پٹرول: بحرانوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر
01 جولائی 2020 (21:54) 2020-07-01

گزشتہ 2 سال سے یہ حکومت برسراقتدار آئی ہے۔ اس عرصے میں میڈیسن بحران سے لے کر آٹا چینی بحران تک بہت سے سکینڈلز کا سامنا ہے اور ایک بحران سے دوسرے بحران کا درمیانی فاصلہ بتدریج سکڑ رہا ہے۔ ایک بحران ابھی ختم نہیں ہوتا تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔ حکومت فائر بریگیڈ کی طرح چل رہی ہے مگر حالات قابو میں نہیں آ رہے۔ اس بار تو حد ہو گئی ہے۔ شاید ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں ایک ہی ہلے میں دو چار یا دس روپے نہیں بلکہ 26 روپے کا اضافہ ہوا ہے کیونکہ 25.58روپے کو پٹرول پمپ پر 26 ہی سمجھا جاتا ہے۔ زرداری حکومت کے دور میں پہلی بار پٹرول کی قیمت 100 روپے لٹر سے اوپر گئی تھی مگر اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت 147 ڈالر فی بیرل سے اوپر تھی۔ اس وقت جبکہ یہ قیمت 40 ڈالر ہے تو پاکستان میں پٹرول 100 روپے ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت جو ابھی بھی بیچ مارک فی 60 ڈالر سے کم ہیں تو یہ حالت ہے اگر یہ قیمت اوسط قیمت پر آجاتی ہے تو کیا ہو گا۔

کرونا لاک ڈاؤن سے پہلے ہی دنیا میں پٹرول کی قیمت تیزی سے کم ہو رہی تھی جس کی وجہ روس اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی یومیہ پیداوار کم کرنے پر اتفاق رائے کا نہ ہونا تھا۔ اس وقت ہمارے ہاں قیمت 114روپے تھی جو کہ عالمی قیمت سے زیادہ تھی۔ حکومت نے کمال فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قیمت کم کرنا شروع کی مگر پٹرول پر مختلف ٹیکس جو گزشتہ حکومت میں تقریباً 36 روپے فی لٹر تھے، اسے بڑھا کر 45 روپے کر دیا گیا۔ یہ عوام کی جیب پر دن دھاڑے ڈکیتی کی واردات تھی۔ اس وقت پوزیشن یہ ہے کہ حکومت کی تیل کی امپورٹ اور پٹرول پمپ تک پہنچ کی عمومی لاگت 55 روپے ہے اور حکومت 45 روپے فی لٹر منافع کما رہی ہے۔ پٹرول کی سپلائی کو اگر پوائیویٹائز کر دیا جائے تو شاید پرائیویٹ امپورٹر پورا سال آپ کو 60 روپے لٹر پر تیل فروخت کرتے رہیں گے۔

پٹرول کے بارے میں ایک اور غلط فہمی پیدا کی جا رہی ہے کہ یہ ایشیا مین سب سے سستا ہے۔ وہ اس لیے کہ انڈیا کا ایک روپیہ ہمارے 2.22 روپے کے برابر ہے۔ آپ کو کس نے کہا تھا کہ کرنسی کو اتنا گرا دیں۔ پھر یہ بحث شروع ہوجائے گی کہ ڈالر 170 روپے تک کیسے پہنچا اس کے پیچھے بھی کرنسی مافیا اور آئی ایم ایف اور پتہ نہیں کیا کیا نکلے گا۔ انڈیا میں آج پٹرول کی قیمت انڈین کرنسی میں 80 روپے ہے۔ بنگلہ دیش میں فی لٹر 89 ٹکا ہے۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی کرنسی ہمارے روپے سے مستحکم ہے ، ایک ڈالر84 ٹکے کا ہے۔ ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر 13 ارب اور بنگلہ دیش کے 45 ارب ڈالر ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جو کاٹن نہ

ہونے کے باوجود پاکستان سے زیادہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کرتا ہے۔ اگر انڈیا بنگلہ دیش میں پٹرول کی قیمت کا موازنہ کرنا ہے تو باقی موازنہ بھی کریں۔

