ماہنامہ ’’ہلال‘‘۔۔۔ ایک خوبصورت اور ثقہ مجلہ !
01 جون 2018 2018-06-01

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR ) کے زیرِ اہتمام چھپنے والے مسلح افواج کے خوبصورت اور دیدہ زیب مجلے ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘ سے میرا تعارف اُس وقت سے ہے جب یہ روزنامہ کے طور پر چھپا کرتا تھا۔ پچھلی صدی کے پچاس کے عشرے کے آخری برسوں کی بات ہے میں اُس وقت آٹھویں / نویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ ہمارے گاؤں میں ایک صاحب حوالدار غلام محمد رہا کرتے تھے اُن کا آبائی تعلق کسی دور اُفتادہ گاؤں سے تھا لیکن انہوں نے ہمارے گاؤں میں شادی کی ہوئی تھی اور فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد یہی آ کر آباد ہو گئے تھے۔ اُن کی اہلیہ جو ایک مہاجر خاندان سے تعلق رکھتی تھی انتہائی نیک نام خاتون تھیں اور بچیوں کو قرآن پاک پڑھایا کرتی تھیں۔ اُن کے ایک صاحبزادے علی محمد فرشی نظم کے معروف شاعر اور ادبی شخصیت ہیں جبکہ دوسرے صاحبزادے یعقوب صاحب گاؤں میں سرسید ماڈل سکول کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ چلاتے ہیں۔ حوالدار غلام محمد مرحوم کی دوکان تھی اور اُن کے نام روزنامہ ’’ ہلال ‘‘ آیا کرتا تھا ۔ میں سکول سے چھٹی کرنے کے بعد اکثر روزنامہ ’’ ہلال ‘‘کا مطالعہ کرنے کے لیے اُن کی دکان پر پہنچ جاتا تھا۔ سچی بات ہے مجھ میں مطالعے کا بالخصوص اخبارات و جرائد کے مطالعے کا جو کچھ شوق پیدا ہوا اُس میں روزنامہ ’’ ہلال ‘‘کے اُس دور کے مطالعے کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ کم و بیش چھ عشرے ہونے کو ہیں چار اخباری صفحات پر چھپنے والا روزنامہ ’’ ہلال ‘‘اب ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘ بن چکا ہے جو اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہوتا ہے۔اس دوران اس نے کیا کیا نشیب و فراز دیکھے، کیسے روزنامہ سے ہفت روزہ اور پھر ماہنامہ بنا اور اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہونے لگا، مسلح افواج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کا ترجمان ہونے کے ساتھ کیسے اس نے اپنا معیار اور اپنی ثقہ حیثیت برقرار رکھی اور کون کونسی معروف علمی ، ادبی ، صحافتی اور عسکری شخصیات اس کے ادارتی عملے کی رُکن رہیں۔ میں اس بارے میں زیادہ تو نہیں جانتا لیکن کچھ نقش اور بھولی بسری یادیں میرے ذہن کے نہاں خانے میں موجود ہیں۔

راولپنڈی میں جی ایچ کیو کی شمالی حد بندی کے ساتھ گزرنے والی ہلال روڈ پر آئی ایس پی آر کی سادہ سی عمارت میں روزنامہ ہلال کا دفتر ہوا کرتا تھا اب نہ تو ہلال روڈ عام گزر گاہ رہی ہے اور نہ ہی آئی ایس پی آر کی عمارت بھی کوئی عام سی عمارت رہی ہے ۔ساٹھ کی دہائی کے آخری برسوں اور ستر اور اسی کی دہائیوں میں میں اپنی رہائش گاہ دھمیال روڈ 22 نمبر چونگی سے اپنی جائے ملازمت سی بی سرسید سکول و کالج مال روڈ راولپنڈی (موجود ایف جی سر سید سیکنڈری سکول راولپنڈی) جانے کے لیے سائیکل پر اکثر یہیں سے گزر کر جایا کرتا تھا۔ سرسید سکول میں تدریس کے دوران مختلف اوقات میں چار بھائی میرے شاگرد رہے ۔ ان میں بڑے عزیز اکرام فوجی فاؤنڈیشن کے شعبہ فنانس میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ اُن سے چھوٹے ڈاکٹر ندیم

