آئیں ڈالر کنٹرول کریں
01 جون 2019 2019-06-01

ملک پاکستان کو آج جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سرفہرست معاشی مسائل ہیں۔ ان معاشی مسائل کی سب سے بڑی وجہ ڈالر کی رسد اور طلب کے درمیان فرق ہے۔ حکومت پاکستان کو جب بیرونی قرض یا تیل کی مد میں ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں تو مارکیٹ سے ڈالر اچانک ختم ہو جاتا ہے اور حکومت کو مہنگے داموں ڈالر خریدنا پڑتا ہے۔ جس سے مارکیٹ میں بے چینی پیدا ہوتی ہے اور لالچ کا دھندا عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ منی ا یکسچینجرز پر ہزاروں کنٹرولز اور چیکس کے باوجود بھی حکومت منی ایسکسچینرز کو قابو کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ جب بھی ڈالر اوپر جاتا ہے توایف آئی اے اور سٹیٹ بینک منی ایکسچینجرز کے دفتروں پر چھاپے مارنے لگتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے پھر چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن کسی کو آج تک کرار واقعی سزا نہیں دی جا سکی۔ جس کی وجہ سے منی لانڈرنگ کرنے والوں اور ڈالر کو چھپانے والوں کے حوصلے پست ہونے کی بجائے بلند ہوتے ہیں اور اس کا خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔حکومتی عہدیداروں کا خیال ہے کہ اگر منی ایکسچینجرز ٹھیک ہو جائیں تو ڈالرز کے مسائل کبھی پیدا نہیں ہوں گے جبکہ منی ایکسچینجرز کا ماننا ہے کہ اگر سٹیٹ بینک کے عہدیدار پاکستان سے مخلص ہو جائیں تو ڈالر کو کنٹرول کرنا انتہائی آسان ہے۔ ان دعوں اور خیالات کو ادھورا چھوڑ دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہمیں اس مسئلے کے حل تک جانا ہے تا کہ ایک مستقل لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

آئیے ڈالر کنٹرول کرنے کے ممکنہ حل تلاش کرتے ہیں۔

پاکستان میں اگر کوئی ادارے مکمل چیکس اینڈ بیلنس کے ساتھ کام کر رہے ہیں تو وہ پاکستانی بینکس ہیں۔ جہاں ایک ایک پیسے کا حساب ہوتا ہے اور کس کے پاس کتنے ڈالرز یا روپے موجود ہیں اس کا پتہ لگانا ایک سیکنڈ میں ممکن ہوتا ہے۔ میری وزیراعظم عمران خان سے گزراش ہے کہ پاکستان میں ڈالرز سمیت تمام بیرونی کرنسیوں کی خریدو

فروخت کا اختیار منی ایسکچینجرز کی بجائے بینکس کو دے دیے جائیں۔ جو شخص ملک میں ڈالر لانا چاہتا ہے یا ملک سے باہر بھجوانا چاہتا ہے وہ بینک کے بغیر یہ ٹرانسزیکشن مکمل نہ کر سکے۔ پاکستان کے تمام منی ایکسچینجرز کو تین ماہ کے لیے بند کر دیا جائے۔ ان کے لائیسنس تین ماہ کے لیے معطل کر دیے جائیں۔ اگر تین ماہ میں خاطر خواہ نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں تو منی ایکسچینجرز سے ہمیشہ کے لیے معذرت کر لی جائے اور ڈالرز کو بینکوں کے ذریعے ہی کنٹرول کیا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ پالیسی کام کر جائے گی اور ڈالرز بھی حکومت پاکستان کے کنٹرول میں آ جائے گا۔

منی ایسکسچینجرز کو ختم کرنے کے بعد ملک میں اعلان کر دیا جائے کہ جس شخص یا ادارے کے پاس ڈالر ہیں وہ دو ماہ کے اندر کسی بھی بینک سے جا کر ایکسچنج کروا کر روپے حاصل کر سکتا ہے۔ اس سے کسی بھی طرح کے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی کہ یہ ڈالر کہاں سے آئے تھے۔ تین ماہ کے بعد جو شخص یا ادارہ بینکوں سے ڈالر ایکسچینج کروانے جائے گا اسے پورا حساب دینا ہو گا کہ یہ ڈالر کب اور کہاں سے آئے۔ وزیراعظم صاحب یہ فارمولہ کام کر جائے گا اور امید ہے کہ صرف چند دنوں میں ہی ملک پاکستان میں ڈالرز کی ریل پیل ہو جائے گی اور ڈالر 120 روپے تک آجائے گا۔

