جمہوری حکومت کے ذمہ داران کا بنیادی فرض
01 جون 2018 2018-06-01

شنید ہے کہ پٹرول کی قیمتیں ایک بار پھر مہنگی ہو رہی ہیں۔اللہ کرے ایسا نہ ہو۔ یہ محض افواہ ہی ہو لیکن اس کا کیا کیا جائے کے اس حوالے سے خبریں گردش کر رہی ہیں۔میرا مخلصانہ مشروہ ہے کہ ن لیگ کی حکومت جاتے جاتے عوام کو پٹرول بم کا نشانہ بنانے سے گریز کرے ۔ اگر اس کے بر عکس ہوا تو اس سے عوامی سطح پر اچھا پیغام نہیں جائے گا۔ موجودہ حکومت کے اقتصادی ذمہ داران کو غربت اور مہنگائی کے مارے اور ستائے ہوئے ہوئے عوام کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے ہوئیپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے وقت چھوٹے صارفین کی مشکلات کا خیال رکھنا چاہیے۔ یاد رہے کہ یہ قیمتیں خواہ آہستہ آہستہ بڑھائی جائیں یا یکدم ان میں اضافہ کیا جائے، ہر دو صورتوں میں یہ صارفین اور عام شہریوں کے ذہنوں میں حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے حوالے سے شکوک و شبہات کو جنم دینے کا باعث بنیں گی۔ اس سے انکا ر نہیں کیا جا سکتا کہ پٹرول کی مہنگائی ’’صرف ایک شے ‘‘ کی مہنگائی

نہیں ہوتی بلکہ اس کے باعث کئی دیگر اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ نا گزیر ہو جاتا ہے۔یہ گرانی صارفین اور مارکیٹ پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اربابِ حکومت یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کے واضح اثرات دیگر اشیائے ضروریہ کے قیمتوں میں عدم استحکام کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کرنے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھنے والے وزارت خزانہ اور وزارت پیٹرولیم کے بزرجمہران برسوں سے ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت وطن عزیز میں جہاں ایک طرف عدم استحکام پھیلانے کی’’ غیر محسوس کوشش‘‘ کر تے رہے وہاں دوسری جانب وہ عوام کے ’’معاشی قتل عام‘‘ کے جرم کا بھی بالواسطہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ۔کیا حکمرانوں کو علم نہیں کہ مہنگائی اور گرانی کی وجہ سے عام آدمی پہلے ہی زندہ درگو رہے۔

عام پاکستانی کو انتہائی افسوس اور دکھ سے لکھنا اور کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی مملکت اور معاشرے کے صارفین کو اُن کے عالمی حقوق سے ارباب حکومت نے ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہمیشہ بے خبر رکھا۔ ہمارے ہاں صارفین کے حقوق کا سرے سے احترام نہیں کیا گیا۔ صارفین چونکہ اپنے حقوق سے آگاہ نہیں ہیں اس لئے وہ اپنے اس بنیادی حق تک سے بھی بے خبر ہیں کہ صارفین کے حقوق کا عالمی چارٹر اُنہیں اس امر کی ضمانت فراہم کرتا ہے کہ بحیثیت کسی بھی ریاست کے شہری کے اُنہیں غذا ، کپڑا ، چھت ، تعلیم اور صحت و صفائی کی تمام بنیادی سہولیات میسر ہوں گی۔ یہ شکوہ زبان زدِ عام ہے کہ کسی بھی سرکاری اور غیر سرکاری محکمہ نے صارفین کو اُن کے حقوق دلانے کیلئے کبھی یکسوئی سے کوشش نہیں کی۔یہی وجہ ہے کہ اشیائے ضروریہ کی گرانی اور کمیابی کے باعث پاکستان کے صارفین 21 ویں صدی کے ترقی یافتہ دور میں بھی فرلانگوں لمبی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے ہو کر آٹے کا ایک تھیلہ خریدنے میں کامیاب ہوجائیں تو وہ اسے ’’سرکارِ والا تبار ‘‘ کا ’’احسانِ عظیم ‘‘ تصور کرتے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ترقی یافتہ صدی میں بھی ہمارے ہاں صارفین کو طویل ترین قطاروں میں کس مجبوری کے تحت کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ گھنٹوں کی خواری کے بعد اُ نہیں ملنے والی اشیاء نہ صرف یہ کہ مہنگی ہوتی ہیں بلکہ غیر معیاری بھی ہوتی ہیں۔ ان مہنگی اور غیر معیاری اشیاء کے استعمال کے بعد صارفین کو گوں ناگوں خطرناک اور مہلک بیماریوں میں مبتلا ہونا پڑتا ہے۔

