کالا باغ ڈیم وقت کی ضرورت
01 جون 2018 2018-06-01

وطن عزیز میں پانی کی کمی اب ڈھکی چھپی بات نہیں وطن عزیز کی نہروں میں پانی نہیں رہا ازلی دشمن ملک بھارت نے تمام دریاؤں پر بند باندھ کر پاکستان آنے والا سارا پانی روک لیا ہے نہریں خشک ہوچکی ہیں اسی طرح انڈیا کے ایما پر افغانستان نے دریائے کابل پر بارہ ڈیم بنا کر پاکستان کی طرف پانی کی ترسیل روک دی ہے شریف حکومت نے اپنے صنعتی کاروبار کی خاطر کلبھوشن کے معاملے سے لیکر پانی کی بندش تک اپنی زبان کو بند رکھا ۔
بہاولنگر سے شائع ہونے والے روز نامہ داور نے اپنے اداریہ میں کسانوں کے مسائل کو اجاگر کیا اخبار لکھتا ہے کہ کاشتکاروں کی وجہ سے ملک زرعی اجناس با لخصوص غلہ اور اناج سے استفادہ کرتا ہے ملکی خوشحالی کا انحصار زراعت اور زرعی پیداوار پر ہے کاشتکاروں کو ہر شعبہ میں نظر انداز کیا گیا پانی کی اہمیت زراعت میں مسلمہ ہے لیکن نہایت تکلیف دہ امر ہے کہ پاکستان میں دستیاب صرف 33فیصد پانی استعمال کیا جارہا ہے اور 66فیصد ضائع ہو رہا ہے کالا باغ ڈیم جیسے آبی ذخائر نہ ہونے سے سارا پانی سمندر کی نذر ہوکر بلاجواز ضائع ہو جاتا ہے کالا باغ ڈیم تکنیکی منصوبہ تھا ماہرین متفق ہیں اس کو متنازعہ منصوبہ اور سیاسی مسلہ بنا کر زراعت اور کاشتکاروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے کالا باغ ڈیم کے ذریعے 6لاکھ 30ہزار کیوسک پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے جو پاکستان کی زرعی ضروریات کیلئے نہایت اہم کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ 3500میگا واٹ سستی ترین بجلی حاصل کرکے لوڈ شیڈنگ سے نجات ممکن ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام کاشتکار متحد ہوکر حکومت کو کالا باغ ڈیم کے قیام پر مجبور کریں۔
لیہ سے شائع ہونے والے اخبار ایگرو واچ نے اپنی اشاعت میں لکھا ہے کہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی طرف سے سرائیکی وسیب کے حصے کے پانی میں کمی کرنے سے ملتان اور ڈیرہ غازیخان کی نہری زونوں کی چار بڑی نہروں میں پانی کی کمی ساڑھے دس ہزار کیوسک ہو گئی ہے پانی کی کمی سے گنا ،سبزیات اور آم کے باغات سمیت فصلات بڑی طرح متاثر ہو رہی ہیں پانی کی کمی سے ڈیرہ غازی خان کے علاقوں میں پینے کا پانی بھی نایاب ہو گیا ڈیرہ غازیخان کینال میں پانی کی کمی سے سینکڑوں دیہات میں پینے کے پانی کیلئے مشکلات پیدا ہو گئی ہیں اور ارسا کی طرف سے پانی کی فراہمی میں کمی سے گنا کے علاقوں میں نہروں کی وارہ بندی شیڈول بھی درہم برہم ہو گیا ہے محکمہ انہار ڈیرہ غازیخان زون کے زیر انتظام ڈیرہ غازیخان کینال ڈی جی خان کینال میں پانی کی کمی 3700کیوسک تک ڈیرہ غازیخان کینال کو 9000کیوسک ڈیمانڈ کے بدلے صرف 1300کیوسک پانی دیا جارہا ہے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے سینکڑوں دیہات میں انسانوں اور جانوروں کے پینے کا پانی کا بھی واحد ذریعہ یہی نہر ہے ان علاقوں میں جو اس نہر کے پانی سے سیراب ہوتے ہیں میں زیر زمین پانی کڑوا ہے اسی طرح مظفر گڑھ کینال میں پانی کی کمی 7300کیوسک سے بھی تجاوز کر گئی ہے مظفر گڑھ کینال کیلئے پانی کی ڈیمانڈ 9000کیوسک ہے اور اسے صرف 1300کیوسک پانی دیا جارہا ہے مظفر گڑھ میں آم ،انار کے باغات پانی نہ ملنے سے متاثر ہورہے ہیں سبزیات اور چارہ جات کی فصلیں بھی سوکھنے لگی ہیں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ٹیوب ویل بھی بند ہیں ہر طرف سے پانی کی صدائیں آرہی ہیں محکمہ انہار ملتان زون کے زیر انتظام شجاع آباد برانچ جوکہ ششماہی نہر ہے بہت کم پانی دیا جاتا ہے ملتان برانچ بند کر دی گئی ہے صوبائی زراعت آبپاشی کے ذرائع کے مطابق ارسا کی طرف سے پانی کی کمی خطر ناک صورت حال اختیار کر گئی ہے اور نہروں کی وارہ بندی شیڈول کے تحت چلانا بھی مشکل ہو گیاہے وزارت آب پاشی