بجٹ کی منظوری اور مائنس ون فارمولا
01 جولائی 2020 (21:54) 2020-07-01

حکومت نے عددی اکثریت کے بل بوتے پر نئے مالی سال کا بجٹ منظور کرا لیا ہے… اگرچہ اکثریت مانگی تانگی تھی… اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی اپنی چار نشستوں کے ساتھ پہلے ہی علیحدہ ہو چکی تھی… چودھری برادران کی ق لیگ کے نمائندوں نے ووٹ یقینا ڈالا… لیکن بادل نخواستہ… اپنا عشائیہ بھی علیحدہ منعقد کیا اور وزیراعظم کی دعوت طعام میں شریک ہونے سے انکار کردیا… ان کی روٹی نہیں کھائی… صاف پیغام دے دیا ہم کسی وقت بھی علیحدہ راستہ اختیار کر سکتے ہیں… خود پی ٹی آئی کے تیرہ ارکان روٹھ کر بیٹھے ہوئے تھے جنہیں سپیکر اسد قیصر منا کرلائے… کچھ آزاد اراکین سے عمران خان نے ذاتی ملاقاتیں کر کے انہیں آمادہ تعاون کیا… حکمران جماعت کے سرکردہ رہنمائوں کے درمیان جوتیوں میں جو دال بٹ رہی ہے اس سے پورا ملک آگاہ ہو چکا ہے… قرآن مجید میں اسی طرح کے ایک گروہ کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے بظاہر اکٹھے نظر آتے ہیں مگر اندر سے دل پھٹے ہوئے ہیں… قومی اسمبلی کے بعد سینٹ کی باری ہے جہاں بجٹ کے مسودے کو پیش کیا جائے گا… ایوان بالا میں اگرچہ اپوزیشن کو واضح بلکہ قطعی اکثریت حاصل ہے… لیکن حکومت والوں کو یقین ہے جس طرح انہوں نے چند ماہ پہلے پس پردہ سودے بازی کر کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام کرکے مبصرین اور پوری قوم کوحیران کردیاتھا اسی طرح سینٹ سے بجٹ منظور کرانے میں بھی کامیابی اگرچہ تب خفیہ رائے شماری تھی… اس مرتبہ شو آف ہینڈز ہوگا… لیکن جن مخفی قوتوں نے اپنی خاص سرگرمی دکھاتے ہوئے اس وقت واضح اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کردیا تھا اسی طرح حکمران جماعت کا خیال ہے وہ اب بھی ان کے سر پر دست شفقت رکھیں گی اور ناممکن کو ممکن بنا دیں گی… ان کا مشکل وقت ٹل جائے گا… تاہم یہ امر واقع ہے پاکستان کی تاریخ میں ہر حکومت نے خواہ وہ دوتہائی اکثریت سے سرشار تھی یا اتحادیوں کی بیساکھیوں پر کھڑی بجٹ منظور کرا لیا ہے آج تک ہماری کوئی حکومت پارلیمان کی جانب سے بجٹ مسترد ہو جانے کی وجہ سے اقتدار سے محروم نہیں ہوئی… ان مراحل کے دوران وزیراعظم عمران خان یہ کہہ کراپنے ساتھیوں اور چند اتحادیوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے ان کے علاوہ کوئی چوائس نہیں… ’’کس‘‘ کے پاس چوائس نہیں ظاہر ہے جن قوتوں نے انہیں 2018ء کا انتخاب جتوا کر کامیاب کرایا ہے ان کے پاس سردست عمران خان کا کوئی متبادل نہیں ہوگا… اپوزیشن کی ہر جماعت اور اس کا لیڈر اپنا تشخص اور اپنا پروگرام رکھتے ہیں… وہ عمران خان نقش قدم پر چلنے کے لئے کیوں تیار ہوں گے جبکہ حقیقت میں ملک کا جتنا ستیاناس اور اس کا کباڑا پچھلے تقریباً دو سال کے عمرانی دور میں