اگر پٹرول بحران کے تہہ میں جائیں تو حکومت کی اعلیٰ سطحی نا اہلی اس کی بڑی وجہ ہے ۔ کرونا کی وجہ سے دنیا میں تیل کی طلب کم ہوئی تو پاکستان نے قیمت کم کر دی اور امپورٹ بند کر دی جب مقامی سٹاک ختم ہوا تو عالمی قیمت بڑھ چکی تھی۔ کمپنیوں کو کہا گیا کہ وہ مہنگا تیل خرید کر سستا فروخت کر یں ۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ اصل ڈرامہ اس وقت شروع ہوا جب جون کے آغاز میں قیمت 75 روپے ہوئی ۔ پٹرولیم کمپنیوں کو پتہ تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے سٹاک ذخیرہ کر لیا۔ انہیں یقین تھا کہ قیمت بڑھنی ہے۔ جون کے پہلے 25 دن تو پٹرول کی قلت کا سامنا رہا۔ پورے ملک میں کہرام مچ گیا جب حکومت نیند سے بیدار ہوئی تو عوام رُل چکے تھے۔ اپنی غلطی کے احساس کے ساتھ ہی 25 روپے پھر بڑھا دیا۔ دونوں دفعہ بلا سوچے سمجھے فیصلے کیے گئے۔

پٹرول بحران کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ اتنی بڑی پرائس کٹ کے باوجود نہ تو مہنگائی کم ہوئی نہ ہی کرائے کم ہوئے اور نہ ہی عوام کو کوئی فائدہ ہوا۔ اس کا سارا فائدہ آئیل کمپنیوں کو ذخیرہ اندوزوں نے اٹھایا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جیسے ہی قیمت میں اضافہ ہوا تمام پٹرول پمپ مالکان نے سیل شروع کر دی۔

اس وقت مارکیٹ پوزیشن یہ ہے کہ بہت سے کرونا زدہ ممالک میں معاشی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمت جو ابھی بھی 40 ڈالر کے سستے ریٹ پر ہے، اس میں مزید اضافہ ہونا ہے جس کا مطلب ہے کہ اگلے دو ماہ میں آپ دیکھیں گے کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت 120 روپے سے اوپر ہو گی اور مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔

وزیراعظم ہر کابینہ میٹنگ میں نوٹس لیتے رہ گئے کہ پٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد مہنگائی کم کی جائے مگر بری طرح ناکامی ہوئی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ نہ مہنگائی کم ہو رہی ہے اور نہ ہی تیل دستیاب ہے تو پہلی تاریخ کا انتظار کیے بغیر ہی اچانک قیمت بڑھا دی گئی۔ اس سے حکومتی مزاج کا اندازہ ہو تاہے۔ لگتا ہے کہ ملک میں ریاست کی رٹ قائم رکھنا مشکل نظر آتاہے۔ حکومت صرف بیان جاری کر رہی ہے۔ یہ مہنگائی مافیا سے رحم کی اپیلیں کر رہی ہے عملاً ریاستی طاقت کا استعمال نظر نہیں آتا۔

ایک محاذ ٹھنڈاہونے سے پہلے ہی نیا محاذ کھل جاتا ہے۔ وزیر ہوا بازی نے تو طیارہ حادثے کی رپورٹ کے موقع پر ایسا کمال دکھایا ہے کہ پوری دنیا میں شور مچا ہوا ہے۔ حادثے کے اصل اسباب تک محدود رہنے کی بجائے انہوں نے پی آئی اے کے پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں کا ایشو کھڑا کر دیا۔ اس وقت CNN اور بی بی سی اور دنیا بھر کے اخباروں میں یہ خبر گرم ہے کہ پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی کی باتیں ہو رہی ہیں اور دیگر فضائی کمپنیوں سے پاکستانی پائلٹوں کو نکالا جا رہا ہے ۔ کیا یہ مسئلہ کھڑا کرنا ضروری تھا۔ ایک وزیر نے ملک کے ایک قومی ادارے کو اپنی رپورٹ کے ذریعے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ موصوف کو 2008ء کے الیکشن میں پارلیمنٹ میں آنے کے بعد ان کی جعلی ڈگری رکھنے پر کیس عدالت میں پہنچا تھا جہاں ان کی ڈگری جعلی نکلی تھی مگر ان کو سزا نہیں ہو سکی۔


ای پیپر