مائینڈ سیٹ
01 جون 2020 (14:50) 2020-06-01

گذشتہ دنوں موٹر وے نو شہرہ کے مقام پر ایک خاتون کی سرکاری افسرکے ساتھ بد تہذیبی کی وڈیو ’’ کرنل کی بیوی‘‘ کے نام سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی،موصوفہ اس راہ پر جانے کے لئے بضد تھیں جو انتظامیہ نے بند کر رکھا تھا،وڈیو میں اور بہت گاڑیاں دیکھی گئیں جو وہاں موجود تھیں، اگر انکی کوئی خاص مجبوری تھی تو وہ موقع پر موجود اعلیٰ افسر سے استدعا کر کے ریلیف حاصل کرتیں تو انھیں اور انکے خاندان کو یہ خفت نہ اٹھانا پڑتی، بدقستمی سے ہمارے ہاں ایک خاص’’ ماینڈ سیٹ ‘‘ہے، وہ بااختیارطبقہ، ایلیٹ کلاس ہے جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے میں فخر محسوس کرتا ہے، قانون شکنی کو انھوں نے وطیرہ بنا رکھا ہے۔ مقام حیرت یہ ہے کہ وہ ہستی جس کی کاوشوں سے ہمیں آزادی نصیب ہوئی انکی سیاسی ،اور نجی زندگی میں کوئی ایسا لمحہ بھی قانون کے احترام سے خالی نہیں ملتا۔

روایت ہے کہ بانی پاکستان کراچی گاڑی پر سفر کر رہے تھے جس راستے پر ریلوے پھاٹک آتا تھا، جب انکی گاڑی وہاں پہنچی تو یہ بند تھا، ڈرایئور نے اہلکار سے پھاٹک کھولنے کو کہا کہ قائد اعظم گاڑی میں تشریف فرما ہیں، بغیر گاڑی کے پھاٹک کھلنے پر آپ نے ڈرائیور سے سوال کیا کہ تم نے یہ کھلوایا ہے، مثبت جواب پر اسکی سرزنش کی ،کہا وہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال ممنوع خیال کرتے ہیں، انکے پرسنل سیکرٹری نے یہ روایت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک دفعہ وہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے ہمراہ اسی طرح گاڑی پر جارہے تھے، انھوں نے برسبیل تذکرہ قائد ؒ کا خاص وصف بتانے کی فرمائش کی تو میں نے مذکورہ بالا واقعہ ہی کوڈ کر دیا، گفتگو جاری تھی کہ گاڑی اچانک رک گئی بھٹو متوجہ ہوئے تو سامنے پھاٹک بند تھا، موصوف نے ڈرائیور کو حکم صادر فرمایا کہ باسٹرڈ کو کہو پھاٹک کھولے اسے نہیں معلوم کہ بھٹو قائد گاڑی میں موجود ہے۔

تاریخ یہ بتاتی ہے جن ممالک نے ترقی کی منازل طے کی ہیں، خودداری کی زندگی جیئے ہیں انھوں نے بلا امتیاز قانون کی حکمرانی کو ہی اولیت دی ہے، ترقی یافتہ ریاستیں تو رہیں ایک طرف عرب ممالک میں بھی جن حکمرانوں نے خود کو قانون کے تابع کر لیا ،انکے طرز حکمرانی نے عوام پر ان منٹ نقوش چھوڑے ہیں، ان میں ہمارے بعد آزاد ہونے والی تیل کی نعمت سے مالا

مال ہماری ہمسائیگی میں ریاست عمان بھی ہے، کہا جاتا ہے کہ ستر کی دہائی میں اس سلطنت میںصرف تین سکول اور ایک ڈسپنسری تھی، یہ انتہائی پسماندہ ملک شمار کیا جاتا تھا، چند کلومیٹر پختہ سڑک اور کچھ دوکانیں تھیں، شمالی حصہ میں خانہ جنگی اور دہشت گردی تھی، کیمونسٹ یمن کے راستے اس پر قبضہ کرنے کا سوچ رہے تھے، اقتدار کے بعدسلطان قابوس نے پہلے عوامی خطاب میںوعدہ کیا کہ وہ ملک اور عوام کو خوشحال بنا نے کی ہر ممکن کاوش کریں گے،اپنے پچاس سالہ دور حکومت میں انھوں نے اس عہدکو وفا کر کے دیکھایا،اب عمان کا شمار نہ صرف جدید ریاست میں ہوتا ہے بلکہ عوام کی فی کس آمدنی جو ستر کی دہائی میں354 ڈالر تھی وہ اب17227 ڈالر ہے، جس ریاست میں صرف تین سکول تھے، آج نصف درجن سے زائد یونیورسٹیاں، بیسیوں کالج، اور سینکڑوں سکول قائم ہیں، ان میں عمانی طلباء وطالبات کو مفت تعلیم بھی میسر ہے جبکہ ایک ڈسپنسری80 ہسپتالوں میں بدل چکی ہے، یہ سہولیات قر یبا بایئس لاکھ آبادی کے لئے ہیں، ترقی کا یہ سفر قانون کی حاکمیت سے عبارت ہے،عدلیہ سرکاری مداخلت سے آزاد ہے،سفارش،رشوت،عدل وانصاف اور قانون کے اطلاق میں ذرا بھی حائل نہیں ہوتی،عام آدمی سے لے کر وزیر،سفیر، امیر سب پر قانون کا احترام لازم ہے،عدالتیں بر وقت فیصلے کرتی ہیں۔ قانون کی یکساں حکمرانی کی بدولت وہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے۔

