نیک و بد حضور کو…
01 جون 2019 2019-06-01

کیا یہ حکومت اپنی ناکامیوں میں پے در پے اضافہ کرنے پر تلی ہوئی ہے… ناکامیاں بھی ایسی جن کی حقیقت ہر لمحہ واشگاف ہوتی رہتی ہے… ہر ناکامی اپنے جلو میں بدنامی لے کر آتی ہے اور پچھلے نو دس ماہ کے دوران جب سے یہ حکومت برسر اقتدار آئی ہے ، ایک کے بعد دوسری ناکامی اس کا تمغۂ امتیاز بنی ہے… اس کام کا نشہ کچھ ایسا اس کے سر پر سوار ہوا ہے کہ آدمی حیران ہوتا ہے … کیا جدید دنیا کے اندر ایسی بھی کوئی حکومت برسر اقتدار آئی ہو گی جس نے ناکامی اور بدنامی کے علاوہ کمائی نہ کی ہو… خارجہ پالیسی کی طنابیں اگرچہ اس کے ہاتھ میں نہیں لیکن نام تو اسی کا چلتا ہے اور وہاں یہ معاملہ ہے کہ چین نے پچھلے دورے کے دوران ہمارے خان بہادر یعنی وزیراعظم کو وہ اہمیت ہرگز نہ دی جس کے پاکستانی قوم کے نمائندہ ہونے کے ناطے کم ازکم درجہ پر وہ مستحق تھے… مودی نے خان بہادر کی ہزار خواہش کے باوجود حلف برداری کی تقریب میں نہیں بلایا… برطانیہ جاتے جاتے رہ گئے اور اس وقت مکہ مکرمہ میں او آئی سی کا جو سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے … حرم پاک کے ارد گرد موجود پاکستانیوں نے جو اپنے وزیراعظم کے بارے میں جیسے ’استقبالیہ نعرے‘ فضا میں بلند کیے،اُن سے قطع نظر اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں تنازع کشمیر کا اس طرح ذکر نہیں جس طرح کبھی ہوا کرتا تھا… بھارت اس سے زیادہ کیا خوش ہو گا … اندرون ملک نگاہ ڈالیے تو ٹیکسوں کی وصولی میں رتی برابر اضافہ نہیں ہوا… نئی حکومت کی ایمنسٹی سکیم کے فلاپ ہو جانے کے آثار نظر آنے شروع ہو گئے ہیں اور روز مرہ کی اشیاء کی مہنگائی نے عام آدمی کا جینا صرف محاورے کی زبان میں نہیں فی الواقعہ دوبھر کر رکھا ہے اور اب جو پٹرول کی قیمتیں ساڑھے چار روپے تک بڑھا دی گئی ہیں، ان کا نیچے تک قیمتوں پر جو اثر پڑے گا نتیجتاً ایسی مہنگائی ہمارا دروازہ پیٹنے والی ہے کہ اسی حکومت کے سابق وزیر خزانہ اسد عمر کا یہ کہنا سو فیصد درست ثابت ہو گا کہ لوگوں کی چیخیں نکل جائیں گی لیکن ملک کی اکانومی اور مالیاتی امور کو تو آپ نے آئی ایم ایف کے پاس ٹھیکے پر دے دیا ہے… ناکامیوں کا بوجھ خان بہادر شاید دل ہی دل میں یہ سمجھ کر محظوظ ہو رہے ہوں کہ ناکام ہو گا تو آئی ایم ایف ہو گا میرا کیا بگڑے گا… مگر حضور سارا ملبہ تو آپ پر ہی آ کر گرے گا… آئی ایم ایف کا کوئی پہلے کچھ بگاڑ سکا تھا نہ آج بگاڑ پائے گا… وہ دورِ جدید کا ’’بانیا‘‘ ہے … ناکامیوں کا بوجھ آپ پر گرے گا اور حالات ایسے ہی چلتے رہے تو اس کے بوجھ سے نکل آنے کے قابل نہ رہیں گے… کیا اسی مشن پر آپ کو لایا گیا…

