آپ کا تعاون، خوشی کا ضامن
01 جون 2018 2018-06-01

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ جس نے ایک انسان کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی‘‘۔ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ فنڈز دینے والے ممالک میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔اسکا ثبوت وقتا فوقتا ہم دیکھتے بھی رہتے ہیں۔ہمارے ملک میں چند ایسے ادارے بڑے نمایاں طور پر کام کر رہے ہیں ۔

ایدھی فاونڈیشن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔عبد الستار ایدھی (مرحوم) کی شخصیت کا جب بھی تذکرہ کیا جائے گا انکے فلاحی کاموں کا بھی تذکرہ لامحلہ ہو گیا ۔ عبد الستار ایدھی کے اس ادارے کے تحت ان گنٹ پروگرام چل رہے ہیں۔ یتیم بچوں کی کفالت سے لیکر غریب اور نادر بچیوں کی شادی ،مستحق افراد کی مالی امداد اور صحت کے شعبہ میں گراں قدر خدمات سرفہرست ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ نومولود بچوں کی کفالت کے لئے بھی انہوں نے پرگرام شروع کیا تھا ۔حکومت پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک نے ان کی انسانیت کے لئے خدمات کے اعزاز میں کئی عبد الستار ایدھی کوالقابات اور تمغہ جات سے بھی نواز رکھا تھا ۔ انکی وفات کے بعد اس مشن کو انکی بیگم بلقیس اور بیٹا فیصل عبد الستار ایدھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اخوت فاونڈیشن ایک ایسے مشن کو لے کر چل رہی ہے جو غریبوں کے لئے روشنی کی کرن ہے ۔ایسے افراد جو پسماندگی کا شکار ہیں ، وہ اپنا اور اپنے خاندان والوں کا پیٹ پالنا چاہتے ہیں تو یہ این جی او انہیں قرض کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے ۔اس وقت اخوت فاونڈیشن کی بے شمار برانچز پاکستان کے مختلف شہروں میں کام کر رہی ہیں۔

