اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی سے کیوں محروم رکھا جاتا ہے؟
01 جون 2018 2018-06-01

اب جبکہ جناب ناصر الملک نگران وزیراعظم کا حلف اٹھا چکے ہیں۔ نگران وزیر اعظم کا مینڈیٹ صرف اتنا ہے کہ انہوں نے 60 روز میں شفاف اور غیر جانبدارانہ اور شفافیت کے حامل انتخابات کے انعقاد کو یقینی بناتے ہوئے ہر پاکستانی کو ووٹ کے حق کے استعمال کی راہ ہموار کرنا اور الیکشن کمیشن کے اشتراک سے ہر پاکستانی شہری کے حق رائے دہی کو یقینی بنانا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کی دونوں نام نہاد جمہوری حکومتوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو ہر عام انتخابات کے موقع پر ووٹ کا حق استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی دونوں حکومتوں نے اس سلسلے میں سنگدلانہ تغافل کا مظاہرہ کیا اور حیلوں بہانوں بلکہ درست الفاظ میں عذر ہائے لنگ کا سہارا لے کر بیرون ملک آباد پاکستانی شہریوں کے حق کو بیدردی سے پامال کیا۔یادش بخیر! مسلم لیگ کے موجودہ صدر شہباز شریف نے 4برس قبل لندن میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی اوورسیز نہیں بلکہ وطن عزیز کے عظیم سفیر ہیں اور قومی معیشت کی مضبوطی میں کردار ادا کرنے والے عظیم پاکستانی ہیں‘۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان عظیم پاکستانیوں اور پاکستان کے عظیم سفیروں کو ووٹ کا حق دلانے کے ان کی جماعت نے کیا ایک بھی ٹھوس اور سنجید ہ اقدام کیا۔ کیا 6 ملین پاکستانیوں کو حق رائے دہی سے محروم رکھنے والے انتخابی عمل کی شفافیت پر چشم بند یقین کیا جاسکتا ہے ؟۔۔۔وہ انتخابات کبھی شفاف اور مکمل نہیں ہوسکتے،جن میں اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی سے محروم رکھا جائے۔نگران وزیر اعظم یاد رکھیں کہ ایک پاکستانی کو بھی اس کے حق سے محروم رکھنا آئین شکنی ہے۔قند مکرر کے طور پر انہیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ وہ جس عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں ، اسی عزت مآب عدالت کے ایک سابق چیف جسٹس 2013ء میں قرار دے چکے ہیں کہ ’’ووٹ دینا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا آئینی حق ہے‘‘۔ اگر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو2018ء کے انتخابات یہ حق نہیں دیا جاتا تو میں ازروئے آئین علیٰ رؤس الاشہاد یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ الیکشن کمیشن آئینی مقتضیات سے صرف نظر کے جرم عظیم کا ارتکاب کرے گا اور یہ انتخابات بھی ادھورے اور نا مکمل تصور ہوں گے۔

ریکارڈ کی درستگی کے لیے اس امر کا ذکر از بس ضروری ہے کہ 8اپریل 2013ء کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ ’غیرمصدقہ کمپیوٹر نظام سے ووٹ کا حق دینا انتخابی عمل کے لئے تباہ کن ہو سکتا ہے‘۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ’’ابتدائی طور پر اسے محدود پیمانے پر شروع کیا جائے اور اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی بھی کی جائے‘‘۔ یاد رہے کہ 5 مارچ 2013ء کو عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیئے تھے کہ ’’ووٹ دینا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا آئینی حق ہے‘‘۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ’’حکومت معاملہ پارلیمنٹ میں لے جائے اور پارلیمنٹ اس کے لئے قانون سازی کرتے ہوئے کوئی قابل عمل حل نکالے‘‘۔ تاہم 5 مارچ 2013ء کو اس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت کو یہ بتایا تھا کہ ’’ آئندہ انتخابات میں سمندر پار پاکستانیوں کے حق رائے دہی کے استعمال کو یقینی بنانا انتہائی مشکل کام ہے، الیکشن سے پہلے تارکین وطن کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا، یہ کام اگلی پارلیمنٹ کرے گی‘‘۔یہ کیسا تواردِ خیال ہے کہ ٹھیک 44 دن بعد الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کے مؤقف کی بازگشت 8 اپریل کو بھی سنائی دی۔ یہ امر ذہن نشین رہے کہ وزارت آئی ٹی کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق استعمال کرنے سے متعلق سافٹ ویئر عدالتِ عظمیٰ کو باقاعدہ آپریٹ کر کے دکھایا تھا اور چیف جسٹس آف پاکستان نے اس سافٹ ویئر کی تیاری میں کردار ادا کرنے والوں کی تحسین بھی کی تھی۔ تب الیکشن کمیشن نے اس سافٹ ویئر کو کمپیوٹر کے غیرمصدقہ نظام سے تعبیر نہیں کیا تھا۔ سیٹلائٹ میڈیا کے اس دور میں جبکہ دنیا ایک چھوٹا سا گاؤں بن چکی ہے، الیکشن کمیشن کا زمینی فاصلے کی بنیاد

