یا دیں سفر حجا ز کی.... (قسط 4 )
01 جون 2020 2020-06-01

(کرونا سے قبل عمرہ کا سفر سعادت)

یہ2005 کا زمانہ تھا۔ روزنامہ نوائے وقت میں معروف کالم نگار عرفان صدیقی کا ایک کالم بعنوان " گنگا سے زم زم تک© " شائع ہوا۔ کالم میں انہوں نے بھارت کے ایک کٹر ہندو نوجوان کا تذکرہ کیا تھا۔ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر جس نے اسلام قبول کیا۔ نوجوان پر اسقدر احسان الٰہی ہوا کہ وہ دل وجان سے اسلامی تعلیمات کی جانب راغب ہوگیا۔مدینہ منورہ اور مصر کی جامعات سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد شعبہ تدریس سے منسلک ہو ا۔ سعودی عرب کی مدینہ یونیورسٹی میں پروفیسراور ڈین کے عہدے تک جا پہنچا ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تحقیقات اسلامی میں جت گیا۔ عربی اور ہندی میں درجنوں کتابیں لکھ ڈالیں۔ ان کتب کا ترجمہ دنیا کے مختلف ممالک کے دینی مدارس کے نصاب کا حصہ ہے۔ اسقدر با سعادت ٹھہرا کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حدیث کا درس دینے لگا۔کفر کے اندھیروں سے نکل کر اسلام کے روشن راستوں پر گامزن ہونے والے پروفیسر ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی کے سفر سعادت کے بارے میں لکھا گیا یہ کالم میری یاداشت سے کبھی محو نہیں ہو سکا۔

اس مرتبہ عمرہ پر جاتے وقت میں نے حج و عمرہ کی دعاوں اور اسلامی تاریخ سے متعلق کچھ کتابیں اپنے سامان میں رکھ لی تھیں۔ ایک کتاب جو آخری وقت پر میں نے اپنے ہمراہ لی وہ عرفان صدیقی کی "مکہ مدینہ " تھی۔ مدینہ منورہ میں آئے دوسرا دن تھا ۔میں ہوٹل کے کمرے میں "مکہ مدینہ " کی ورق گردانی میں مصروف تھی۔ اچانک پندرہ برس قبل لکھاگیاکالم © " گنگا سے زم زم تک" آنکھوں کے سامنے آگیا۔ ایک بار پھر مجھے ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی اور انکی زندگی کا سفر یاد آگیا۔ امی کو میں انکے قبول اسلام کا قصہ بتانے لگی۔ با آواز بلند کالم بھی پڑھ کر سنایا۔ کالم پڑھنے کے بعد انکے متعلق سوچنے لگی ۔ انگلیوں پر گن کر حساب لگایا کہ اب انکی عمرکم و بیش 77 برس ہو گی۔ خیال آیا نجانے اب انکی صحت علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کی متحمل ہو گی بھی یا نہیں۔ دل میں خواہش ابھری کہ کاش میں ان سے ملاقات کر سکوں۔ایک علمی و ادبی شخصیت سے رابطہ کیا اور یہ خواہش گوش گزار کی ۔ ان کا جواب سن کر مجھے بے حد مایوسی ہوئی۔ کہنے لگے کہ اعظمی صاحب عمومی طور پر میل ملاقاتوں سے انتہائی گریزاں رہتے ہیں۔ خواتین سے تو غالبا بالکل نہیں ملتے جلتے۔ انتہائی مایوسی کے عالم میں یہ گفتگو اختتام پذیر ہوئی۔ لیکن اگلے دن انہوں نے خوشخبری سنائی کہ اعظمی صاحب سے بات ہو گئی ہے۔ ہدایت دی کہ میں فون پر ان سے رابطہ کر لوں۔