یہ حقیقت نفس امری اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ آپ کو ہم پر مسلط کرنے والوں نے یہ شعبدہ بازی ہی اس لیے کی ہے کہ اپنی دانست میں اچھے یا برے فیصلے وہ کریں… آپ کو عبث بدنام کرنے کے لیے آگے کر دیں… چڑھ جا بیٹا۔۔۔ رام بھلی کرے گا… آخر پروٹوکول کے مزے تو لے رہے ہیں … یہ کیا کافی نہیں مگر پراٹوکول کی قیمت تو آپ کو ادا کرنی ہو گی… مگر جس طرح آپ کو بدنامی کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا گیا ہے … وہ آپ کی حکومت کے سفر آخرت کو تیز تر کرنے کے لیے ایک کی بجائے دو تین بیٹریوں کا کام دے رہا ہے… یہ سب کچھ بھی گوارہ تھا مگر پی ٹی ایم کے ساتھ جو ’وہ‘ کر رہے ہیں اور پی ٹی ایم جو کچھ ’اُن‘ کے ساتھ کررہی ہے ، اس کے نتیجے میں آپ جس رگڑے میں آ گئے ہیں وہ کہیں کا نہیں رہنے دے گا… میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا مگر المیہ یہ ہے کہ اس سے ہماری سرحدات پر پائی جانے والی حالت بری طرح متاثر ہو رہی ہے… ’پی ٹی ایم‘ دو چار سر پھرے نوجوانوں کے اندر پائے جانے والے وقتی ابال کا نام ہوتا تو چنداں تشویش کی بات نہ تھی… یہ اس وقت قبائلی عوام کے اندر تیزی سے جڑیں پکڑتی اور مقبولیت حاصل کرتی تحریک ہے… اسے ملک دشمن اور غیروں کی ایجنٹ قرار دے کر آپ بگاڑ کے ایسے بیج بو رہے ہیںکہ کل کو اس کی کڑوی فصل کاٹنا پڑے گی… 26 مئی کو شمالی وزیرستان کی سرحدی چوکی پر جو کچھ ہوا، اس کے بارے میں اگر اس تحریک کے مؤقف کو سراسر غلط مان کر ’ڈی جی پی آر‘ کے بیانیے کو سو فیصد درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو کیا اس فتنے سے زیادہ بہتر طریقے اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ نمٹا نہیں جا سکتا تھا… معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یا تو اصل حکمرانوں کی ہاں میں ہاں ملا کر اس طرح چلنے کی ٹھان لی ہے کہ چوں چرا ں کریں گے کہ جیسے حکم نازل ہو گا ویسے ہی عمل کر دکھائیں گے… اس کے بعد ’وہ‘ جانیں ان کا کام… مگر آپ کے نام نہاد اقتدار کے بحری جہاز کو تو ایک کے بعد دوسرے طوفان کی نذر کیا جا رہا ہے… اب جو آپ سے جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کے خلاف ریفرنس تیار کرا کے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جا رہا ہے، تو کیا اس انتہائی نیک نام اور صاحب عقل وبصیرت جج کے حق میں اٹھنے والی وکلاء جمع سیاستدانوں کی تحریک آپ کو دم لینے اور چہرہ دکھانے کے قابل رہنے دے گی… 14 جون کو جب اس ریفرنس نے سپریم جوڈیشل کونسل کے یہاں زیر بحث آنا ہے، ابھی بہت دن باقی ہیں… لیکن سینیٹ یعنی منتخب پارلیمنٹ کا ایوان بالا آپ سے کرائی جانے والی اس حرکت کے خلاف قرار داد منظور کر چکا ہے… ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ کر چکا ہے… اس کے بعد بات قومی اسمبلی میں پہنچا چاہتی تھی تو آپ کی جماعت کے لوگوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا لیکن کب تلک …یہ حقیقت بھی تو آپ پر عیاں ہے کہ بات اتنی سادہ نہیں ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کی اہلیہ محترمہ جن کا خاندان سندھ اور بلوچستان کے اندر ہمیشہ سے بڑی جائیدادوں کا مالک چلا آ رہا ہے… انہوں نے بیرون پاکستان کتنی جائیداد کب بنائی اور خود جسٹس قاضی جو تحریک پاکستان کے ایک سربر آوردہ رہنما اور قائداعظم کے معتمد علیہ ساتھی کے صاحبزادے ہیں ، ان کی ذاتی او رپیشہ ورانہ امانت و دیانت کی ماسوائے ہماری مقتدر قوتوں کے پورا ملک قسم اٹھانے کے لیے تیار ہے ، کا اصل قصور یہ نہیں جو بتایا جا رہا ہے ، ان کا گناہ ماسوائے اس کے کچھ نہیں کہ انہوں نے فیض آباد دھرنے اور اس سے قبل بلوچستان میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے خفیہ ایجنسیوں کے کردار سے پردہ اٹھانے کی جرأت رندانہ کی تھی… آئین مملکت سے وفاداری کے عہد کو نبھایا تھا… مقتدر قوتوں کے غیر آئینی اقدامات کو بے نقاب کیا تھا مگر ظاہر ہے یہ بات ان قوتوں کو پسند نہ آئی جنہوں نے اپنے خاص اداروں کی بدولت پورے ملک کی سیاست کو اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے… آپ خود بھی یعنی ہمارے خان بہادر بنفس نفیس ایسے ہی اداروں کے حسن تدبیر کا نمونہ ہیں جو محض چند روزہ نام نہاد اقتدار کے لیے اپنے اصل آقاؤں کو راضی رکھنے کی خاطر گرم ہوا کا ایک کے بعد دوسرا تھپیڑا کھائے چلا جا رہا ہے … اگرچہ اقتدار ہر ایک کو عزیز ہوتا ہے ، مگر آپ ذر ا غور فرمائیے کہ اگر اس کی یہ قیمت ادا کرنی پڑے جو آپ سے وصول کی جا رہی ہے تو کیا اس سے بہتر نہیں کہ ابھی سے اسی آبرو مندانہ راہِ نجات کے لیے سوچنا شروع کر دیا جائے

