ٹک ٹاک اور چینی ایپس کے خلاف بھارتی پابندی!
01 جولائی 2020 (21:52) 2020-07-01

بعض اوقات حالات ایسی صورت اختیار کر لیتے ہیں کہ فوری طور پر سخت فیصلے صادر کرنا پڑتے ہیں۔ وہ اقدامات وقتی طور پر پریشان کردیتے ہیں لیکن ہو ش مندی سے کام لیتے ہوئے سوچا جائے تو ایک نئی سمت کا تعین ہو سکتا ہے۔ہمسایہ ملک بھارت نے معروف ایپلی کیشن ٹِک ٹاک سمیت 59 چینی موبائل ایپلی کیشنز پر پابندی عائد کر دی ہے۔یہ فیصلہ بھارت کی سلامتی کو خطرے سے محفوظ رکھنے ، سائبر سپیس کی خود مختاری اور تحفظ کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔ بھارتی وزارت انفارمشن ٹیکنالوجی نے حکم نامے میں کہا ہے کہ ریاستی شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے بارے میں پہلے ہی شبہ ظاہر ہو رہا تھا، لیکن اب ڈیٹا کے استعمال کے بارے میں نامناسب شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ مشتبہ خطرے کے پیش ِ نظر بھارتی آئین کے سیکشن 69A برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے۔ایپلی کیشنزپر پابندی کے حوالے سے سب سے اہم وجہ بھارت چین کشیدگی ہے۔جون کے مہینے میں بھارت چین کی وادی گلوان میں ہونے والی جھڑپ نے عالمی منظر نامے کے خدوخال ہی بدل دیئے۔ اس معاملے میں بھارت نے چین کی معیشت اور ٹیکنالوجی پر اس اقدام کی صورت میں حملہ کیا ہے۔لیکن دوسری جانب چین کو بھارت کا تجارتی حصہ دار بھی سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ چین نے بھارت میں علی بابا، ٹی آر کیپیٹل اور ہل ہائوس جیسی بڑی کمپنیز کی صورت میں کثیر سرمایہ کاری کی ہے۔اب حالات کروٹ بدل رہے ہیں۔

بھارت نے دنیا میں اپنے ٹھاٹھ دکھانے کے لئے ایسا عمل کر تو دیا ہے مگر اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیز کے بائیکاٹ کا نقصان چین کی بجائے بھارت کو زیادہ ہوگا۔اگر ہم ایک نظر ان ایپلی کیشنز پر ڈالیں توان کی مانگ دنیا بھر میں کی جاتی ہے۔ بھارت کی ہی بات کریں تو لاک ڈائون کے ایام میں وہاں کے رہائشیوں نے سب سے زیادہ استعمال ٹک ٹاک، فیس بک،زوم اور آن لائن گیم پب جی کا کیا ہے۔کاروباری ویب سائٹ "بزنس آف ایپس "کے مطابق،جون 2019 تک بھارت میں 120 ملین ٹک ٹاک استعمال شدگان

موجود ہیں۔ تعداد اب بڑھ چکی ہے۔ بھارتی خبر رساں ادارہ ٹائمز آف انڈیا کے06 مئی 2020ء کو شائع ہونے والے آرٹیکل میں" انٹرنیٹ اینڈ موبائل ایسو سی ایشن آف انڈیا "(IAMAI)کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں 503ملین افراد ، جب کہ چین میں 850ملین افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ اس تعداد کو پڑھتے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ چین کا ترقی کے اعتبار سے کتنا مضبوط نظریہ ہے۔ بیشتر ایپلی کیشنز کا موجد بھی چین ہی مانا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں امریکیوں کی ایجاد کردہ ایپلی کیشنزواٹس ایپ اور فیس بک کا استعمال کیا جارہا ہے۔ چین میں واٹس ایپ کی جگہ ان کی اپنی ایجاد کر ایپلی کیشن "WeChat" اور فیس بک کے متبادل کے طور پر"The Renren Network" کو استعمال کرتے ہیں۔

