ماہ رمضان تُو ہم سے جدا ہے!
01 جون 2019 2019-06-01

رمضان المبارک کا مہینہ بھی ہم سے جدا ہونے والا ہے ، اس مہینے کی ویسے تو بے شمار برکتیں ہیں، مگر اِس کی سب سے بڑی رحمت اور برکت یہ ہے اللہ پاک نے قرآن پاک کا نزول اس پاک اور مبارک مہینے میں فرمایا، یوں اللہ پاک نے اپنی طرف سے اِس مہینے کو ایک خاص نسبت عطا فرماکر اِس کو مسلمانوں کے لیے نجات کا ایسا ذریعہ بنادیا اگر کوئی مسلمان اس مبارک مہینے میں تمام روزے رکھے اور صرف بھوکا پیاسا نہ رہے بلکہ روزے کی اصل روح کے مطابق اپنے کردار اور عمل کو تبدیل کرلے اُس کے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیئے جاتے ہیں، سو وہ بڑا ہی بدقسمت ہے جو اس رعایت سے فائدہ نہیں اُٹھاتا، رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا، دوسرا مغفرت کا اور تیسرا عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے ، اللہ پاک نے نبی پاک سے ارشاد فرمایا ”اگر مجھے آپ کی اُمت کو جہنم کی آگ میں جلانا ہوتا تو رمضان کا مہینہ کبھی نہ بناتا “ .... جب رمضان المبارک کا چاند نظر آتا آپ ہمیشہ فرماتے “ یہ چاند خیروبرکت کا ہے ، یہ چاند خیروبرکت کا ہے ، میں اُس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے (چاند) پیدا کیا “....حضرت جبرائیلؑ نے دعا فرمائی ” ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کو رمضان کا مہینہ ملے اور وہ اپنی بخشش نہ کرواسکے“۔....اس پر آپ نے فرمایا ”آمین“.... جبرائیل ؑ کی یہ دعا اور اِس پر آپ کا آمین کہنے سے رمضان المبارک کی اہمیت اور طاقت کا ہمیں اچھی طرح اندازہ ہوجانا چاہیے، .... اسی طرح آپ نے فرمایا ” رمضان کی جب پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین کو بند کردیا جاتا ہے اور مضبوط باندھ دیا جاتا ہے ، اور سرکش جنوں کو بھی بند کردیا جاتا ہے ، اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا۔ اور ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے ” اے نیکی کے طالب آگے بڑھ، آگے بڑھ کہ یہ نیکی کا وقت ہے ۔ اور اے بدی کے چاہنے والے بدی سے رُک جا اور اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کرلے، کیونکہ یہ وقت گناہوں سے توبہ کا ہے اور اُن کو چھوڑنے کا ہے اور خُدا کے لیے ہے ، اور بہت سے بندوں کو اللہ پاک معاف فرماتے ہیں، دوزخ کی آگ سے بحرمت اسِ ماہ مبارک کے اور یہ آزاد کرنا رمضان المبارک کی ہررات میں ہے ....حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے آپ کا فرمان ہے ”میری اُمت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبیؑ کو عطا نہیں کی گئیں۔ پہلی چیز یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات آتی ہے تو اللہ پاک اُن کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اللہ پاک رحمت کی نظر فرماتا ہے اسے کبھی عذات نہ دے گا “ .... دوسری چیز یہ ہے کہ شام کے وقت اُن کے منہ کی بُو (جو بھوک پیاس کی وجہ سے ہوتی ہے ) اللہ پاک کے نزدیک مُشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے ۔ .... تیسری چیز یہ کہ فرشتے ہررات اوردن اُن کے مغفرت کی دعائیں فرماتے رہتے ہیں، چوتھی چیز یہ کہ اللہ پاک جنت کو حکم دیتے ہیں ”میرے نیک بندوں کے لیے مزین ہو جا عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھراور کرم میں راحت پائیں گے ....اور پانچویں چیز یہ کہ جب رمضان المبارک کی آخری رات ہوتی ہے اللہ پاک سب کی مغفرت فرما دیتا ہے “....اِسی طرح حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے ” جنت کا ایک دروازہ جِس کا نام ”ریان“ ہے جس سے قیامت کے روز صرف روزہ دار گزریں گے اِس کے علاوہ وہاں سے کوئی نہیں گزرے گا .... سو رمضان المبارک کی اتنی فضیلتیں ہیں ہم سب صرف اس ایک مہینے کو ان فضیلتوں کے قابل بنالیں، اپنے دِل اور دماغ صاف کرکے اللہ اور اُس کے رسول کے احکامات کی روشنی میں ایک نیا سفر شروع کردیں ہماری سب خطائیں، ہمارے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، اور کِس کو یہ خبر ہے یہ موقع اُ سے دوبارہ ملتا ہے یا نہیں ؟ یہ مبارک مہینہ پھر اُس کی زندگی میں آتا ہے یا نہیں؟سو وہ بڑا ہی بدقسمت انسان ہے جو اِس مہینے کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم رہ جائے۔ اِس مہینے کی اپنی خوشبوئیں ہیں، اِس کی اپنی رونقیں ہیں، اپنی گہما گہمی ہے ۔ یہ روشنیوں کا مہینہ ہے ، کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے اِس مہینے کی راتیں بھی دنوں میں بدل جاتی ہیں، اب جبکہ یہ مہینہ، یہ رونقیں ختم ہونے والی ہیں، دل عجیب اُداسیوں کا شکار ہے جیسے کوئی مہمان، کوئی بہت ہی خوبصورت مہمان آپ کے گھر آیا ہو اور وہ جب رخصت ہونے لگے تو دل اُداس ہوجاتا ہے ، دل ویران ہو جاتا ہے ، اب ایسی ہی کیفیت ہے ، شاعر نے اِس ”رخصتی“ کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے ”الوداع الوداع الوداع ہے ماہ رمضان تو ہم سے جدا ہے ....دِن تیرے آنے سے معتبر تھے۔ نور میں ڈوبے شام وسحر تھے۔ تیرے جانے سے دِل رورہا ہے ، ماہ رمضان تُو ہم سے جدا ہے ۔ .... سحری، افطاری، تراویح ....اور اذانِ نماز وتسبیح، یہ سماں نوری تجھ سے مِلا ہے .... ماہ رمضان تو ہم سے جدا ہے ....رحمتوں کا تُو پیغام لایا ....برکتوں کا امکان لایا.... رُتبہ اعلیٰ وافضل تیرا ہے .... ماہ رمضان تُوہم سے جدا ہے ۔.... جام رحمت کے تُونے پلائے....گُل مرادوں کے تُونے کھِلائے.... تُو جدا اب ہم سے ہورہا ہے .... ماہ رمضان تو ہم سے جدا ہے .... ہم کو بے کل تُو پائے گا تب تک .... گِر رہے ہیں ہم اگلے برس تک .... پھر مِلیں گے جو حکم خُدا ہے .... ماہ رمضان تو ہم سے جدا ہے .... چل دیا ہے تُو جو رب کی جانب، اہل ایماں کے پُرنم ہیں قالب.... قلب عشرت بھی غم سے بھرا ہے .... ماہ رمضان تو ہم سب جُدا ہے “ ....(قارئین آج رات عمرہ کی سعادت کے لیے روانہ ہورہا ہوں۔ دعا فرمائیں اللہ سفر مبارک روآسان فرمائے اور آنسوﺅں اور عقیدتوں کے جو حقیر نذرانے میں اُس کی خدمت میں پیش کروں وہ اُنہیں قبول فرما لے۔ میری دعا ہے اللہ میرے ملک کو محفوظ رکھے۔ اِ سے اِس کے دُشمنوں کے شر سے چاہے یہ اندرونی دشمن ہیں یا بیرونی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ فرمادے۔ اِس ملک کے حکمرانوں اور ”اصل حکمرانوں“ کو عقل عطا فرمائے، اور ہم سب کو اپنے پسندیدہ راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے )!!


ای پیپر