مانے نہ مانے جان جہاں اختیار ہے

ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں

ادریس بختیار کھری صحافت کا عملی پیکر

ادریس بختیار کی شخصیت اور صحافتی زندگی میں اس پیشے کے اصولی تقاضوں اور ان کے عملی مظہر کا کچھ اس طرح امتزاج ہو گیا تھا کہ ایک کو دوسرے سے علیحدہ کرنا مشکل تھا… انہوں نے 50سالہ صحافتی زندگی میں جو نام کمایا اور اس کی جو قابل تقلید مثالیں اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں، وہ ہمارے شعبے کے کم لوگوں کے حصے میں آیا ہے…مرحوم رپورٹنگ کے بادشاہ تھے اور کمال فن یہ تھا کہ جو خبر بھی تیار کرتے اسے چھاپتے یا نشر کرتے اس کے ہر لفظ پر یقین کرنے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ ہوتا… اس لیے کہ ادریس بھائی اپنی خبر کی سچائی اور اس کے ایک ایک لفظ کی حرمت کا پاس و لحاظ کرنے میں بڑے حساس واقع ہوئے تھے… اس میدان میں ان کی پیشہ ورانہ سر بلندی کا یہ عالم تھا کہ وہ لوگ جو ان کے نظریاتی جھکاؤ کے مدمقابل دوسری دنیا کے افراد تھے اور اپنے تئیں اس میدان کے کم درجے کے شہسوار بھی نہ تھے انہیں بھی ادریس بھائی کی فراہم کردہ خبر کے لفظ لفظ پر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا تھا… وجہ ظاہر تھی ادریس بھائی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں کوئی چیز آڑے نہ آنے دیتے تھے… خواہ ان کے نظریاتی ہم خیال ہوں یا پسندیدہ سیاستدان اور جماعتیں جب معاملہ خبر حاصل کرنے یا اسے لکھنے یا نشر کرنے کا ہوتا تو ادریس بھائی ہرگز پروا نہ کرتے کہ کون یا کس کا مفاد اس کی زد میں آئے گا یا کسے فائدہ یا نقصان پہنچے گا… ان کے نزدیک اصل بات خبر کی صداقت تھی اور اسی سرمایے کو انہوں نے عمر بھر حرز جاں بنائے رکھا… میں جب کبھی بھی کراچی گیا تو ادریس بھائی سے ملاقات ہوتی اور یہ دیکھ کر سخت حیران ہوتا تھا کہ اس شہر پر ایم کیو ایم کے متشددانہ غلبے کے زمانے میں بھی ادریس بختیار کو جو ظاہر ہے اسلامی نظریاتی رجحان رکھنے والے معروف صحافی تھے ، ایم کیو ایم کے اندرونی حلقوں میں رسوخ حاصل کرنے، ان سے اصل خبر نکلوالینے میں اور اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ اس سفاک تنظیم کے لوگ راضی ہوں گے یا ناراض اسے بی بی سی جیسے عالمی ادارے سے نشر کر دینے میں کوئی باک نہ ہوتا تھا… یہ ادریس بھائی کی ساکھ تھی جو ایمکیو ایم والوں کو بھی مجبور کرتی تھی کہ وہ اپنی خبر کو ان کے در پر لا کر پیش کرتے اور درخواست کرتے ادریس بھائی ذرا ہمارا بھی خیال کر لیجیے گا… مرحوم روزنامہ جنگ، ڈان، ہفت روزہ ہیرلڈ اور بی بی سی اردو سروس جیسے اداروں سے وابستہ رہے… ہر جگہ اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا حالانکہ ان کا نظریاتی رجحان آڑے آ سکتا تھا… مگر جن صحافتی اصولوں کو انہوں نے اوڑھنا بچھونا بنایا تھا، ان کی فوقیت کچھ اس طرح اپنا لوہا منواتی کہ بائیں بازو والوں کے دلوں میں بھی دائیں بازو کی شناخت رکھنے والے اس رپورٹر کا ڈنکا بجتا… 2011ء میں ہم نے روزنامہ نئی بات کی اشاعت کا بیڑہ اٹھایا تو مسلسل رہنمائی کی خاطر ملک کے جن سر بر آوردہ اور تجربہ کار صحافیوں پر میری نگاہ پڑی ، اُن میں ادریس بھائی سر فہرست تھے… میں نے کراچی حاضر ہو کر ان سے درخواست کی کہ ہمارے اخبار پر مسلسل نگاہ رکھیں… اپنے مشوروں سے فیض یاب کریں اور جہاں جھول نظر آئے ہماری رہنمائی کریں … ادریس بھائی نے خندہ پیشانی سے میری درخواست کو قبول کیا اور نئی بات نے اپنے آغاز کے دنوں میں اردو صحافت کے اندر جو مقام بنالیا، اس میں ادریس بھائی کی جانب سے ملنے والی پیشہ ورانہ رہنمائی کا بہت عمل دخل تھا… اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور جو اصولی ورثہ انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑا ہے، اگلی نسل کے صحافیوں کو ان پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔


ای پیپر