نکلا ہے ہماری ستر بہتر سالہ بدقسمت سیاسی تاریخ میں نہیں ہوا… جنرل یحییٰ کے اڑھائی سالوں کو البتہ استثناء حاصل ہے کہ ان کے زمانے میں قائداعظمؒ کا پاکستان دولخت ہوا اور ہماری بہادر افواج کو بھارت جیسے کمینے دشمن کے کمانڈر کے آگے ہتھیار پھینکنے پڑے… نوّے ہزار پاکستانی فوجیوں اور مغربی پاکستان سے گئی ہوئی سول آبادی کے افراد کوجنگی قیدی بنا لیا گیا… لیکن وہ تو خیر باقاعدہ ایک جنگ تھی اس کے اسباب و علّل پر بہت بحث ہو چکی آئندہ بھی جائزہ لیا جاتا رہے گا… لیکن عمران خان جس ناکامی کی منہ بولتی تصویر بن گئے ہیں… یہ حالت امن کا قصہ ہے… جب حلف لیا تو کوئی چیلنج درپیش نہ تھا… انتہائی طاقتور اور بارسوخ اسٹیبلشمنٹ پشت پناہی کر رہی تھی… جوڑتوڑ کے بعد قومی اسمبلی کے ایوان میں باقاعدہ اکثریت حاصل کر لی گئی تھی… ملک بھر کے عوام انتہائی پُرجوش تھے… ایک بہت بڑی اور ہمہ جہت تبدیلی کی امید لگائے بیٹھے تھے جو ان کی اکثر محرومیوں کو دور کر دے گی… خود خان بہادر… وزیراعظم نے انقلاب لانے کے لئے ایسے ایسے وعدے کئے اور سبز باغ دکھائے تھے کہ لوگوں کو امید تھی کوئی نہ کوئی تبدیلی تو اپنا رنگ جمائے گی… لوگ نوازشریف کی کرپشن کو (جو آج تک ثابت نہیں ہو سکی) بھول جائیں گے… لوٹی ہوئی دولت واپس آ جائے گی (ایک دھیلے کی وصولی نہیں ہو پائی) غریب آدمی کے دن بدلنا شروع ہو جائیں گے (بدتر ہو چکے ہیں) ٹیکس اتنے جمع ہونا شروع ہو جائیں گے کہ ملکی خزانہ لبالب بھر جائے گا (خالی پڑا نظر آتا ہے اور قرضوں پر گزارہ کیا جا رہا ہے) ہرسو ایمانداری اور دیانتداری کے پھریرے لہرانا شروع ہو جائیں گے (کرپشن کا ریٹ پہلے سے بڑھ چکا ہے) … پنجاب میں شہباز شریف کی نقل پر پشاور کا عرصہ پہلے بی آر ٹی منصوبہ شروع کیا تھا… خدا جھوٹ نہ بلوائے سات ڈیڈلائنز گزر چکی ہیں اس کا کام ہے

کہ مکمل نہیں ہو پاتا… اس کے زیرتعمیر حصے نااہلی کا شاہکار بنے ہوئے ہیں…

مایوسی کی دبیز لہر نے ایک کونے سے لے کر دوسرے تک پوری قوم اور ملک کواپنی لپیٹ میں لے لیا ہے لوگ پوچھتے ہیں ان قوتوں کی عقل ودانش کیا ہوئی جو بڑے چائو کے ساتھ عمران کو لے کر آئیں… اہل وطن کو بھی باور کرایا تمہارے دن پھرنے والے ہیں… ہم اور وہ ایک پیج پر ہوں گے قومی سوچ اور پالیسیوں میں کسی قسم کا تعارض کوئی تضاد در نہیں آئے گا… ملک کی گاڑی اپنی پٹڑی پر رواں دواں نظر آئے گی… ایسا مگر ہرگز نہیں ہوا… ماسوائے اس کے کہ عمران خان کو SELECTED کا نام دیا جاتا ہے اوپر جو بیٹھے ہیں انہیں SELECTORS کے خطاب سے نوازا جاتا ہے… بیچ میں قوم چکی کے دو پاٹوں کے اندر پسی جا رہی ہے… اس عالم نئی جھنکار سننے کو مل رہی ہے وہ ہے مائنس ون فارمولا یعنی عمران خان کو نکال باہر پھینکو پھر دیکھو کیا ہوتا ہے… ہو گا کیا کون اس کے متبادل کی جگہ لے گا… خان بہادر کی اپنی جماعت میں