جو مانگتے نہیں رب سے وہ سب سے مانگتے ہیں
01 جون 2019 2019-06-01

رمضان رخصت ہونے کو ہے۔ ہمیں سدھارنے ، رب تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے، مالک الملک ملک الملوک، (ساری سلطنتوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ) کے در پر جھک کر سر بلند و سرخرو ہونے کا ایک سنہری موقع عطا ہوا۔ تین توقعات فرد اور قوم سے رمضان نے ظاہر کی تھیں۔ لعلکم تتقون، شاید کہ تم اللہ سے ڈرنے والے بنا جاؤ۔ لعلکم تشکرون، شاید کہ تم (نعمتِ اسلام پر) شکر گزار بن جاؤ۔ لعلھم یرشدون، شاید کہ یہ راہِ راست پا لیں۔ امریکہ، آئی ایم ایف کے آگے بندھی گھگی کھلے تو اللہ کا خوف محسوس ہوا۔ اسلام کی نعمت؟ اس سے پیچھا چھڑاتے مشرف تا ایں دم، ہم دنیا کو یہ یقین دلاتے مرے جاتے ہیں … ’مرے اسلام کو اب قصہ ماضی سمجھو‘۔ راہِ راست۔؟ پہلے ہمارا قبلہ مغرب کی طرف تھا۔ اب پورا مغرب ہی ہم نے قبلہ ٹھہرا لیا۔ انبیاء، صدیقین ، شہیداء، صالحین والی صراطِ مستقیم کہاں اور ہم کہاں! ہم تو گناہگار بندے ہیں ۔ دنیا عزیز ہے۔ دجالی دور میں کھال بچانا ضروری ٹھہرا۔ سو ہم کہتے ہیں : مجھے للہ جینے دو کہ میں لبرل مسلماں ہوں۔ رمضان آیا اور گزر گیا اس میں افطار پارٹیاں اصل آیٹم تھا جو نہایت مقبول رہا۔ سو وہی ہے چال بے ڈھبی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔ چاند رات پر منایا جانے والا جشنِ نزولِ شیطان ہمارے ایمان کا حال بیان کر دیا کرتا ہے ہر سال۔ ملکی حالات سب کے سامنے ہیں ۔ گو یم مشکل وگرنہ گویم مشکل۔ قومی خزانہ ڈالر مہنگا ہونے سے ادھ مؤا ہو رہا ہے۔ اورنج لائن منصوبے سمیت ہر منصوبہ مہنگا تر ہو گیا ہے۔ بیرونی قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا۔ اب باری ہے گیس کی۔ یہ سب دیکھتے دیکھتے سٹاک مارکیٹ بھی بار بار ہوش کھو بیٹھتی ہے۔ اللہ کی وارننگ تو آپ نے قرآن میں پڑھی، تراویح میں سنی ہو گی۔ ’اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف نہیں بدل دیتی۔ اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی۔ نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی مددگار ہو سکتا ہے‘۔ (الرعد:11)

2001ء کے غلط فیصلے نے ہمیں اللہ کے حکم توڑنے کی راہ پر ڈال دیا۔ اللہ سے منہ موڑ کر باطل کا مکمل مطیع فرمان۔ رازق، حافظ، ناصر سب امریکہ کو سمجھ بیٹھے۔ اوصاف کلیتاً منفی راہ پر چل پڑے۔ پشت بمنزل۔ اسلامی تہذیب کا مرکزی عنصر، تہذیبی جوہر، عورت کی حیا اور مرد کی غیرت ہے۔ عورت کے زنانہ اور مرد کے مردانہ اوصاف سر تا پا بدل ڈالے۔

دیوثیت قومی منظر نامہ ٹھہرا۔ اخلاق، معاشرت بدلی۔ نصاب بدلے۔ ابلاغی طوفانوں نے گھروں میں شیاطین نچائے۔ صنفی برابری، حقوق نسواں (Gender) کے نام پر آنے والی تمام ایڈ، قوم کی روحانیت کے حق میں ایڈز سے مہلک تر نکلی۔ اہل دین کی ٹارگٹ کلنگ، لاپتگی کا ہولناک المیہ فورتھ شیڈول کی گھمن گھیریاں ان کا مقدر ٹھہریں۔ ننھے بچوں کے باپ اٹھا لیے مار پھینکے گئے۔

