سقراط :قتیل ِشعورِنو
01 جولائی 2020 (16:46) 2020-07-01

یہ حقیقت ہے کہ قدیم تاریخی شہروں کے باسی بالعموم اپنے شہروں کے تاریخی مقامات سے آگاہ نہیں ہوتے۔جامعہ الازہر میں پڑھاتے ہوئے جب میں مصرکے تاریخی مقامات کی سیرکا تذکرہ کرتاتو اپنے مصری رفقاکو ان سے بے خبرپاتاحتیٰ کہ قاہرہ کے رہنے والے ایسے اساتذہ بھی تھے جنھوںنے کبھی اہرامات نہیں دیکھے تھے۔ اہرامات تو زرادورتھے ایسے اساتذہ سے بھی ملاقات رہی جنھوںنے جامعہ کی لائبریری بھی نہیں دیکھی تھی۔ میںنے کچھ ایسے یونانیوں سے ہیڈرین لائبریری کا تذکرہ کیاجو ایتھنزہی میں پیداہوئے اوریہی زندگی گزاری ہے تو انھوںنے بڑے تعجب سے پوچھاکہ کیا ایتھنزمیں ایسی کوئی لائبریری بھی ہے …؟آغورامیں شہرکے قدیم آثار،پتھروں کے ٹکڑے، ان پر لگی ہوئی یونانی اور انگریزی زبان کی تختیاں، ویرانوں میں بکھرے ہوئے پژمردہ پھولوں کی طرح بکھری ہوئی تھیں۔کہیں دیوار کا ٹکڑارہ گیاتھاعمارت غائب تھی کہیں ستون موجودتھے ان کے اوپرچھت نہیں تھی کہیں محراب موجودتھی عمارت کا باقی حصہ اڑچکاتھا جن عمارتوں کے کھنڈر باقی رہ گئے ہہیں انھیں مرورایام سے بچانے کے لیے آہنی پائپ لگاکر ان میں جکڑ دیاگیاہے یہاں وہاں شکستہ مجسموں کے باقی بچ رہنے والے حصے کھڑے اپنے ماضی کا ماتم کررہے تھے کسی کا دھڑتھاتوسر نہیں تھاکسی کا سرباقی ر ہ گیاتھا ،دھڑ زمانے کی گردشوں میں گم ہوچکاتھا،کہیں توماضی کی عمارتوں کی یادگار ستون باقی تھے اور کہیں ستون بھی باقی نہیں بچے محض ان کابالائی حصہ بچ رہاتھا، جس پر صناعوںنے اپنی صناعی کے جوہر دکھائے ہوئے تھے ۔انھیں ستونوں کے تاج کہہ لیجیے ایک ایسے ہی تاج میں بنانے والے فن کار نے کسی دیوتاکی شبیہہ ابھاررکھی تھی اور اب باقی ساری عمارت میں سے وہی ٹکڑابچ رہاتھا۔کہیں زمانے کے قدموں تلے روندے گئے فرش کا کوئی ٹکڑاباقی بچ رہاتھا جس پر موزیک کے نشان اس کی گزشتہ و رفتہ آرائش کا پتا دے رہے تھے …دورمسجدکا گنبدکھائی دے رہاتھا قریب ایک گرجے کی عمارت کا باقیماندہ حصہ تھا یہ سینٹ ایسومیٹس کا چرچ تھا Tetraconch Churchکی عمارت کے باقی آثاربھی تھے ۔کہیں قبروں کی طرح کے نشان تھے جن کی محض تختیاں باقی رہ گئی تھیں ان پر یونانی زبان میں کچھ لکھاہواتھا بعض کتبات پر انگریزی بھی درج تھی لیکن حروف اتنے باریک تھے کہ ان کا پڑھنا آسان نہ تھا۔اس ویرانے میں بھی حذیفہ کو ایک’’ جید‘‘یونانی کتا مل گیاجس کے نزدیک تاریخی آثارکی حیثیت ایک ویرانے سے زیادہ نہیں تھی اور اس نے اس

جگہ کو اپنے آرام کے لیے منتخب کیاہواتھا۔حذیفہ نے اس سگ ِخوابیدہ کی تصویربنانے میں زرابھی تاخیر نہ کی کہ سگ ِخوابیدہ بہ ہر حال سگان ِدنیاسے تو بہترہی ہے ۔