زندگی میں مجھے بہت سی نامور دینی، علمی، ادبی اور دیگر شخصیات سے ملاقا ت اور گفتگو کے مواقع ملے ہیں۔ خصوصی طور پر بھاری بھرکم سیاسی شخصیات۔ پروٹوکول جن کے آگے پیچھے بندھا رہتا ہے۔ لوگ جن کی خوشنودی خاطر میں بچھے جاتے ہیں۔ ایک لمحے کیلئے میں کسی شخصیت سے مرعوب ہوئی، نا کسی کے عہدے، رتبے اور مرتبے کا رعب و دبدبہ مجھ پر کبھی طاری ہوا۔لیکن ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی کو ٹیلی فون کال ملاتے وقت مجھ پر گھبراہٹ طاری تھی۔ دل کی دھڑکنیں منتشر تھیں۔ ان سے بات کرتے میری زبان کچھ لڑکھڑائی اور آوازکپکپا گئی ۔عرض کیا کہ برسوں پہلے ایک کالم کے توسط سے آپ سے تعارف ہوا تھا۔ برسوں سے میں آپکے بارے میں سوچا کرتی ہوں۔ برسوں سے خواہش ہے کہ آپ سے شرف ملاقات حاصل ہو سکے۔ نہایت عاجزی سے کہنے لگے۔ میں کوئی ایسی بڑی شخصیت نہیں ہوں۔جب چاہیں گھر چلی آئیں۔ اگلے دن بعد از نماز عشا ءملاقات کا وقت طے ہوا۔ نہایت فراخدلی سے کہنے لگے آپ کو یقینا راستوں سے آگاہی نہیں ہو گی، کل میرا ڈرائیور آپ کو لینے پہنچ جائے گا۔ شکریہ کیساتھ عرض کیا کہ میں خود وقت مقرر ہ پر حاضر ہو جاوں گی۔ اس کے بعد میں بے تابی سے اگلے دن کا انتظار کرنے لگی۔ اس سے قبل کہ میں اس ملاقات کا احوال لکھوں، قارئین کے لئے پروفیسر ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی کے قبول اسلام کی مختصر داستان بیان کر تی ہوں۔

1943 میں اعظم گڑھ (ہندوستان) کے ایک ہندو گھرانے میں ایک بچے نے جنم لیا۔والدین نے اس کا نام بانکے رام رکھا ۔ بچے کا والد ایک خوشحال کاروباری شخص تھا۔ اعظم گڑھ سے کلکتہ تک اس کا کاروبار پھیلا ہوا تھا۔ بچہ آسائشوں سے بھرپوزندگی گزارتے ہوئے جوان ہوا۔وہ شبلی کا لج اعظم گڑھ میں زیر تعلیم تھا۔ کتابوں کے مطالعے سے اسے فطری رغبت تھی۔ایک دن مولانا مودودی کی کتاب " دین حق" کا ہندی ترجمہ اس کے ہاتھ لگا۔نہایت ذوق و شوق سے اس کتاب کا مطالعہ کیا۔ بار بار پڑھنے کے بعد اسے اپنے اندر کچھ تبدیلی اور اضطراب محسوس ہوا۔ اس کے بعد اسے خواجہ حسن نظامی کا ہندی ترجمہ قرآن پڑھنے کا موقع ملا۔

نوجوان کا تعلق ایک برہمن ہندو گھرانے سے تھا۔ کٹر ہندو ماحول میں اسکی تربیت ہو ئی تھی۔ ہندومذہب سے اسے خاص لگاو تھا۔ باقی مذاہب کو وہ برسر حق نہیں سمجھتا تھا۔ اسلام کا مطالعہ شروع کیا تو قرآن کی یہ آیت اس کی نگاہ سے گزری۔ ترجمہ: اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے۔ اس نے ایک بار پھر ہندو مذہب کو سمجھنے کی کوشش کی ۔ اپنے کالج کے لیکچرار جو گیتا اور ویدوں کے ایک بڑے عالم تھے، سے رجوع کیا۔ ان کی باتوں سے مگر اس کا دل مطمئن نہیں ہو سکا۔ شبلی کالج کے ایک استاد ہفتہ وار قرآن کا درس دیا کرتے تھے۔ نوجوان کی جستجو کو دیکھتے ہوئے استاد نے اسے حلقہ درس میں شامل ہونے کی خصوصی اجازت دے دی۔