الخدمت فاؤنڈیشن 1990ء سے بطور رجسٹرڈاین جی اوز کے کام کررہی ہے۔اس کے کاموں کی تفصیل لمبی چوڑی ہے۔قدرتی آفات سے لے کر،تعلیم تعلیم بچوں کی کفالت، تعلیم، صاف پانی کے پراجیکٹس، مواخات پروگرام اور دیگر متعددسرگرمیوں میں پمپس الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکارنمایاں کارکردگی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔بلاشبہ پاکستانی آرمی کے بعدالخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں رضاکاروں کا سب سے بڑانیٹ ورک رکھنے والا ادارہ ہے۔اس کے 150شہروں میں دفاتر موجود ہیں۔تازہ رپورٹ 2017 کے مطابق الخدمت فاؤنڈیشن نیایک سال کے دوران 257,700افراد کی امداد کی۔382ملین روپے اس حوالے سے خرچ ہو ئے ۔غریب اور بے سہارا افراد کے لئے 10000شلٹر ہوم کام کر رہے ہیں۔ صحت کے حوالے سے 6.7ملین افراد کو طبی امداد پہنچائی گئی ۔صحت عامہ کے شعبے میں اس وقت ملک بھر میں الخدمت فاؤنڈیشن کے15میٹرنٹی ہومز، 19جنرل ہسپتال، 153کلینک اور 456ڈسپنسریاں، 100ڈائیگونسٹک سینٹرز، 5بلڈبنک اور 298ایمبولینس خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ 20456بچوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کیا گیا ۔16چلڈرن پروٹیکشن سنٹر کام کر رہے ہیں۔30اسکلڈ ڈولپمنٹ پروگرامز پر کام ہو رہا ہے ۔2017میں تعلیم کے مختلف پروجیکٹس پر 163ملین روپے خرچ کئے گئے ۔الفلاح سکالر شپ سکیم کے تحت گزشتہ برس میڈیکل، انجینئرنگ، ایڈمنسٹریشن، کامرس سمیت دیگر شعبوں میں 1113طلبہ وطالبات کو وظائف دیئے۔ پاکستان بھر کے 60سکول اس وقت کام کررہے ہیں جبکہ نادر اور مستحق بچوں میں مفت اسٹیشنری۔ یونیفارم اورسکول بیگ تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اس وقت6کروڑ30لاکھ آبادی کو صاف پانی میسر نہیں۔الخدمت فاؤنڈیشن اس حوالے سے بھی گراں قدرخدمات سرنجام دے رہی ہے۔ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے دور درازعلاقوں میں کنویں کھدوانے،جدید واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب،کمیونٹی ہینڈپمپ، گریوٹی فلوواٹر سکیم اور کاریزکے ذریعے صاف صاف پانی کی فراہمی کی جارہی ہے۔یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 42لاکھ سے زائد بچے یتیم ہیں۔الخدمت فاؤنڈیشن ’’آرفن فیملی سپورٹ پروگرام‘‘کے ذریعے 6000سے زائد بچوں کی کفالت کی جارہی ہے۔ایک بچے کی کفالت پر3000روپے ماہانہ اور36ہزارروپے سالانہ خرچ آتا ہے۔محنت کشوں کوبلاسود قرض حسنہ فراہم کیاجارہا ہے تاکہ وہ سمال بزنس پلان کے تحت کاروبار کا آغاز کرسکیں۔اب تک4400افراد میں5.120ملین روپے کے بلاسودقرض فراہم کیاجاچکاہے۔گزشتہ سال42مساجد کی تعمیر کی گئیں۔رواں سال 4500قیدیوں مختلف اقسام کی معاونت فراہم کی گئی۔رواں سال ہزاروں افراد میں1138وہیل چیئرز تقسیم کی گئیں۔اس رمضان میں 4500خاندانوں کو راشن پیکیج جبکہ پچاس ہزار خاندانوں کو ونٹر پیکیج دیاگیا تھا۔ متاثرین اور آئی ڈی پیز سمیت ملک بھر میں5000مستحق خاندانوں میں قربانی کاگوشت تقسیم کیا گیا۔

غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کا شمار بھی پاکستان کے مستند فلاحی اداروں میں ہوتاہے۔یہ گزشتہ 23سال سے پاکستان کے پسماندہ دیہاتوں میں علم کی شمع روشن کئے ہوئے ہے۔اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں کے پسماندہ دیہاتوں میں غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے700سکول کام کررہے ہیں۔جہاں کم وسیلہ خاندانوں کے ایک لاکھ سے زائد بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔جن میں4500طلبہ وطالبات یتیم ومستحق ہیں۔غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ سپیشل بچوں کی بحالی کے لئے خصوصی تعلیمی پروگرام، یتیم ومستحق بچوں کی تعلیمی سرپرستی، کتب، کاپیاں، یونیفارم اور سٹیشنری آئٹمزسمیت تعلیمی ضروریات کی تمام اشیاء مہیا کی جاتی ہیں۔ایک بچے کے سالانہ تعلیمی اخراجات 12ہزار روپے جبکہ سپیشل بچے کی تعلیمی کفالت20ہزار روپے سالانہ ہے۔ ٹرسٹ کو سب سے بڑا چیلنج یتیم بچوں کی کفالت کے حوالے سے درپیش رہتا ہے ۔

شوکت خانم ہسپتال کا 29 دسمبر 1994 سے کینسر کے مریضوں کا علاج کر رہا ہے۔یہ ہسپتال 195بیڈوں پر مشتمل ہے ۔2017میں 243663مریضوں نے آوٹ ڈور کو وزٹ کیا ۔جن میں سے 12054افراد کو علاج کی غرض سے ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ہسپتال کے اسٹاف کی تعداد 2866 ہے۔لاہور کے علاوہ پشاور اور کراچی میں شوکت خانم ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ۔ ۔ہر سال اربوں روپے خرچ کر کے مہلک بیماری میں مبتلا افراد کو زندگی کی ایک نئی امید دیلاتا ہے۔


ای پیپر