کے کنسلٹ ایم ایچ صدیقی کی طرف سے حویلی کینال سرکل کے ایس ای ریاض مجید کو خصوصی تار بھی بھیجی گئی جس میں بتایا گیا کہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ارسا کی طرف سے پنجاب کے حصے میں پانی کی کٹوتی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے نہروں میں پانی کی کمی ہے اخبار لکھتا ہے کہ پینے کے پانی کیلئے سرائیکی وسیب کے بہت سے علاقوں کا انحصار نہری پانی پر ہے نہریں خشک ہونے سے جہاں یہ علاقے کربلا کا نقشہ پیش کر رہے ہیں وہاں دوسری طرف سرائیکی وسیب کی معیشت کا واحد سہارا گندم کی کاشت بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہے محکمہ زراعت کے ماہرین گندم کی کاشت کو اتنا حساس قرار دیتے ہیں اگر کاشت ایک دن لیٹ ہو جائے تو اس کی فی ایکڑ پیداوار کے حساب سے کم ہو جاتی ہے جس سے صرف سرائیکی وسیب کا کاشتکار ہی نہیں ملکی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے پچھیتی کاشت سے آنے والی فصل بھی متاثر ہوئی ہے لیکن حکمرانو ں کو ان تمام باتوں کا علم ہونے کے باوجود وہ وسیب دشمنی کے نظریئے پر کاربند نظر آتے ہیں کالا باغ ڈیم پر ملک دشمنی کی انتہا کی گئی اور اسے بنانے میں تساہل سے کام لیا گیا جبکہ پانی ضائع ہوکر سمندر میں گر جاتا ہے اگر منگلا کمانڈ کا فالتو پانی ہیڈ تریموں بھیج دیا جائے تو کم از کم ملتان زون کی نہریں چل سکتی ہیں اور ملتان زون جو نصف سرائیکی صوبہ ہے میں آمدہ فصل کاشت ہو جائے تو اس کا ملک و قوم کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے مگر اارسا میں وسیب دشمن ہر سال منگلا کا پانی ضائع کر دیتے ہیں لیکن سرائیکی وسیب کی طرف آنے نہیں دیتے 1991میں میاں نواز شریف نے پانی کا جو معاہدہ کیا اس میں بھی اُنہوں نے نہ تو اپر پنجاب کا پانی کم کیا اور نہ کسی اور صوبے کا انہوں نے سرائیکی وسیب کی گردن پر چھری چلا کر سندھ کو خوش کر دیا اب پنجاب کے افسران کہتے ہیں کہ تمہارا حق سندھ کھا رہا ہے اس سے لڑو حالانکہ لڑانے کی سازش ہے بالکل اسی طرح جس طرح کہ ملتان بہاول پور کو لڑایا جارہا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ پانی کے مسئلے پر اس وقت تک ظلم ہوتا رہے گا جب تک سرائیکی صوبہ نہ ہوگا اور ارسا میں سرائیکی صوبے کا نمائندہ نہ ہوگا ۔
خوشاب سے شائع ہونے والے اخبار خیام نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ یوں توہمارے معاشرہ میں عوامی مسائل کے ساتھ ہرشہری الجھا ہوا ہے مگرواپڈا صارفین کو اپنے مسائل سے جان چھڑانا نہ صرف مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے واپڈ اایک ایسا سفیدہاتھی ہے جس نے شہریوں کی زندگی اجیرن اور وطن عزیز میں صنعتی ڈھانچہ کو جام کرکے معاشی طور پر ملک کو تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیاہے اور واپڈا کا نظام جب سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی دسترس میں آیاہے ان کمپنیوں نے کہیں میپکو،کہیں کیپکو اور کہیں فیسکو ولیسکو کی شکل میں عوام پر زائد بلنگ کا عذاب نازل کیاہے اس سے ایک عام شہری بلبلا اٹھاہے یقیناًجومسائل دیگر شہروں میں ہوں گے وہ مسائل جنوبی پنجاب کے شہروں کے صارفین کے بھی حصہ میں آئے ہیں۔ جہاں یہ شکایات عام ہیں کہ صارفین کو بغیرریڈنگ کئے گھربیٹھے میٹر ریڈراپنی مرضی سے زائدیونٹ ڈال کر بل بھیج رہے ہیں اور جب ایک عام صارف اصل یونٹس سے زائد موصول ہونے والا بل ادا نہیں کرسکتا تو واپڈا کے اہلکار دوسرے روز اس کا میٹر کاٹ ڈالتے ہیں کیونکہ بل پر لکھا ہوتاہے کہ’’ بل ادا نہ کرنے کی صورت میں کنکشن کاٹ دیا جائے گا ‘‘اس طرح وہ صارف اس تحریر کی بھینٹ چڑھ جاتاہے اس کے علاوہ کنکشن کاٹنے والا اہلکار اس مظلوم صارف سے اکثراوقات منتیں الگ کراتاہے اورچند سو روپے لے کر کنکشن کاٹنے کے عمل کو کچھ روز کیلئے مؤخر بھی کردیتاہے۔


ای پیپر