خوبصورت ملک خداداد پاکستان کا فرعونی مصر بنا ڈالا۔ عدلیہ بھی بے بس منہ تکتی رہی۔ لے دے کر صدا بصحرا بن کر سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپھو ٹو ہیں جن کی آواز مسلسل اظہار برہمی کی آتی رہتی ہے۔ بجا طو رپر انہوں نے کہا کہ ’پولیس اقدامات سے قیامت تک لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہو سکتے۔ کاغذی کارروائی سے کچھ نہیں بنتا‘۔ اور یہی حقیقت حال ہے۔ انصاف کا عالم تو یہ ہے کہ تحریک انصاف بھی صرف خبریں پڑھتی ہے۔ مثلاً غریب پان فروش کو 5 دن کی سزا ہوئی، 6 سال بعد رہائی ملی۔ عدالت نے معافی مانگی اور باعزت بری کر دیا۔ یہ بھی خوش نصیبی ہے! سو اب ہمارے انہی اوصاف کے ہاتھوں شامت یوں ہے کہ جب زراعت کو پانی/ بارش کی ضرورت ہوتی ہے تو زمین جاں بلب بوند بوند کو ترستی ہے۔ دریا بھارت کے ہاتھوں صحرا کا منظر پیش کرتے ہیں ۔ جہاں فصلیں ہوتی ہیں ، وہاں پک کر تیار کھڑی فصل پر چھاجوں مینہہ برستا ہے۔ (جب کسان کہتا ہے کہ سونے کی بوند بھی نہ پڑے) پھل بے وقت بارش سے تباہ۔ باغات برباد۔ یہ نقصان ان کا محبوب امریکہ تو پورے نہیں کر سکتا۔ اس کی تو اپنی کمر اللہ کے موسمیاتی تھپیڑوں ، بگولوں نے توڑ رکھی ہے۔ سمندر سے تیل گیس کی آس لگائے کب سے حکومت خوشخبری خوشخبری پکار رہی تھی۔ ہوا یہ کہ الٹا 14 ارب جو اس تلاش میں کھپے، وہ بھی ڈوب گئے۔ زمین و آسمان کے خزانوں کے مالک کو چھوڑ کر کفر کے سفاک IMF خداؤں کو پکارنے کا نتیجہ سامنے ہے۔ امریکہ افغانستان پر ’بموں کی ماں‘ نامی سپر میزائل مارتا رہا۔ IMF نے ہمارے عوام پر بجلی گیس ٹیکس ڈالر کی مہنگائی کا ہمہ نوع بارود بھر کر ’معاشی بموں کی ماں‘ میزائل دے مارا۔ عوام کا دھیان بٹانے کو کیا کارکردگی ڈالی جا رہی ہے؟ پاکستان پوسٹ نے مہنگائی گزیدہ مفلسائے گئے عوام کے لیے سستے کرائے پر اپنے 41 گیسٹ ہاؤس کھول دیئے۔ (روٹی نہیں ملتی تو کیک کھا لو والا فرانسیسی انقلاب فارمولہ!) کھانے کو میسر نہیں تو سیر و تفریح کریں! مزید درفنطنیاں چھوڑنے کو فواد چوہدری سائنس ٹیکنالوجی کی مسند پر وزیر بنے بیٹھے ہیں ۔ فرماتے ہیں آئندہ 10 سال میں ڈرائیونگ سے وابستہ لاکھوں نوکریاں ختم ہو جائیں گی کیونکہ بغیر ڈرائیور کے گاڑیاں آ جائیں گی۔ اسی دوران عمران خان نے قوم کو بتایا کہ بابائے قوم کا انتقال کینسر سے ہوا تھا۔ شکر ہے یہ نہیں کہہ گزرے کہ علاج شوکت خانم سے ہوا تھا۔ حکومت کا زمینی علم یہ پھلجھڑیاں چھوڑ رہا ہے۔ فواد چوہدری عید کا چاند نکالنے پر تلے بیٹھے ہیں ۔ دینی علم سے یہ سبھی کسمپرسی کی حد تک فارغ ہونے کے باوجود در اندازی پر کمربستہ رہتے ہیں ۔ نہیں جانتے کہ رویت ہلال لازم ہے۔ علماء کے مطابق 29 مقامات پر کتب حدیث میں چاند دیکھ کر عید منانے کا حکم آیا ہے۔ فلکیاتی علم کا رعب کیا جھاڑیں گے۔ نہیں جانتے کہ دنیا کو فلکیات پڑھانے والے اور اس کے آلات ایجاد کرنے والے سب سے پہلے ہمی تھے! سپین کے مسلمان! لیکن اس وقت ہمارے جرنیل طارق بن زیاد تھے! 3 براعظموں پر ہماری حکومت تھی۔ جبکہ آج دنیا کے سب سے بڑے کشکولیئے ہم ہیں جو قرضہ ملنے پر جشن مناتے ہیں ۔ رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن کے راگ الاپتے۔ شمالی وزیرستان میں حالیہ واقعات بہت احتیاط، حکمت اور تدبر طلب ہیں ۔ وزیراعظم خود آگے بڑھ کر معاملات کو سنبھالیں۔ PTM نے جو پارلیمنٹ کے سامنے خود کو جواب دہی کے لیے پیش کرنے کی بات کی تھی، اسے عملی شکل دی جائے۔ مشرف کے ہاتھوں بلوچستان میں دہکائی گئی آگ کا خمیازہ ہم مسلسل آج بھی بھگت رہے ہیں ۔ ایوب خان کے ڈنڈے نے مشرقی پاکستان کے سانحے سے ملک کو دوچار کیا تھا۔ ایک بظاہر پر امن مظاہرے پر کن نامعلوم ہاتھوں نے فائر کھول دیا؟ کیا ملک اس وقت کسی ضدم ضدا کا متحمل ہو سکتا ہے۔ پہلے قبائل میں جو کچھ ہوا اس میں عصبیت کا نہیں اسلام کا عنصر تھا۔ ایپی فقیر کی غاصب انگریز کے خلاف مزاحمت، آزادیٔ کشمیر کی پہلی جنگ سے لے کر روس اور پھر امریکہ کے خلاف جہاد افغانستان میں شمولیت اسلامی حمیت کی بنا پر تھی۔ اسلام شہادتوں اور آزمائشوں پر صبر انڈیلتا ہے۔ اب جو بے چینی ایک تحریک بن کر اٹھ رہی ہے اس میں عصبیت کار فرما ہے جو نہایت فکر انگیز ہے۔ عصبیت آگ بھڑکاتی، انتقام پر اکساتی، نفرتوں کی فصل بوتی ہے۔ خانہ جنگی کی طرف لے کر جاتی ہے۔ یہ جن بوتل سے باہر آ گیا تو پاکستان کا کیا بنے گا؟ سیاسی جماعتیں، سویلین سیٹ اپ اسے ہاتھ میں لے کر متحد و متفق ہو کر اس مسئلے کو حل کریں۔ ان کے جائز مطالبات پورے کریں۔ بارودی سرنگوں کی صفائی، ٹارگٹڈ قتل، ماورائے عدالت قتل اور اغوا کاری، نقیب اللہ پر انصاف فراہم نہ کیا جانا۔ یہ سب دہکتے پھوڑے ہیں ۔ غداری کا لیبل چسپاں کر کے قالین تلے سارا گند دھکیل دینے سے بات نہیں بنے گی۔ انصاف کی فراہمی سے زخم بھریں گے۔ یہی تحریک انصاف کا امتحان ہے۔ فوج کو مشرقی سرحد پر متوجہ ہونے دیں۔ مودی پھر آ گیا ہے۔ مغربی سرحد پر سویلین حکومت زخموں پر مرہم رکھے۔ بات بڑھنے نہ دے۔ یہ اسی کا کام ہے۔


ای پیپر