Old Bouleuterionبولیٹریون پر پہنچے تو مجھے ایک بار پھر سقراط کے آثارکی جستجوہوئی لیکن یہاں ایسی کوئی شے محفوظ نہیں تھی۔ کوئی ایسی یادگاری تختی تھی نہ کوئی نشان ۔ میں جو بچپن سے سقراط کا چاہنے ولاہوں ہرجگہ اسی کے نشانات ڈھونڈتاتھا لیکن حیران کن حدتک مجھے اس کا کوئی نشان کجاسیکڑوں مجسموں کے ہجوم میں کوئی مجسمہ بھی نہ ملا۔ بولیٹریون وہ جگہ تھی جہاں ایتھنزوالے اپنی اسمبلی کا اجلاس کیاکرتے تھے۔ یہی جگہ یونان کا سینیٹ تھی اوریہیں جیوری مقدمات کی سماعت کرتی اور ان کے فیصلے کیاکرتی تھی۔میں یہاں رک گیااور چشم تصورسے سقراط کے خلاف ہونے والی کارروائی دیکھنے لگا۔ سترسالہ سقراط پرفردجرم عایدہورہی ہے ،وہ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑاہے ،سیکڑوں لوگ اس کے سامنے ہیں اور میلی ٹاس اس پر جرح کررہاہے۔ بوڑھا ملزم اپناموقف پیش کرتے ہوئے کہتاہے :میراکام بس یہی ہے کہ میں آپ لوگوں کو چاہے جوان ہوں یا بوڑھے اس طرف راغب کروں کہ جسم اور مال کو اپنی اوّلین ترجیح نہ بنائیں بلکہ روح اور نفس کی پاکیزگی کو اوّلیت دیں ،ان کی اتنی نشوونماکریں کہ وہ نیکی کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہوجائیں۔ خیراور نیکی، مال و دولت سے نہیں ملتی بلکہ خیراورنیکی سے مال و دولت بھی ملتے ہیںاوروہ سب کچھ بھی جو آپ کودرکار ہوتاہے …… سقراط اپنے خیالات ظاہرکررہاتھا میلی ٹاس ان خیالات پر تنقیدکرتاہے ۔ سقراط پر اس کا الزام ہے کہ وہ اجتماعی معاملات میں حصہ نہیں لیتا،وہ اسمبلی کے اجلاسوں میں نہیں آتا ،وہ دیوتائوں کو نہیں مانتا،وہ نوجوانوں کے اخلاق خراب کرتاہے … سقراط کہتاہے میری صاف گوئی ہی میری ملامت کا سبب بنی ہے، یہ نفرت ہی اس کا ثبوت ہے کہ میں جو کہتاہوں وہ سچ ہے ،مجھے بچپن سے ایک روحانی اورالہامی آواز آتی ہے جو مجھے ہر اس کام سے روک دیتی ہے جو مناسب نہ ہو ،اسی نے مجھے اسمبلی میں آنے اور آپ کی کارروائیوں میں حصہ لینے سے روکے رکھا …وہ خدائے واحدکی توحیدکا اقرارکرتاہے میلی ٹاس ، سقراط کامذاق اڑاتاہے۔ اس غیبی آوازپرہنستاہے، جیوری، میلی ٹاس کا ساتھ دیتی ہے۔طے پاتاہے کہ مقدمے کا فیصلہ ووٹنگ سے کیاجائے…ووٹنگ ہوتی ہے اور فیصلہ سقراط کے خلاف آتاہے ۔ایتھنزکی اس عدالت کا دستورہے کہ سزاسنانے کے بعدمجرم کو ایک موقع دیاجاتاہے کہ وہ اپنے لیے کوئی متبادل سزاتجویزکرے ۔ سقراط کہتاہے کہ زندگی ،جستجوئے حقیقت کی تڑپ کے بغیر بے معنی ہے، یہ اور بات ہے کہ آپ کو اس بات کا یقین دلاناآسان نہیں۔ اگرمیرے پاس کوئی رقم ہوتی تو میں اس سزاکے بدلے میں جرمانے کی سزاتجویزکردیتا لیکن میرے لیے اس کاامکان نہیں ہے الّایہ کہ آپ جرمانے کی رقم اتنی کم رکھیں کہ میں اسے اداکرسکوں …یہاں بوڑھے سقراط کے تلامذہ اسے رقم فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں اور وہ تیس منہاس جرمانے کو اپنے لیے متبادل سزاتجویزکرتاہے ۔

پیشتر اس سے کہ جیوری میں شامل سقراط کے حامی اس متبادل سزاکو مان لینے کی تحریک کریں میلی ٹاس کہتاہے کہ نہیں جناب اس طرح نہیں، اس بات پر دوبارہ رائے شماری ہوگی۔ چنانچہ دوبارہ رائے شماری ہوتی ہے کہ سقراط کی سزاکو جرمانے سے تبدیل کیاجائے یانہیں …؟رائے شماری میں دوبارہ یہی فیصلہ ہوتاہے کہ سقراط کو موت ہی کی سزادی جانی چاہیے … سقراط بڑے تحمل کے ساتھ سزاسنتاہے اورجیوری کے سامنے اپنی آخری گفتگومیں کہتاہے آپ کا خٰیال ہے کہ مستقبل میں آپ سے اس فیصلے کے بارے میں کوئی پرسش نہیں ہوگی …ہرگزنہیں ،صورت حال اس کے بالکل برعکس ہوگی ۔ایک نہیں کئی ہوں گے جو آپ کو مجرم ٹھہرائیں گے اور اس سزاکی سزا،اس سزاسے کہیں زیادہ سخت ہوگی۔


ای پیپر