روایت ہے کہ عمان فوج کے چیف آف آرمی سٹاف گاڑی چلا رہے تھے، چیک پوسٹ پر انھوں نے اپنا شناختی کارڈ متعلقہ آفیسر کے حوالہ کیا، مگر ڈرائیونگ لائسنس کی عدم موجودگی پر آفیسر نے تیس ریال کے چالان فارم پر انکے دستخط لے لئے، جنرل نے آہستگی سے پوچھا تم مجھے جانتے پہنچانتے نہیں ،آفیسر مودّب کھڑا ہوا اور کہا آ پ میرے بڑے باس ہیں، انھی دنوں کا واقعہ ہے شائد کہ لاہور میں ایک جرنیل کی بیوی کی گاڑی روکنے پر ایک انسپکٹر اور اسکا آفیسر ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اس پر جنرل مشرف نے فرمایا تھا،کہ اس بے قوف کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ گاڑی میں کون سوار ہے۔

کہا جاتا ہے ،سلطان قابوس عمان کے شاطی علاقہ میں رہائش پذیر تھے، وہاں ایک چیک پوسٹ پر شناختی کارڈ دکھانا قانون کی رو سے لازم قرار پایا، کیونکہ سلطان کے علاوہ دوسری جنتابھی یہاں رہتی تھی،رات کی تاریکی میں سلطان وہاں سے گذرنے لگے تو ان سے کارڈ طلب کیا گیا جو ان کے پاس نہ تھا،گارڈ سے کہا کہ آپ رات کی تاریکی کی وجہ سے مجھے پہنچانے سے قاصر ہیں ،میں سلطان آف عمان ہوں، گارڈ نے شجرہ نصب بتا کر حکم نامہ سامنے رکھ دیا جس میں درج تھا کہ شناختی کارڈ کے بغیر کسی کو بھی داخلے کی اجازت نہیں ہے،سلطان نے حکم نامہ دیکھا اور واپس ہوگئے،مکتب قصر کو اطلاع ملی تو انھوں نے کارڈ لا کر سلطان کی خدمت میں پیش کردیا، اگلی صبح سلطان قابوس نے گارڈ کو پچاس ہزار عمانی ریال قانون کے احترام کے عوض انعام دیا۔ہمارے ہاں قانون کا احترام کروانے والوں کو ہمیشہ بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا ملازمت سے نکال باہر کیا جاتا ہے،

ارض وطن میں قانون کے اطلاق کی بابت اگر کسی ادارہ کا حوالہ دیا جاتا ہے تو وہ موٹر وے پولیس ہی ہے، اسکی انتظامیہ نے کئی بار ملک کی نامور شخصیات کے خلاف ورزی پر چالان کئے ہیں جو انھوں نے خندہ پیشانی سے قبول کئے اور افسران کی ستائش بھی کی ہے،لیکن اس واقعہ سے پوری دینا میں ہماری جگ ہنسائی ہوئی ہے، پھر ایک ایسا ادارہ جس کا نظم و ضبط ایک خاص شہرت رکھتا ہو، اس سے وابستہ خاندان کی جانب یہ حرکت تو قطعی قابل قبول نہ تھی۔

ہمارے ہاں جرائم کے تمام ڈانڈ ے لاقانونیت سے ملتے ہیں، ہر مافیا ریاست سے بڑا بن رہا ہے،قانون کا پھندا صرف بے بس اور مجبور فرد کی گردن پر فٹ کرنے ہی کو قانون کی حاکمیت مانا جاتا ہے ،مگرسینکڑوں انسانوں کے قاتل کو بچانے کے لئے نئی نئی تاویلیں پیش کی جاتی ہیں،اس ملک کو لوٹنے والے اپنے اپنے جواز بھی رکھتے ہیں، وی وی آئی پی کلچر اس سماج میں نفرت کے بیج بو رہا ہے، اس سے لسانیت اور تعصب کی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں، عوامی سطح پر اگرچہ اس کلچر کو ناپسندکیا جا تا ہے مگر پذیرائی بھی عوام ہی بخشتے ہیں،سینٹ میں سنیٹر سراج الحق اس کے خاتمہ کے لئے آواز اٹھا چکے ہیں اور مستندقانون سازی چاہتے ہیں ،کیونکہ ہماری بقاء اور قومی ترقی کا راستہ قانون کی حاکمیت ہی سے ہو کر گذرتا ہے،اس کتابی معاشرہ میں خود کو آئین اور قانون سے بالا تر سمجھنے والا طبقہ جب تلک اپنا ’’ مائینڈ سیٹ ‘‘ تبدیل نہیں کرتا، تب تلک وہ سماج میں عزت کا حق دار قرارنہیں پائیگا، اس کلچر کی تبدیلی کا آغاز بھی اوپر ہی ہونا موثر ہوگا، ورنہ اصلاحات محض کاغذ کی خوراک ثابت ہوگی۔


ای پیپر