ایک بھی لیڈر ایسا نہیں جو موصوف کاقائم مقام بن کر سامنے آئے… جہانگیر ترین نمبر 2 تھا… کب کا سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیا جا چکا… اس کے باوجود عمران حکومت قائم ہوئی تو اس کے امور میں دخیل تھا… اس کا اثرورسوخ دیکھا نہ جاتا تھا… پھر چینی کے سکینڈل نے قوم کے اوسان خطا کر دیئے… حکومت کا چہرہ داغدار ہوا… تحقیق کے ابتدائی نتائج نے بتا دیا اس مافیا کا سرغنہ جہانگیر ترین ہے… قبل اس کے کوئی کارروائی عمل میں آتی اسے ملک سے بھاگ جانے کا موقع فراہم کر دیا گیا جہاں برطانیہ کے اندر اپنے خوبصورت اور پُرفضا فارم ہائوس میں بیٹھا آرام کے دن بسر کر رہا ہے… لیپ ٹاپ کے ذریعے پاکستان میں اپنے انتہائی منافع بخش کاروبار کو کنٹرول کرتا ہے… اس کے بعد اسد عمر صاحب ہیں… انتخابات سے پہلے وعدہ کیا تھا عمران خان کی قیادت میں برسراقتدار آئے تو بے روزگاروں پر ایک کروڑ نوکریوں اوربے گھروں کو پچاس لاکھ گھروں کا عطیہ دیں گے… سب کچھ ہوا میں تحلیل ہو کر رہ گیا… وزیر خزانہ بنائے گئے… ناکام ثابت ہوئے یا بنا دیئے گئے… آئی ایم ایف والوں نے اس عہدے سے چلتا کیا… گھر جا بیٹھے… عمران دوبارہ واپس لے آئے… وزیر منصوبہ بندی کا منصب عطا ہوا… فواد چودھری کے مطابق وزیراعظم کی جگہ لینے کی خاطر جوڑتوڑ اور سازشوں میں مصروف ہیں… کیا کامیاب ہوپائیں گے… اگرچہ شفاف شخصیت کے مالک ہیں مگر کیا اپنے اندر وہ کرشمہ یا زبردست عوامی جاذبیت بھی رکھتے ہیں جو لیڈرشپ کے لوازم میں سے ہے… یہ وصف ان میں نظر نہیں آتا… عمران کی جگہ وزیراعظم بنائے گئے تو عوامی اپیل تو دور کی بات ہے کیا اسمبلی کے ارکان کو بھی اعتماد میں لے کر آگے بڑھنے کی قائدانہ صلاحیت رکھتے ہیں… یہ سوالیہ نشان ہے… اس کے بعد جناب محترم شاہ محمود قریشی کا نام آتا ہے… سیاست میں ان سب سے سینئر ہیں گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے… زرداری جمع گیلانی حکومت میں وزیرخارجہ رہے… اب عمران کے ساتھی بن کر اس عہدے پر فائز ہیں… نستعلیق لب و لہجہ رکھتے ہیں… بڑے گدی نشین ہیں… جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ میں مریدوں کی کثرت ہے… پرانے سیاسی خاندان کے چشم و چراغ ہیں… پنجاب کی وزارت علیا کے زبردست امیدوار تھے اس میں جہانگیر ترین نے موصوف کی چلنے نہ دی… اب اس جانے پہچانے رقیب کو چاروں شانے چت کر کے خاصے مطمئن نظر آتے ہیں… خارجہ پالیسی کے باب میں ابھی تک ایسا کارنامہ سرانجام نہیں دیا جس کا انہیں کریڈٹ دیا جائے… وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں کتنی کامیابی حاصل کریں گے… کتنی نہیں… یہ دیکھنے کی بات ہے ان کے نیچے تحریک انصاف میں جو کچھ ہے کچرا ہے… یہ لوگ بڑھ چڑھ کر بیان بازی اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے اوصاف حمیدہ کے مالک ہیں… اس سے زیادہ کچھ نہیں…

