تین بنیادی تنخواہیں۔۔۔ماہ صیام اور ہم
01 جون 2018 2018-06-01

ایک گلوکار ایک بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا۔ اپنے حاضر ہونے کا مدعا پیش کیا۔ بادشاہ سلامت نے دربار لگایا اور محفل موسیقی برپا ہو گئی۔ گلوکار نے راگ الاپا اور گانا شروع کیا۔ گلوکار نے جونہی گیت کی استھائی پڑھی۔ بادشاہ سلامت خوش ہوئے اور ساتھ ہی ہیرے اور جواہرات کا اعلان صادر فرمایا۔ گو یا بہت خوش ہوا اور گیت کا انترا نہایت خوش گلوئی سے ادا کیا۔ بادشاہ سلامت مزید خوش ہوا اور اشرفیاں بطور انعام کا اعلان کر دیا۔ گلوکار کی تو خوشی سے باچھیں کھل گئیں اور اس نے دوسرا انترا موسیقی کے پورے رموزواسرار کے ساتھ پیش کیا۔ بادشاہ سلامت اور خوش ہوئے اور سونے کا تاج بطور انعام اعلان فرمادیا۔ ادھر گلوکار بھی آپے سے باہر ہو گیا۔ اور گیت کا تیسرا انترہ نہایت خوش الحانی کے ساتھ پیش کیا۔ ادھر بادشاہ سلامت اس قدر مستی اور سر شاری کے عالم میں آ گیا اور جاگیر بطور

انعام کے طور پر گلوکار کو دینے کا اعلان کر دیا۔ گلوکار انتہائی خوش ہوا اور خوشی کے عالم میں گھر کا رستہ لیا۔ گھر پہنچ کر بیوی اور بچوں کو مژدہ سنایا کہ بادشاہ سلامت کے دربار میں گیت پیش کرنے پر عزت افزائی بھی ہوئی اور بادشاہ نے بے شمار انعامات کا اعلان بھی صادر فرمایا۔ اس خوشی میں چند دن گزر گئے مگر انعامات گلوکار تک نہ پہنچے۔ گلوکار کافی حیران او ر پریشانی کے عالم میں بادشاہ سلامت کے دربار کا رخ کیا۔ بادشاہ کو اپنے آنے کا مقصد بتایا اور انعامات کے اعلانات کی طرف اشارہ کیا۔ بادشاہ سلامت نے نہایت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ جواب دیا کہ آپ نے ہمارے کانوں کو خوش کیا اور جواب میں ہم نے آپ کے کانوں کو خوش کر دیا۔ بات برابر ہو گئی۔ وفاقی حکومت نے اپنے ملازمین کو تین بنیادی تنخواہیں ایڈوانس دینے کا اعلان کر دیا۔ خبر تو آگ کی طرح پھیل گئی۔ وفاقی ملازمین پھولے نہیں سما رہے تھے۔ اور صوبائی ملازمین اپنا ساڑ پھوک رہے تھے۔ چند دن بعد اچانک خبر بجلی کی طرح آ کر گری کہ وفاقی ملازمین کو ایسا کچھ نہیں دیا جا رہا ہے۔ صوبائی ملازمین تو خوش ہو گئے مگر وفاقی ملازمین کو پسو پڑ گئے۔ اصل میں وفاقی ملازمین وفاق کو اپنی خوش الحانی سے زیر کرتے رہے اور جاتے ہوئے وفاق نے بھی خوش الحانی سے ہی انکو جواب آں غزل صادر فرما دیا ۔ بقول تجمل کلیم