اس کے علاوہ حکومت پاکستان سے گزراش ہے کہ ڈالر کو مستحکم رکھنے کے لیے ایک ڈالر فنڈ قائم کیا جائے جس میں سے ضرورت کے وقت ڈالر نکالے اور ڈالے جا سکیں۔ ڈالر فنڈ میں کمی بیشی کا ڈالر کی قیمت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور مارکیٹ میں ڈالر ایک ہی قیمت پر ٹریڈ ہو سکے گا۔ ڈالر کی قیمت میں عدم استحکام کی ایک وجہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت بھی ہے۔ پاکستانی ایکسپورٹرز جو مال افغانستان میں بیچتے ہیں اس کی ادائیگی ڈالر میں نہیں کی جاتی بلکہ پاکستان میں ہی ان کے اکاونٹ میں ڈالر کے برابر یا تھوڑی زیادہ رقم پاکستانی روپوں میں ادا کر دی جاتی ہے۔ یا افغانستان سے افغان کرنسی کو پاکستان سمگل کر کے پاکستانی مارکیٹ سے ڈالر خریدا جاتا ہے جو کہ ایکسپورٹر کو کیش کی شکل میں ادا کر دیا جاتا ہے۔ زیادہ تر ایکسپورٹر اس ڈالر کو بینک میں جمع نہیں کرواتے بلکہ ایران اور دبئی منتقل کر دیتے ہیں۔ جس سے پاکستانی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب اور رسد میں واضع فرق آ جاتا ہے۔اس کے علاوہ پاک افغان بارڈر پر اکثر تجارت صرف کاغذوں کا پیٹ بھرنے کے لیے ہو رہی ہے۔ جو مال صرف کاغذی کاروائی میں افغانستان میں برآمد کیا جاتا ہے وہ بارڈر پار جاتا ہی نہیں دراصل پاکستان میں ہی بیچ دیا جاتا ہے اور بارڈر پر کاغذوں پر مہر لگ جاتی ہے۔ اس طرح پاکستان میں افغانستان سے تجارت کے ذریعے جو ڈالر آنا چاہیے وہ پاکستانی مارکیٹ میں نہیں آ پاتا جس سے پاکستان کو سالانہ تقریباً دو ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ افغانستان کے بعد ایران کے ساتھ تجارت بھی ان مسائل کا شکار ہو گئی ہے۔ اگر ہم نے برقت ان مسائل پر قابو نہ پایا تو دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہماری تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔جو کہ پاکستان کے لیے زہر قاتل ثابت ہوگی۔ حکومت پاکستان صرف ایک ایس آر او جاری کر کے اور بارڈر مینجمنٹ کے ذریعے ان ایشوز پر قابو پا سکتی ہے۔

خان صاحب یہ تجاویز قابل عمل ہیں لیکن ان پر عمل کرنے کے لیے حاکم وقت کے ساتھ اس کے مشیران کی نیک نیتی لازم ہے۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ذاتی دلچسپی لیں، ایک کمیٹی بنائیں جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کا ایک نمائندہ شامل ہو۔ روزانہ کی بنیاد پر کمیٹی کے کام کا جائزہ لیں اور جب تک ان تجاویز کو عملی جامہ نہ پہنا لیں آپ سکون سے نہ بیٹھیں۔ مجھے یقین ہے

کہ جس دن آپ نے ڈالر پر کامیابی سے قابو پالیا وہ دن آپ کی جیت کا نقطہ آغاز ہو گا۔ سرمایہ کار آپ پر اعتماد کرنے لگیں گے۔ سٹاک ایکسچینج والے اپنی بند مٹھیاں کھول دیں گے اور آپ کے دشمن آپ کے خلاف احتجاج کی وجہ ڈھونڈتے رہ جائیں گے۔ آئیں سب سے پہلے ڈالر کنٹرول کریں اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔


ای پیپر