مکس چاٹ
01 جون 2019 2019-06-01

دوستو، آج رمضان المبارک کا آخری اتوار یعنی آخری چھٹی کا روز ہے۔۔ آپ لوگ بھی سوچتے ہوں گے کہ پورے رمضان اپنی اوٹ پٹانگ باتیں ہمیں سناتا رہا لیکن ایک روز بھی یہ پوچھنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ چلو آج ہمارے ساتھ افطار کرلو۔۔ ایسے تمام خاموش ناقدین کے لئے آج ’’ مکس چاٹ ‘‘ پیش خدمت ہے، کراچی والوں کے دسترخوان افطار میں ’’ چاٹ ‘‘ لازمی موجود ہوتی ہے،یہ اہل کراچی کا فیوریٹ فوڈ آئٹم ہوتا ہے جو رمضان المبارک میں ہر دسترخوان کی زینت بنتا ہے، اسی لئے ہماری کوشش ہے کہ آپ کو اس چاٹ سے لطف اندوز کرائیں۔۔ کیوں کہ ہماری آپ سے یہ رمضان المبارک میں آخری ملاقات ہے جس کے بعد اگلی ملاقات ہوگی تو شاید اس وقت تک رمضان المبارک ہمارے درمیان نہ رہے۔۔دعا ہے کہ اللہ رب العزت آئندہ سال بھی ہم سب کو رمضان المبارک کے فیوض و برکات عطا فرمائے۔۔ چلیں اپنی اوٹ پٹانگ مکس چاٹ کی جانب چلتے ہیں۔۔

ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ ۔۔ایک جاپانی لڑکی میرے آفس میں کام کرتی تھی۔ ایک دن پوچھنے لگی ’’یہ جو تم رمضان کا پورا مہینہ صبح سے شام تک بھوکے پیاسے رہتے ہو، اس سے تمھیں کیا ملتا ہے؟‘‘ میں نے اسے بتایا کہ روزہ صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں ہے، بلکہ روزے کے دوران جھوٹ نہ بولنا، ایمان داری سے اپنا کام کرنا، پورا تولنا، انصاف کرنا وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام برے کاموں سے بھی بچنا ہوتا ہے‘‘۔۔یہ سن کر وہ برجستہ بولی۔۔ آپ کی تو موجیں ہیں، ہمیں تو سارا سال ان کاموں سے بچنا پڑتا ہے۔۔۔باباجی نے گزشتہ روز دعوت سحری میں ایک دلچسپ واقعہ سنایا،کہنے لگے۔۔ایک یمنی نے اپنی پہلی یمنی بیوی پر مراکش سے لا کر سوتن ڈال رکھی تھی۔معاشی حالات خراب ہوئے تو اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ رہا کہ ایک کو طلاق دے۔ کس کو دے، یہ بہت ہی مشکل مرحلہ تھا۔ ایک طرف عمر بھر کا ساتھ تھا تو دوسری طرف ثقافت اور حْسن کی معراج۔وہ سوچ رہا تھا کہ کوئی ایسا فیصلہ کرے جس سے کسی ایک پر ظلم نہ ہو۔۔چنانچہ اس نے امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔اس نے اپنی دونوں بیویوں کو پانچ پانچ ہزار ریال دیئے اور دو ہفتوں کیلئے کہیں چلا گیا۔واپسی پر اس نے دیکھا کہ اس کی پہلی یمنی بیوی نے دو ہفتوں میں اپنا گزارہ کر کے بھی پینتیس سو بچا رکھے تھے جبکہ مراکشی بیوی نے نہ صرف پانچ ہزار خرچ کر دیئے تھے بلکہ ادھر اْدھر سے لیکر خرچ کرنے کیلئے پانچ ہزار کا قرضہ بھی اٹھا رکھا تھا۔یمنی نے فیصلہ کیا کہ اس کی پہلی بیوی انتہائی کفایت اور سلیقہ شعار ہے، کسی نہ کسی طرح اپنا گزارہ اور خرچہ چلا لے گی۔ مگر یہ بیچاری مراکشی اس کے بغیر بھوکی مر جائے گی ، اس لیئے اس نے اپنی یمنی بیوی کو طلاق دیدی۔