بھورا نئیں احسان لپٹا میں زندگی دا

جنے ساہ اوس دے اونے موڑے وی

چلیں یہ معاملہ وفاق اور وفاقی ملازمین کا تھا۔ وہ جانے اور وہ جانے کے مترادف والی بات تھی۔ ماہ صیام کو شروع ہوئے آج سترھواں روز ہے۔ گرمی بھی اپنے جوبن سے بھی بڑھ کر ہے۔ چرند پرند اور انسان سب شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ کبھی پانی دستیاب نہیں ہے اور کہیں بجلی نہ ہونے کے برابر ہے۔ خاص کر کراچی اس بے سروسامانی کی حالت میں زیادہ ہے۔ مجھے کل کچھ پھل خریدنا تھے میں نے یونہی بازار کا رخ کیا تو میں نے دیکھا ایک نحیف اور ادھیڑ عمر بزرگ ایک ریڑھی کو ایسے ہانک رہا تھا جیسے وہ ریڑھی اسے سہارا دے رہی ہو۔ وہ چند لمحے اس ریڑھی کو ہانکتا اور اسی کے سہارے سانس لیتا۔ بزرگ کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں اور آنکھوں سے کمزوری سے پانی بہہ رہا تھا۔ سو چا اسی بزرگ سے پھل لے لیتا ہوں۔ میں نے پوچھا بابا جی اس قدر افسردہ کیوں لگ رہے ہو ؟ باباجی بولے ! بیٹا میں ایک پیٹی سیب لیتا ہوں۔ شام تک بیچ لیتا ہوں۔ دو اڑھائی سو بچ جاتے ہیں۔ میرا خرچہ نکل آتا ہے۔ مگر آج جب پیٹی کھولی تو اوپر والی تہہ ٹھیک تھی اور نچلی والی دونوں تہوں میں خراب سیب چنے ہوئے تھی۔ منافع تو دور کی بات اصل رقم میں بھی اچھی خاصی کمی ہو رہی ہے۔

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

یہ سن کر میرے اندر کا انسان چیخ اٹھا۔ ہم کیسے انسان ہیں۔ اپنے خدا سے مفاد کے لیے اگلے کا چولہا گل کر دیتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں۔ ہم آخری نبیؐ کی امت ہیں۔ ہم روزے رکھتے ہیں۔ ہم نماز پرھتے ہیں۔ ہم حج و عمرہ کی ادائیگی بھی خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہیں۔ ہم اللہ کو بھی ایک مانتے ہیں۔ ہم دین اسلام کا علم بھی بلند کرتے ہیں۔ ہم حقوق العباد کا بھی درس دیتے ہیں۔ ہم میلاد النبیؐ بھی جوش و خروش سے مناتے ہیں ۔مگر ہم انتہا

کے لالچی ہیں۔ منافع خور ہیں۔ بے ایمان ہیں۔ ذخیرہ اندوز ہیں۔ چور ہیں۔ ڈکیت ہیں۔ ہم قاتل ہیں۔ ہمارے دلوں سے احترام انسانیت نکل چکا ہے۔ ہمارے دلوں میں بے حسی آ چکی ہے۔ ہمارے دل خود غرضی سے لبریز ہیں۔ ہم نے اپنی ذات کے لیے سوچنا شروع کر دیا ہے۔ ہمارے اندر حلال و حرام کی تمیز ختم ہو چکی ہے۔ ہم مردہ بدست زندہ کے مصداق ہیں۔ ہمارے اندر گرگ آشنی جیسی خلعتیں جنم لے چکی ہیں۔ لیکن آپ یقین کیجیے ہمیں دوسرے عذاب سے گزرنا پڑے گا اور ضرور گزرنا پڑے گا۔ ایک اس دنیا میں ہمارے اوپر قیامت بپا ہو گی اور دوسرا آخرت میں کڑا عذاب ہو گا ۔ مرزا غالب نے تو عارف زین العابدین کی وفات پر کہا تھا کہ

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے

قیامت کاہے گو یا کوئی دن اور

قیامت کا کوئی دن اور نہیں ہے۔ کرپٹ حکمران بھی عوام پر قیامت ہیں۔ دشمن ملک بھی عوام پر قیامت سے کم نہیں ہے۔ ناقص خوراک ، جعلی ادویات ، آلودہ پانی بھی قیامت ہے۔ سیلاب قیامت ہے۔ ڈیموں کا نہ ہونا قیامت ہے۔ چند سالوں تک پانی کا میسر نہ ہونا قیامت ہے۔ کسانوں کی فصلوں کا نہ بکنا قیامت ہے۔ دہشت گردی قیامت ہے۔ مجرموں کا کھلے عام پھرنا قیامت ہے۔ جزا اور سزا کا نہ ہونا قیامت ہے۔ کرپشن قیامت ہے۔ ملاوٹ قیامت ہے۔ ہر آنے والا دن قیامت ہے ۔ آپ خود فیصلہ کیجیے

قیامت کاہے گویا کوئی دن اور

اگر اب بھی ہم نے اپنے رویوں پر نظر ثانی نہ کی تو وہ دن دور نہیں جب ہم کو عذاب الٰہی گھیر لے گا اور تباہی و بربادی ہمارا مقدر بن جائے گی۔


ای پیپر