دوسری جانب اگر بھارت کو دیکھیں تو یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق 2018ء تک بھارت میںخواندگی کی شرح 74.37 فیصد رہی ہے۔ اس کے مقابلے چین کی شرح ِ خواندگی 96.84 فیصد رہی ہے۔کورونا وائرس کے ابتدائی ایام میں چین کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو ہی دیکھ لیں تو چین کی دانائی برتری حاصل کرتی ہے۔ بھارت کا یہ حال ہے کہ کچھ ریاستوں میں کرفیولگا دیا ،جب کہ اس بات کا خیال نہ رکھا کہ سرکار عوام تک اشیا خورونوش کی رسائی ممکن بنا بھی سکتی ہے؟

ایپلی کیشنز کی بندش کی خبر پاکستان میں بھی گردش کر رہی ہے۔ چوں کہ ہم چین کے بہترین دوست ہیں ۔تو ہم اس اقدام کو بھارت کی غلطی تسلیم کر رہے ہیں(جو کہ دلائل کے اعتبار بھارت کی غلطی ہی ہے اور یہ عمل بھارت کی معیشت کو تنزلی کی جانب لا سکتا ہے)۔ہم اگر چند لمحوں کے لئے سوچیں کہ یہ ایپلی کیشنز پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت نہ ملے، پاکستان پر اس قسم کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے پر پابندی عائد ہوجائے تو ہم روایتی طور پر proxy کے استعمال کے علاوہ اور کچھ کر سکتے ہیں؟ کیا ہمارے پاس چین کی طرح اپنی ایجاد کردہ ایپلی کیشنز موجود ہیں جن سے استعفادہ حاصل کر سکیں؟پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کی سالانہ رپورٹ برائے 2018-19کے مطابق پاکستان میں 76.3 ملین افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں ۔جن میں واٹس ایپ، فیس بک، انسٹا گرام سمیت کئی اہم اپلی کیشنز کے استعمال شدگان شامل ہیں۔ہمارے پاس ان ایپلی کیشنز کا کوئی ذاتی متبادل موجود نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں طلبہ اور پروفیشنلز کو اپنی بساط کے مطابق کام نہیں کرنے دیا جاتا۔

آج کے دور میں انٹرپرینیورشپ کو دنیا میں فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد نئے طریقے کا کاروبار ہے، جس میں کوئی بھی شخص انفرادی طور پر کسی ؎نئے آئیڈیا اورخصوصیات کے ساتھ کام کرتا ہے۔اس میں کثیر سرمائے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ آپ کی سوچ اور آئیڈیا ہی آپ کو کامیاب بناتا ہے۔پاکستان میں نجی جامعات میں انٹرپرینیورشپ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مختلف مقابلے بھی منعقد کروائے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ علومِ ابلاغیات میں بھی انٹر پرینیورشپ کا کورس شامل ہو رہا ہے۔ فیس بک کے بانی مارک زُکربرگ بھی انٹرپرینیو کے طور پر سمجھے جاتے ہیں۔کورونائی دور کے اعتبار سے مثال دی جائے تو بہت سے طلبہ نے سینی ٹائزر اور ڈس انفیکٹ گیٹ نما اشیا بھی بنائی ہیں۔یہ بھی انٹرپرینیورز کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں۔

اسی طرح اگر ہم آئی ٹی اور دیگر عالمی شعبہ جات پر کام کرتے ہیں اور اپنی ایپلی کیشنز ایجاد کر لیتے ہیں توجو منافع دیگر ممالک کی ایجاد کردہ ایپلی کیشنز حاصل کرتی ہیں ، وہ ہمارے پاس آ سکتا ہے۔ بھارت تو ان حالات میں پھنس چکا ہے، جلد بازی میں اتنی بہتر ایجادات نہیں کر سکتا ، لیکن پاکستان پر تو کوئی ایسا بُرا وقت نہیں آیا۔ ہم تو انہماک سے تحقیق پر وسائل خرچ کر کے بہتر شے وجود میں لا سکتے ہیں۔ ان حالات میں قوم کو ارفع کریم کی مانند اولاددرکار ہے جو اس دیس کو ترقی کے زینے پر چڑھائے ۔وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بین الاقوامی چینل کو انٹرویو میں اعتراف کیا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا شعبہ بہت وسعت رکھتا ہے۔ اس میں بہت کام کیا جا سکتا ہے۔جناب ِ والا!آپ سے درخواست ہے کہ اس کی تعمیر و ترقی میں معاون ثابت ہوں تا کہ طلبہ کے لئے آسانی ہو سکے۔


ای پیپر