ماسٹر صاحب بچے کو بڑی جان مار کے حساب سکھا رہے تھے۔۔ وہ ریاضی کے ٹیچر تھے۔۔ اْنھوں نے بچے کو اچھی طرح سمجھایا کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں۔مثال دیتے ہوئے انھوں نے اسے سمجھایا کہ ،یوں سمجھو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دیئے،پھر دو کبوتر دیئے تو تمھارے پاس کتنے کبوتر ہو گئے؟بچے نے اپنے ماتھے پر آئے سلکی بالوں کو ایک اداسے پیچھے کرتے ہوئے جواب دیا ۔۔ماسٹرجی،پانچ۔۔ماسٹر صاحب نے اسے دو پنسلیں دیں اور پوچھا کہ یہ کتنی ہیں؟ بچے نے جواب دیا کہ دو،پھر دو پنسلیں پکڑا کر پوچھا کہ اب کتنی ہوئیں؟بچے نے جواب دیا۔۔چار۔۔ماسٹر صاحب نے ایک لمبی سانس لی ،جو اْن کے اطمینان اور سکون کی کی علامت تھی۔۔پھر دوبارہ پوچھا،اچھا اب بتاؤ کہ فرض کرو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دئیے پھر دو کبوتر دیئے تو کْل کتنے ہو گئے؟۔۔بچے نے پھر جھٹ پٹ سے جواب دیا۔۔ماسٹرجی پانچ ہوگئے۔۔ماسٹر صاحب جو سوال کرنے کے بعد کرسی سیدھی کر کے بیٹھنے کی کوشش کر رہے تھے اس زور سے بدکے کہ کرسی سمیت گرتے گرتے بچے۔۔غصے سے بھڑک اٹھے۔۔ ابے نالائق، احمق، ناہنجار، جب پنسلیں دو اور دو چار ہوتی ہیں تو کبوتردواوردو پانچ کیوں ہوتے ہیں۔؟؟بچے ماسٹرجی کا غصہ نظراندازکیا اور مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔ ماسٹرجی ایک کبوتر میرے پاس پہلے سے ہی ہے۔۔واقعہ کی دُم:ہم مسلمان تو ہوگئے مگر کچھ کبوتر ہم نے اپنے آباؤاجداد کے سنبھال رکھے ہیں اور کچھ معاشرے سے لے لئے،اسی لئے جب قرآن کی تلاوت سنتے ہیں تو سبحان اللہ کہتے ہیں، جب حدیث نبویؐ سنتے ہیں تو درود کا تحفہ بھی بھیجتے ہیں مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو باپ ،دادا اور معاشرے والا کبوتر نکال لیتے ہیں۔۔۔

اب کچھ غیرسیاسی باتیں بھی ہوجائیں۔۔۔ ایک گاؤںمیں شیرآگیا جو روزایک بندے کو اٹھالے جاتا۔۔یہ معاملہ بادشاہ سلامت تک پہنچا،حاکم وقت نے اپنا وزیر گاؤں بھیجا ۔۔وزیر نے گاؤں پہنچ کر ایک بڑا سا لوہے کا پنجرہ بنوایا، جب لوہے کا پنجرہ تیار ہوگیا تو۔۔۔۔وزیر نے سب گاؤں والوں کو پنجرے میں بند کردیا تاکہ شیر کسی کو نہ کھائے ۔۔اب وزیرکا نام بھی بتانا پڑے گا کیا؟؟؟مشرف دور کو گزرے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔۔چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی تحریک کاایک فائدہ ضرور ہوا تھا اور وہ تھا کہ اس تحریک کے قائدین وکلا جو قبل ازیں ہزاروں یا زیادہ سے زیادہ لاکھوں میں فیس وصول کیا کرتے تھے افتخار چوہدری کی بحالی کے بعد یکا یک کروڑوں میں فیس وصول کرنے لگے تھے۔ اب کچھ دوسرے وکلا مجاہدین فیس اضافے کی ایسی ہی مہم کو عدلیہ کی عزت کرو تحریک کے نام پر شروع کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔خبردار رہنا ہوگا وقت کا پہیہ گھوم رہا ہے۔۔پھر مت کہیے گا کہ بتایانہیں تھا۔۔وقت کا پہیہ کس طرح گھومتا ہے۔۔جب عورت کی شادی ہوتی ہے تو وہ پورے دس سال تک اپنے ابو کی تعریف کرتے کرتے گزار دیتی ہے کہ یہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ ابو جی ہی کر رہے ہیں۔۔اس کے بعد ابا حضور بوڑھے ہو جاتے ہیں اور اس کے بھائی جوان ہو جاتے ہیں پھر دس سال ان کی تعریفوں کے پْل باندھے جاتے ہیںکہ یہ سب کچھ میرے بھائیوں کی محنت ہے کہ اس گھر کا چولہا جل رہا ہے۔۔۔پھر بھائی بھی اپنی بیویوں کو پیارے ہو جاتے ہیں۔۔تب تک اس عورت کے بیٹے جوان ہو جاتے ہیں۔۔۔پھر دس سال تک شوہر بیچارہ یہی سنتا رہتا ہے کہ یہ میرے بیٹوں نے تم کو سنبھالا ہوا ہے ۔۔اسی طرح ان بیٹوں کی بھی شادی ہو جاتی ہے اور وہ بھی بیگمات کو پیارے ہو جاتے ہیں ۔۔تب اس عورت کو کچھ بھی سہارا نظر نہیں آتا تو بس محبت سے بلکہ دل سے یہ کہتی ہے زندگی کی تمام بہاریں تو صرف شوہر ہی کے دم سے ہیں۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔گناہ کو پھیلانے کا ذریعہ بھی مت بنو۔۔کیوں کہ ہوسکتا ہے آپ تو توبہ کرلو ،پر جس کو آپ نے گناہ پر لگایا ہے وہ آپ کی آخرت کی تباہی کا سبب بن جائے۔۔


ای پیپر