اکرام ایسوسی ایٹ پروفیسر اور بینظیر بھٹو ہسپتال مری روڈ راولپنڈی کے شعبہ پیتھالوجی کے سربراہ ہیں۔ ان سے چھوٹے ثاقب عمران فوج میں کمیشن کیلئے پی ایم اے لانگ کورس کے لیے منتخب ہوئے لیکن خود ہی فراغت لے کر آ گئے ، اب ایک بینک میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ ان سے چھوٹے علی اکرام سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں ذمہ دار حیثیت کے مالک ہیں۔ یہ چاروں بھائی ماشاء اللہ ایک سے ایک بڑھ کر ذہین، فرمانبردار ، جانثار ، وفا شعار اور صحیح معنوں میں ایسی شخصیات ہیں جن کے بارے میں اُن کا گھرانہ ہی نہیں میں بحیثیت اُن کے اُستاد فخر کر سکتا ہوں۔ باقی تین سے تو کم لیکن ڈاکٹر ندیم اکرام سے اکثر واسطہ رہتا ہے۔ وفاداری ، جانثاری اور خدمت گزاری کی اعلیٰ روایات ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر ندیم اکرام ایک ماہر پیٹھالوجسٹ ہونے کے ساتھ ایک اعلیٰ پائے کے قلمکار بھی ہیں۔ عرصے سے راولپنڈی میڈیکل کالج یونیورسٹی کے مجلے کے ایڈیٹر چلے آ رہے ہیں۔ ان بھائیوں کا تذکرہ کرنے کا میرا مقصد اصل میں ’’ ہلال ‘‘ کے مرحوم ایڈیٹر جناب اکرام قمر کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا جو پچاس ، ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں ’’ ہلال ‘‘ کے ایڈیٹر رہے ۔ درمیانے قد کے اکرام قمر مرحوم اسلامیہ کالج لاہور سے فارغ التحصیل تھے اُن کا شمار مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن کے بانی اراکین میں ہوتا ہے اور انہوں نے تحریکِ پاکستان میں جناب حمید نظامی مرحوم ، مولانا عبدالستار نیازی مرحوم، جناب جسٹس ذکی الدین پال مرحوم اور چیف جسٹس جناب شیخ انوالحق مرحوم کے شانہ بشانہ تحریکِ پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مجھے مرحوم اکرام قمر کے بیٹوں کا اُستاد ہونے اور دھمیال روڈ پر قریب ہی رہائش رکھنے کی بنا پر اُن سے نیاز مندی حاصل تھی بڑی ہی مضبوط اور حق گو شخصیت کے مالک تھے۔ اُس دور میں جناب صدیق سالک جو برگیڈئیر کے عہدے تک پہنچے اور17 اگست 1988 کو صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے ساتھ C-130 طیارے کے حادثے کا نشانہ بنے ۔ کیپٹن صولت رضا جو بعد میں برگیڈئیر کے عہدے تک پہنچے اور لیفٹیننٹ اشفاق حسین جو کرنل کے عہدے تک پہنچے مختلف اوقات میں ’’ ہلال ‘‘ کے ادارتی عملے میں اُن کے رفیقِ کار اور ساتھی رہے۔

