اسلام اور خاندان
01 جون 2019 2019-06-01

انسانی معاشرہ کے اندر اکثر بے چینیاں اور اضطرابات گھریلو زندگی کے ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ دیکھتے دیکھتے پھر پورا معاشرہ عذاب بن جاتا ہے اور سوسائٹی جس وقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے ، عبادتیں اورریاضتیں بے لذت ہو جاتی ہیں اور قافلہ انسانیت بکھر جاتا ہے۔ رحمت دوعالم نے انسانوں کو جوڑنے کا کام کیا اور دین مبین کی وہ ٹھوس بنیادیںقائم کیں جن پر معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے بلکہ تعمیری تشکیل ہوتی ہے۔

رسول اکرم کی زندگی کے شب و روز کھلی کتاب کی طرح ہے۔ گھر ہو یا بازار،خوشی ہو یا غمی، خوشحالی ہو یا تنگ دستی، ہر حال میں آپ ہر مسلمان کےلئے اسوہ حسنہ ہیں۔ رسول اکرم کے فرمودات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اخلاق و کردار کا پتہ ا±س کے ا±س عمل سے چلتا ہے جو وہ اپنے گھر والوں سے روا رکھتا ہے۔سماجی زندگی میں ایک اہم مسئلہ مختلف مذاہب کے احترام اور ان کے درمیان بقائے باہم کا ہے۔ سیرت طیبہ میں اس بارے میں بہت واضح ہدایات موجود ہیں، میثاق مدینہ میں تمام مذاہب والوں کے لیے اپنے اپنے مذہب پر عمل کی آزادی کی ضمانت تاریخ میں محفوظ ہے، مذہبی اصولوں میںاپنی شناخت کے ساتھ باقی رہتے ہوئے دوسرے مذاہب اور ان کے ماننے والوں کا احترام اور اپنے اپنے مذہب پر عمل کی آزادی سیرت طیبہ نے دی ہے، اس نے بتایا کہ دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں ہے، اور مذہب کا فرق باہمی راواداری، باہمی تعاون، باہمی اشتراک، عمل اور سماجی ہم آہنگی میں ہرگزرکاوٹ نہیں بنتا ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اپنے اپنے مذہب پر عمل کی ضمانت کے ساتھ زیادہ مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ رسول اللہ کی سیرت و کردار سے اس معاملہ میں کافی روشنی ملتی ہے۔ رسول اللہ کی سماجی زندگی بڑی ہمہ گیر، وسیع اورہر زمانہ کی سماجی ضروریات میں رہنمائی رکھنے والی ہے، سیرت طیبہ کا موضوع ایسے نقوش روشن سے مالامال ہے جس کی روشنی سے ہم اپنے اپنے سماج کی کسی بھی نوع کی تاریکی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ سیرت طیبہ کا سماجی پہلو آج بھی ایک روشن قندیل ہے، ایک منبع فیض اور بہترین اسوءحسنہ ہے۔

٭ رسول اکرم نے ارشاد فرمایا:تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوںکے لئے سب سے بہترہے۔ اور میں اپنے گھر والوں کے لئے سب سے بہتر ہوں۔

٭ایک موقع پر رسول اکرم نے ارشاد فرمایا: "مومنین میں سے زیادہ کامل وہ ہے جو اخلاق میں سب سے زیادہ بہتر اور گھر والوں کے لئے سب سے زیادہ مہربان ہو"۔

٭ رسول اکرم اپنے گھر والوں سے حسن سلوک فرماتے، ا±ن کی دلجوئی کرتے، ا±ن کی باتیں سنتے۔ ا±ن کے اختلافات ختم فرماتے۔ نہ بیزار ہوتے نہ اکتاتے۔ گھر میں شگفتہ گفتگو فرماتے۔ کبھی غضبناک یا برہم نہ ہوتے۔ صبر و تحمل سے کام لیتے۔ اکثر چہرہ مبارک پر تبسم رہتا۔ دنیوی آلائش کے سازوسامان سے منع فرماتے۔آپ نے ارشاد فرمایا:اگر تمہیں اِس کی تمنا ہے کہ یہ چیزیں جنت میں ملیں تو دنیا میں اِن کے استعمال سے گریز کرو۔