سید مودودی کی کتابوں کے مسلسل مطالعے اور درس قرآن میں باقاعدگی سے شمولیت نے نوجوان کے دل کو قبول اسلام کیلئے قائل اور مائل کر دیا۔ پریشانی مگر یہ تھی کہ مسلمان ہونے کے بعد ہندو خاندان کیساتھ کس طرح گزارہ ہو سکے گا۔ اپنی بہنوں کے مستقبل کے متعلق بھی وہ فکرمند تھا۔ یہی سوچیں اسلام قبول کرنے کی راہ میں حائل تھیں۔ ایک دن درس قرآن کی کلاس میں استاد نے سورت عنکبوت کی یہ آیت پڑھی۔ ترجمہ: جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے، ان کی مثال مکڑی کی سی ہے، جو گھر بناتی ہے اور سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے۔ کاش لوگ ( اس حقیقت سے) باخبر ہوتے۔ اس آیت اور اسکی تشریح نے بانکے رام کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ اس نے تمام سہاروں کو چھوڑ کر صرف اللہ کا سہارا پکڑنے کا فیصلہ کیا اور فوری طور پر اسلام قبول کر لیا۔ اسکے بعد اس کا بیشتر وقت سید مودودی کی کتابیں پڑھنے میں گزرتا۔ نماز کے وقت خاموشی سے گھر سے نکل جاتا اور کسی الگ تھلگ جگہ پر ادائیگی کرتا۔ چند ماہ بعد والد کو خبر ہوئی تو انہوں نے سمجھا کہ لڑکے پر جن بھوت کا سایہ ہو گیا ہے۔ پنڈتوں پروہتوں سے علاج کروانے لگے۔ جو چیز وہ پنڈتوں پروہتوں سے لا کر دیتے یہ بسم اللہ پڑھ کر کھا لیتا۔ علاج معالجے میں ناکامی کے بعد گھر والوں نے اسے ہندو مذہب کی اہمیت سمجھانے اور دین اسلام سے متنفر کرنے کا اہتمام کیا۔ جب کوئی فائدہ نہ ہوا تو رونے دھونے اور منت سماجت کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس سے بھی بات نہ بن سکی تو گھر والوں نے بھوک ہڑتال کا حربہ آزمایا۔ والدین اور بھائی بہن اس کے سامنے بھوک سے نڈھال پڑے سسکتے رہتے۔ اس کے بعد گھر والوں نے مار پیٹ اور تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ اللہ نے مگر ہر موقع پر اسے دین حق پر استقامت بخشی ۔

اس نے تمام رکاوٹوں اور مشکلات کو نظر انداز کیا۔ ہندوستان کے مختلف دینی مدارس میں تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد مدینہ منورہ کی جامعہ اسلامیہ (مدینہ یونیورسٹی ) میں داخل ہو گیا۔ جامعتہ الملک عبدالعزیز ( جامعہ ام القری ۔ مکہ معظمہ) سے ایم ۔اے کیا۔ مصر کی جامعہ اازہر قاہرہ سے پی۔ ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ اعظم گڑھ کے کٹر ہندو گھرانے میں آنکھ کھولنے والا یہ بچہ دنیائے ا سلام کا نامور مفکر، محقق، مصنف اورمبلغ بن گیا۔ انہیںپروفیسر ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ ان کی کتابیں ہندی، عربی، انگریزی، اردو، ملائی، ترک اور دیگر زبانوں میں چھپ چکی ہیں۔انتہائی سعادت ہے کہ ڈاکٹرصاحب نے صحیح احادیث کو مرتب کرنے کے ایک انتہائی بھاری بھرکم تحقیقی کام کا بیڑہ اٹھایا اور برسوں کی محنت کے بعد اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ ایسا کام جو بڑی بڑی جامعات اور تحقیقی ادارے نہیں کر سکے، ایک شخص نے تن تنہا کر ڈالا۔ گزشتہ کئی برس سے وہ مسجد نبوی میں حدیث کا درس دیتے ہیں۔ (جاری ہے)


ای پیپر