’’ ہلال ‘‘ کے سابقہ مدیران میں ممتاز اقبال ملک کا نام بھی میرے ذہن کے نہاں خانے میں موجود ہے۔ ممتاز اقبال ملک مشہور صحافی ، سینئیر اخبار نویس اور ایڈیٹر جناب مجیب الرحمن شامی کے ہفتہ روزہ مجلے ’’زندگی‘‘ کے نائب مدیران میں شامل تھے وہاں سے اُن کا تقرر بطور مدیر (اُردو )ہفتہ روزہ ’’ ہلال ‘‘ ہوا اور اُن کے دور میں بھی بلاشبہ ’’ ہلال ‘‘ نے بڑی ترقی کی۔ اس وقت ’’ ہلال ‘‘ (اُردو اور انگریزی ) اعلیٰ معیار کا پرچہ بن چکا ہے ۔ میرے سامنے ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘ کے مئی 2018 کے اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں شمارے رکھے ہوئے ہیں سفید آف سیٹ پیپر پر چھپے ’’ ماہنامہ ہلال ‘‘ کے یہ خوبصورت ، دیدہ زیب اور پُر کشش شمارے اپنے اعلیٰ معیارِ طباعت کی بنا پر ہی نہیں صوری اور معنوی اعتبار سے بھی کسی بھی بین الاقوامی معیار کے جریدے کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ ہر دو زبانوں کے ایڈیشنز میں قومی و عالمی ایشوز کے بارے میں نامور قلمکاروں اور تجزیہ نگاروں کے مضامین اور تحقیقی مقالے، معیشت اور ٹیکنالوجی کے بارے میں تازہ ترین معلومات اور اعدادو شمار پر مبنی تحریریں، مسلح افواج کی سرگرمیوں کے حوالے سے تصویری رپورٹیں اور خبریں اور سب سے بڑھ کر فوج اور قوم کے جذبات کو اُبھارنے اور قائم رکھنے والی زندہ جاوید تحریریں شامل ہیں۔ یہاں میں ان تحریروں کے اقتباسات یا لکھنے والے قلمکاروں کے حوالے دینے کی بجائے ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘ اُردو کے ایڈیٹر جناب یوسف عالمگیرین سے اپنی’’ بزرگانہ نیازی مندی‘‘کا تذکرہ کرنا چاہوں گا ۔ یوسف اور عالمگیرین دونوں الفاظ مل کر ایسا خوبصورت مرکب بناتے ہیں کہ جس کو پڑھ سن کر دل میں ایک خوشگوار تاثر اُبھرتا ہے۔ جناب یوسف عالمگیرین نثر نگار ہونے کے ساتھ اُردو اور پنجابی زبانوں کے خوبصورت شاعر بھی ہیں۔ حال ہی میں اُن کی پنجابی شاعری کا مجموعہ ’’سفنیں‘‘ چھپ کر آیا ہے۔ غالباً تین ساڑھے تین سال پہلے کی بات ہے محترم جبار مرزا جو ایک خوبصورت شاعر ، ادیب، مؤرخ ، قلمکار، کالم نگار اور ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘ کے مستقل قلمی معاون ہیں اور جناب یوسف عالمگیرین سے میری ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں میں نے اُن کو ستمبر 2007 میں چھپنے والے اُن کے ایک کالم کا حوالہ دیا جو محترم اشفاق احمد مرحوم کے بارے میں تھا ۔ یوسف عالمگیرین نے بڑی خوشگوار حیرت کا اظہار کیا کہ اتنا پرانا چھپا ہوا کالم مجھے ابھی تک یاد ہے۔ سچی بات ہے ایسی نفیس شخصیت جس کا ظاہر و باطن ایک ہو، جس کا چہرہ ہمیشہ کھلا ہوا دیکھائی دے ، جو ہمیشہ خلوص ، محبت اور نیازمندی کا اظہار کرتا نظر آئے ایسی شخصیت کا اس دور میں ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔میں اُن کا ہی ممنون نہیں ہوں بلکہ ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘ کے پیٹرن انچیف اور چیف ایڈیٹر سمیت پورے ادارتی بورڈ کا ممنون ہوں کے مجھے ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘اُردو اور انگلش دونوں زبانوں کے شمارے اعزازی طور پر مل رہے ہیں۔ ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘ اُردو کے قلمی معاونین میں جناب جبار مرزا کے ساتھ پروفیسر فتح محمد ملک ، فرخ سہیل گوئندی، یاسر پیزادہ، حسینہ معین اور ملک فدا الرحمن کے نام شامل ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘ میں لکھنے والے کس پائے کی شخصیات ہیں اور کس معیار کی تحریریں ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘ میں شائع ہوتی ہیں۔ ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘کے انگریزی ایڈیشن میں مستقل لکھنے والوں میں سابق سفیر ، یونیورسٹیوں کے بین الاقوامی علوم کے شعبوں کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ او ردوسری پائے کی علمی اور ادبی شخصیات موجود ہیں۔ بلاشبہ ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک ایسا خوبصورت اور ثقہ مجلہ ہے جو بین الاقوامی معیار کے عالمی سطح پر شائع ہونے والے مجلوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔


ای پیپر