ناصر الملک نے پاکستان کے 7 ویں نگران وزیر اعظم کا حلف اٹھا لیا
01 جون 2018 (23:10) 2018-06-01

اسلام آباد: سابق چیف جسٹس (ر) ناصر الملک نے پاکستان کے 7ویں نگراں وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ،صدر پاکستان ممنون حسین نے نگراں وزیر اعظم جسٹس(ر) ناصر الملک سے ان کے عہدے کا حلف لیا ، تقریب حلف برداری میں صدر ممنون حسین، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، دیگر مسلح افواج کے افسران، چیئرمین سینیٹ، وفاقی کابینہ کے ارکان، چاروں صوبوں کے گورنر اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔


سابق چیف جسٹس (ر) ناصر الملک نے پاکستان کے 7ویں نگراں وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے ۔نگراں وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی ،تقریب حلف برداری کا آغاز تلاوت کلام پاکستان سے ہوا، جس کے بعد صدر پاکستان ممنون حسین نے نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک سے ان کے عہدے کا حلف لیا ۔ایوان صدر میں تقریب حلف برداری میں صدر مملک ممنون حسین، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، دیگر مسلح افواج کے افسران، چیئرمین سینیٹ، وفاقی کابینہ کے ارکان، چاروں صوبوں کے گورنر اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔


نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصرالملک اپنی کابینہ کی تشکیل کا کام مکمل کریں گے۔اس سے قبل سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم ہا ؤ س میں تینوں مسلح افواج کے دستوں سے گاڈ آف آنر پیش کیا جب کہ شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم ہا ؤ س سے روانگی پر اپنے عملے سے بھی الوداعی ملاقاتیں کیں۔نگراں وزیراعظم جسٹس (ر)ناصرالملک پاکستان کے 22ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے فرائض انجام دے چکے ہیں، وہ 6 جولائی 2014 سے 16 اگست 2015 تک اس منصب پر فائز رہے۔جسٹس (ر)ناصرالملک 17 اگست 1950 کو سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہوئے، ایبٹ آباد پبلک اسکول سے میٹرک اور ایڈورڈز کالج پشاور سے گریجویشن کیا۔1977 میں لندن سے بار ایٹ لا کرنے کے بعد پشاور میں وکالت شروع کی، 1981 میں پشاور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری اور 1991 اور 1993 میں صدر منتخب ہوئے۔جسٹس(ر) ناصر الملک 4 جون 1994 کو پشاور ہائی کورٹ کے جج بنے اور 31 مئی 2004 کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے پر فائز ہوئے اور پھر 5 اپریل 2005 کو انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔


جسٹس ناصرالملک نے نہ صرف 3 نومبر 2007 کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا بلکہ وہ 3 نومبر کی ایمرجنسی کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے والے سات رکنی بینچ میں بھی شامل تھے۔پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھاکر وہ معزول قرار پائے اور ستمبر 2008 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دوبارہ حلف اٹھا کر جج کے منصب پر بحال ہوئے۔جسٹس ناصر الملک پی سی او، این آر او اور اٹھارویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچوں کا حصہ رہے۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سزا سنانے والے بنچ کے سربراہ بھی وہی تھے۔


ای پیپر