سابق حکومت کے دور میں کنزیومر کورٹس کے قیام کا اعلان ببانگ دہل کیا گیا تھا لیکن یہ کورٹس بھی صارفین کو انصاف دلانے میں ناکام رہیں ۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ وطن عزیز میں کنزیومر کورٹس حقیقی فعالیت کا مظاہرہ نہیں کر سکیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق :’’صارفین کو پریشان کرنے اور ان کے حقوق کو پامال کرنیوالے کبھی بھی جیلوں میں نہیں گئے وہ ممالک جو آج ترقی کی معراج پر ہیں ان میں بسنے والے صارفین اپنے حقوق و فرائض سے بخوبی آشنا ہیں لیکن ہمارے صارفین کی بد قسمتی یہ ہے کہ انہیں اپنے حقوق ملنا تو درکار انہیں اس بات کی بھی آگاہی نہیں کہ ان کے حقوق ہیں کیا؟ حکومتی ادارے صارفین کی شنوائی اور داد رسی کرنے کے بجائے حقوق پامال کرنے والوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، علاؤ الدین خلجی کے بعد اقوام متحدہ نے 1985ء میں صارفین کے حقوق کی حفاظت کے کچھ معیار مقرر کئے اور صارفین کو انکے حقوق سے آگاہ کیا لیکن ہمارے ہاں تو ایک بھی ایسا ادارہ نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں صارفین کے حقوق کیلئے صرف ایک دو تنظیمیں قدرے سر گرم عمل ہیں۔اُن میں ایک تنظیم اسلام آباد میں سر گرم عمل ہے اور دوسری کمیونٹی سالیڈیریٹی سسٹم اپنے محدود وسائل میں مقدور بھر کوشاں ہے کہ صارفین کو اُن کے حقوق سے آگاہ کیا جا سکے۔ صارفین جب اپنے حقوق سے آگاہ ہوں گے تو گرانی ، اشیائے ضروریہ کی قلت ، ملاوٹ اور دیگر مشکلات پر قابو پایا جا سکے گا۔ صارفین وطن عزیز کی سب سے بڑی عوامی قوت ہیں۔اُنہیں اپنی اس قوت کا احساس دلا کر منظم کر دیا جائے تو کسی دور میں بھی اُنہیں اُن مسائل اور مصائب کا سامنا نہ کرنا پڑے جو اُنہیں موجودہ حالات میں کرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اسلام میں صارفین کے حقوق کو پامال کرنا بھی انسانی حقوق میں آتا ہے۔ این جی اوز اس سلسلے میں بہت کچھ کر سکتی ہیں جبکہ اس سلسلے میں قانون سازی کی ضرورت ہے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ حکمران عوامی فلاح و بہبود کیلئے پٹرول، گیس ، بجلی ، آٹا ، چینی ، گھی،دالوں،سبزیوں، پھلوں اور مرغی کے گوشت کے نرخوں میں کمی لانے کیلئے رمضان کریم میں بھی مربوط اور مؤثر اقدامات نہیں کرسکے؟ فلاحی جمہوری حکومت کے ذمہ داران کا بنیادی فرض تو اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرکے عام آدمی کو اطمینان اور آسودگی دینا ہوتا ہے نہ کہ اسے گرانی ، پریشانی، بے چینی اور دکھوں کی بند گلی میں دھکیلنا۔


ای پیپر