پر2013ء کے انتخابات میں دنیا بھر کے 15 ممالک میں مقیم الیکشن کمیشن کی اپنی رپورٹ کے مطابق 45 لاکھ ووٹرز کو حق رائے دہی سے محروم کرنا اور عدالت کے روبرو آئندہ انتخابات میں ان کو ووٹ کی سہولت دینے کی مخالفت ناقابلِ فہم ہے۔ اب ان ووٹرز کی تعدد کہیں بڑھ چکی ہے۔عدالت عظمیٰ قرار دے چکی ہے کہ ’’ووٹ دینا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا آئینی حق ہے، حکومت معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر جائے اور پارلیمنٹ اس کے لئے قانون سازی کرتے ہوئے کوئی قابل عمل حل نکالے‘‘۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لئے معاملے پر متعلقہ حکام خصوصاً وزیر قانون سے بات کریں۔حقائق سے آگاہ ہر شہری جانتا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے2012ء کو الیکشن کے انعقاد سے 14ماہ قبل الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ ایسا نظام وضع کرے کہ ہر رجسٹرڈ ووٹر اپنا ووٹ ڈال سکے۔ اصل مسئلہ تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینا ہے۔ یہ ان کا حق ہے اسے کسی بھی حکومت یا ادارے کو بھیک کی طرح دینے سے اجتناب برتنا چاہئے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں تارکین وطن کو ووٹ کا حق دلانے کے لئے درخواست پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ایک شہری نے دائر کی تھی۔

یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حب الوطنی ہر شک و شبہ سے بالا ہے۔ وطن عزیز کو جب بھی کسی ناگہانی ارضی و سماوی آفت کا سامنا کرنا پڑا یا کسی آڑے وقت میں ان کی مدد کی ضرورت محسوس ہوئی تو دیارِ غیر میں سرد و گرم موسموں کی چیرہ دستیوں کا سامنا کر کے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے روزگار کمانے والوں نے اپنی جمع پونجی نچھاور کرنے میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں کی۔ سچ تو یہ ہے کہ تارکین وطن کی اکثریت وطن واپسی کے لئے مضطرب ہے۔ ان کا اضطراب و سوز دیدنی ہے لیکن ہمارے حکمران طبقات کے تغافل، تساہل، بدعنوانیوں، بے ضابطگیوں، بے قاعدگیوں، قانون شکنیوں اور ماورائے آئین کرتوتوں نے داخلی و خارجی سطح پر ملکی و قومی وقار کو داغدار بنانے کا مذموم عمل جس بھیانک انداز میں جاری رکھا ، وہ ان تارکین وطن کی وطن واپسی کے راستے میں رکاوٹ بننے کا موجب ہے۔ اگر یہاں قانون کی حکمرانی کا چلن ہو اور عوام کے منتخب نمائندے اپنے فرائض دیانتداری سے ادا کریں توچار عشروں سے مسخ شدہ صورت حال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور اپنی بہترین اہلیتوں، قابلیتوں اور صلاحیتوں سے امریکی ریاستوں اور مغربی ممالک کی ترقی میں کردار ادا کرنے والے یہ شہری تعمیر وطن اور استحکام وطن کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے لئے بے پناہ محبت رکھنے والے ان تارکین وطن کو موجودہ اور ماضی کے حکمرانوں نے کس قانون، قاعدے اور ضابطے کے تحت ووٹ دینے کے حق سے تادم تحریر محروم رکھا اور مزیدمحروم رکھنا چاہتے ہیں۔ ارباب حکومت جن مشکلات کو ان کے حق رائے دہی استعمال کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنا کر پیش کر تے رہے وہ ایسی نہیں تھیں کہ انہیں کل ختم ہونے والی پارلیمنٹ قانون سازی کر کے دور نہ کر سکتی۔ مشاہدہ اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ اپنے مفاد کی تکمیل ،مراعات کی تحصیل اور گروہی مقاصد کو قانونی بنانے کے لئے حکمران سیاسی جماعتیں اور ان کے ارکان پارلیمان مختصر ترین وقت میں قانون سازی کر لیتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے متعدد مرتبہ حکمران جماعت نے آئینی مقتضیات کی بھی پروا نہیں کی۔ یہ الیکشن کمیشن کا فرض منصبی تھا کہ تب وہ بیرون ملک مقیم چوالیس لاکھ پاکستانیوں کے حق رائے دہی کے استعمال کے لئے پارلیمنٹ، وزارت قانون اور وزارت خارجہ کے ساتھ مل کر طریق کار طے کرتا۔ یہ موجودہ الیکشن کمیشن کا سنگدلانہ تغافل ہے کہ مزید پانچ سال گزرنے کے باوجود وہ اوورسیز پاکستانیوں کے حق رائے دہی کے لیے کوئی طریق کار وضع نہیں کرسکا، سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اس حوالے سے محض بیانات کے اجراء پر اکتفا کیا۔ جانے وہ تارکین وطن کے حق رائے دہی کے لیے قانون سازی کو کس خدشے اور خوف کے تحت ٹالتے رہے۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ، تقریباً 6ملین سے زائد ووٹوں کا معاملہ ہے۔ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ 2008ء سے 2013ء اور 2013ء سے 2018ء تک کے حکمرانوں کو یہ خدشہ لاحق رہا ہے کہ اوور سیز پاکستانیوں کے ووٹرز کی اکثریت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو اپنی ووٹ کا حقیقی حقدار جانتی ہے۔ اس لیے وہ انہیں حق رائے دہی دینے کے حق میں نہیں تھے۔

یہ کیسا تضاد ہے کہ ایک طرف تو الیکشن کمیشن تمام پاکستانیوں کو ووٹ دینے کی ترغیب دیتے ہوئے بتاتا ہے کہ ہر پاکستانی کا ووٹ قیمتی ہے اور ہم ووٹرز کو حق رائے دہی کے استعمال کے لئے تمام ممکنہ سہولیات فراہم کریں گے۔ دوسری جانب اسی الیکشن کمیشن کے سامنے جب سمندر پار پاکستانیوں کے حق رائے دہی کے استعمال کا معاملہ آتا ہے تو وہ واشگاف الفاظ میں معذرت کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس رویے پر تارکین وطن یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا الیکشن کمیشن کو ان کے محب وطن، باشعور اور ذمہ دار شہری ہونے پر کوئی شک ہے۔ یقیناًالیکشن کمیشن کی اس معذرت سے دیار غیر میں مقیم سردوگرم موسموں کے جوروجفا کو برداشت کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کے لئے گرانقدر خدمات انجام دینے والے پاکستانیوں کی تشفی نہیں ہوتی ۔مقام افسوس ہے کہ2013 ء کے بعد قائم ہونے والی ن لیگ کی حکومت اپنا 5سالہ آئینی دورانیہ 31 مئی 2018ء کو بخیر و خوبی مکمل کر نے کے باوجود یہ انتہائی ضروری آئینی تقاضا پورا نہیں کر سکی ۔ حکومت تو حکومت ’’مقدس‘‘ پارلیمنٹ نے بھی اس طویل عرصہ میں نصف کروڑ کے قریب پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے حق کے لیے سرے سے قانون سازی نہیں کی۔ تحریک انصاف نے اس سلسلے میں صدا بلند کی بھی تو پارلیمنٹ نامی نقارخانے میں اسے طوطی کی آواز سے زیادہ اہمیت نہ دی گئی۔ یاد رہے کہ عدالت عظمیٰ قرار دے چکی ہے کہ ’’ووٹ دینا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا آئینی حق ہے‘‘۔ عوامی مطالبہ ہے 2018ء کے انتخابات تارکین وطن کے ووٹوں کے بغیر ہرگز نہیں ہونے چاہئیں۔


ای پیپر