مقابلے میں اپوزیشن کی جماعتیں ہیں جنہوں نے مائنس ون کے فارمولے کا زوردار مطالبہ بلند کر رکھا ہے… معلوم نہیں مقتدر قوتوں کی اشیرباد حاصل ہے یا نہیں تاہم امر واقع ہے ان جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کا خیال ہے 2018ء کے چنائو میں ان کا مینڈیٹ ان سے چھین لیا گیا تھا… قومی اسمبلی کے اندر بھرپور نمائندگی کی مالک اور سینٹ میں واضح اکثریت رکھتی ہیں… عددی نمائندگی کے لحاظ سے مسلم لیگ (ن) آج بھی سب سے بڑی ہے اسی لئے شہباز شریف کو قائد حزب اختلاف کا مقام حاصل ہے… دونوں جماعتوں کے شانہ بشانہ مولانا فضل الرحمن کھڑے ہیں… اختر مینگل کو ساتھ ملانے کی ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے… پنجاب کے چودھریوں کو اگر بالائی دنیا سے اشارہ مل گیا تو امکان ہے ساتھ آن ملیں گے… یوں ان جماعتوں کا خیال ہے ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کر دکھائیں گے… اگلا وزیراعظم ان کے اتفاق رائے کا مظہر اور نامزد ہو گا… کیا ایسا ہو پائے گا… سیاست امکانات کا کھیل ہے… مگر اس منزل تک پہنچنا اتنا آسان نہیں… اوّل عمران خان کی برطرفی وہ افراتفری مچائے گی کہ چند روز تک کانوں پڑی آواز سنی نہ جائے گی… یہ ہدف حاصل بھی ہو گیا تو اپوزیشن کس امیدوار پر اتفاق کرے گی یہ سوال زوروں کے ساتھ اٹھے گا… قیاس آرائیاں ہوں گی تخمینے لگیں گے… اہم بات کسی ایک شخصیت پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا اتفاق رائے ہو گی… یہاں پر مولانا فضل الرحمن کا کردار بہت اہمیت اختیار کر لے گا… چودھری برادران بھی ان کی ذات پر راضی ہو جائیں گے… بلوچ لیڈروں کے ساتھ بھی ان کے اعتماد کے تعلقات ہیں مگر شہباز شریف عرصہ دراز سے اس عہدے کے امیدوار بنے بیٹھے ہیں… بلاول بھٹو اپنی جگہ وزیراعظم ہائوس پر نگاہیں گاڑے ہوئے ہیں… تو عملی صورت حال کیا ہو گی… آیئے آئین مملکت سے رجوع کریں… یہ لال کتاب فرماتی ہے عوام کا مینڈیٹ ازسرنو حاصل کیا جائے… ایک مخلوط یا نگران انتظامیہ وجود میں آئے جو عرصہ تین ماہ کے اندر شفاف ترین اور ملکی تاریخ کے سب سے غیرجانبدارانہ انتخابات منعقد کرائے… جس جماعت یا لیڈر کے حق میں عوام ووٹ ڈالیں اسے اگر واضح اکثریت ملتی ہے تو اگر ملا جلا مینڈیٹ حاصل ہوتا ہے ہر دو صورت میں صحیح معنوں کے اندر نمائندہ حکومت قائم کرے… اپنے منشور کو آگے لے کر چلے… اس کے کاموں میں کسی قسم کی اندرونی یا بیرونی مداخلت روا نہ رکھی جائے… تمام ریاستی ادارے سختی کے ساتھ آئینی حدود کی پابندی کرتے ہوئے فرائض ادا کریں…پاکستان کے عوام ایسی نتھری ستھری حکومت کا خواب عرصہ دراز سے دیکھتے چلے آئے ہیں… بانی پاکستان کی بھی یہی خواہش تھی… ایک مرتبہ اس خواب کی تعبیر کو تو دن کی روشنی دیکھ لینے دیجئے… شائد قوم اور ملک کی قسمت بدل جائے…


ای پیپر