٭ بچوں کی پرورش اور ا±ن سے محبت و شفقت میں رسول اکرم سب سے اچھی مثال ہیں۔ آل اولاد پر شفقت اور مہربانی کرنا تقوٰی، بندگی اور نبوت کے خلاف نہیں۔ آپ اپنی تمام بیٹیوں سے بے حد محبت رکھتے تھے۔ آپ اپنی بیٹی کی پیشانی چومتے ، ا±نھیں اپنی جگہ بٹھاتے، ا±ن کی آمد پر کھڑے ہو جاتے۔آپ فرماتے ہیں:یہ بچے تو اللہ کے باغ کے پھول ہیں۔آپ بچوںسے ہنسی مزاح بھی کرتے اور ا±ن کی دوڑ بھی لگواتے۔

٭ آپ ہمیشہ ازواج کے ساتھ نیک سلوک اور حسن معاشرت کی نصیحت کرتے اور فرماتے تھے تمام لوگوں میں اچھی اور بری دونوں عادتیں ہوتی ہیں،اب شوہر کو چاہئے کہ اپنی زوجہ کے صرف منفی پہلو کو ہی نظر میں نہ رکھے اور اس کی بنیاد پر اسے نہ چھوڑے۔

٭ حضرت محمد مصطفی اپنی دختر نیک اختر حضرت فاطمہ زہراؓ سے بے انتہامحبت کرتے تھے اور آپ کے ساتھ انتہائی عطوفت و مہربانی کے ساتھ پیش آتے تھے۔ آپ کی سیرت طیبہ میں انداز تربیت ہی یہی تھا کہ تاحیات اپنی بیٹی سے آپ کی رفتار و گفتار، عطوفت و مہربانی پر مبنی تھی۔حضور اکرم کی ایک زوجہ کہتی ہیںفاطمہؓرفتار و گفتار اور ظاہری شکل و شمائل میں رسول اکرم سے سب سے زیادہ مشابہ تھیں۔ باپ بیٹی کے درمیان رابطہ اتنا مستحکم تھا کہ جب بھی فاطمہؓ پیغمبر اکرم کے پاس آتی تھیں آپ اپنی جگہ سے کھڑے ہوجاتے تھے اور اپنی بیٹی کے ہاتھ اور سر کا بوسہ لیا کرتے تھے، انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے اور جب بھی پیغمبر رحمت فاطمہؓکے گھر تشریف لے جاتے تھے،فاطمہؓ اپنی جگہ سے کھڑی ہوجاتی تھیں، اپنے بابا کوچومتی تھیں اور انہیںاپنی جگہ پر بٹھاتی تھیں۔

٭ آپ گھر میں آرام بھی فرماتے، اہل خانہ پر توجہ بھی دیتے۔ اور اللہ کی عبادت بھی کرتے ،قرآن مجید کی ٹھہر ٹھہر کر تلاوت فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے برابر کا سلوک فرماتے۔

پیغمبر خدا کی اسوة حسنہ کو پڑھنے کے بعد کم از کم اتنا اندازہ ہوتاہے کہ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں تھا کہ جس کی جھلک آپ کے کردار سے عیاں نہ ہوتی ہو۔اقبال کے اس شعر کی مانندکہ

کی محمد سے وفا تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

کہ پیغمبر خدا کو ماننا تو جزو ایمان ہے لیکن ساتھ ساتھ اگر ہم ان کی وفا کا دم بھی بھرتے ہیں تو ان کی ماننا بھی ضروری ہے۔ اور ابتدا ہمیشہ گھر سے ہوتی ہے۔


ای پیپر