، مگر اسے خطے کے تناظر میں چین کے مشترکہ موقف اور لازوال دوستی کے سامنے ہتھیا ر ڈا لنے ہی ہو ں گے۔


ای پیپر