کرسی کی پرواہ نہیں تو عوام …؟
01 جولائی 2020 (16:45) 2020-07-01

پارلیمنٹ ہائوس میں اپنے چیمبر میں اراکین اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے اقتدار سے بے نیاز ی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کرسی کی پرواہ نہیں یہ جاتی ہے تو چلی جائے لیکن مافیا کا آخری حد تک پیچھا کروںگا۔

ہمیں اپنے وزیر اعظم کی اقتدار سے بے رغبتی کا پہلے ہی یقین تھا مگر انہوں نے نئے سرے سے خیالات کا اظہار کرکے ہمارے یقین کو تازہ کر دیا ہے وہ ایک درویش صفت انسان ہیں اور انہوں نے کابینہ کا انتخاب کرتے ہوئے بھی درویشوں کو ترجیح دی ہے یہ درویشی ہی تو ہیں جو ہیلی کاپٹرکا فی کلومیٹر خرچہ پچاس روپے بتاتے ہیں اگر تکنیکی ماہر ہوتے تو ایسی بات کرکے جگ ہنسائی کا باعث تو نہ بنتے لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کوئی کابینہ کے لائق فائق وزراء کی ذہانت پر شک کرنے لگے۔ وزارت عظمیٰ کے منصب میںبڑے اختیارات ہوتے ہیں آپ جرمنی اور جاپان کو ہمسایہ ممالک کہہ سکتے ہیں اگر کوئی تردید کرے تو ماننے کی کیا ضرورت ہے؟ لوگوں کا کیا ہے کہنے دو اُن کی اپنی مجبوری ۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی ہمارے پیارے وزیرا عظم نے فرمایا ہے کہ کرسی کی پرواہ نہیں جاتی ہے تو جائے مافیاکا آخری حدتک پیچھا کروں گا مجھے تو اتنا کہنا ہے کہ کرسی کی چاہے پرواہ نہ کریں لیکن عوام کا احساس ضرور کرلیں یقین کریں حالات روز بروز خراب ہوتے جارہے ہیں ایک عام اور مزدوردار بندہ تو ایک طرف اب تو اچھے بھلے سفید پوش بھی ضروریات زندگی کے لئے پریشان دکھائی دیتے ہیں تنخواہ دار الگ لاچار ہیں وہ تو بھلا ہو کرونا کا لاک ڈائون سے کچھ اخراجات کمی ہوگئی ہے بچوں کے تعلیمی اخراجات کا سلسلہ موقوف ہوچکا اور تنخوادار دفاتر میںحاضری دینے سے کچھ عرصہ بچ گئے یوںآنے جانے کا خرچہ نہیں کرنا پڑا لیکن تصور کریں اگر بچوں کے تعلیمی اخراجات جاری رہتے اور سرکاری ملازمین کو ٹرانسپورٹ بندش کے باوجود دفاتر جاناپڑتاتو اخراجات میں کتنا اضافہ ہوجاتا؟

اے ہمارے پیارے وزیراعظم، آپ سے بس اتنا عرض کرنا ہے کہ آپ کرسی کی بے شک پرواہ نہ کریں لیکن سسکتے بلکتے عوام کی پرواہ ضرور کریں جو بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے دو وقت کی روٹی سے بھی قاصر ہوتے جا رہے ہیں ۔یا د رکھیں آپ کی تو تنخواہ بھی لاکھوں میں ہے بجلی ،سوئی گیس ، پانی ،ٹیلی فون اور آمدورفت پر بھی کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتابلکہ تمام سہولتیں مفت حاصل ہیں پھر بھی آپ اخراجات پورے نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہیں زرا تصور کریں ایک عام آدمی جو چند ہزار روپے تنخواہ لیتا

ہے اور چند ہزار میں سے بچوں کی تعلیم دلاناہوتی ہے، صحت کا خرچہ کرنے کے علاوہ پانی ،بجلی ،گیس کے بل بھی دینے ہیں اور اگر گھر بھی کرایہ کا ہوتو وہ کیسے گزارا کرے گا ؟اگر کبھی فرصت ہوتو ضرور سوچیں آپ کے پاس تو اختیار ہے وسائل ہیں کبھی مجبور آدمی کے روز وشب کی رپورٹ لیں وقت بدلتا رہتا ہے آج اقتدار ہے تو مستقبل میں اللہ کی اس نعمت سے محروم بھی ہو سکتے ہیں اس لئے وقت سے فائدہ اٹھائیں اور مجبوروں کی دعائیں لیں یاد رکھیں جو خلق خدا کے مسائل حل کرتا ہے اللہ اُسے کبھی رسو ا نہیں کرتا۔

آپ نے آٹے ،چینی بحران کی تحقیقات کرائیں جس کے نتیجے میںچند ایک چہرے بے نقاب ہوئے مگر پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

عوام کا سوال ہے کہ آپ نے نوٹس لیا پھر اچانک چینی 55سے 85کی کیوں ہوگئی؟ آپ نے آٹے کی طرف دھیان دیا وہ بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے مہربانی کریں کرسی کی پرواہ نہ سہی عوام کی کچھ پرواہ کرلیں لوگ آپ کو دعائیں دیں گے۔

آپ نے آتے ہی اہم سرکاری عمارتوں کو تعلیمی اداروں میں بدلنے کا عزم ظاہر کیا مگر ہنوز یہ وعدہ ادھورا ہے مگر عوام سمجھتی ہے کہ ممکن ہے کرسی کی طرح آپ کو اپنے عزم و ارادوں کی بھی پرواہ نہ ہو لیکن مہربانی کریں عوام نا م کی مخلوق کو نظرانداز نہ کریں یہ ایسی مخلوق ہے جسے بہتر برس سے وعدوں پر ہی گزارہ کرناپڑ رہا ہے آپ تو ریاست مدینہ کے دعویدار ہیں کیا آپ کے دور میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی؟ اگر کوئی تبدیلی نہ آئی تو عام لوگ حکمران کے کرسی کی پرواہ نہ ہونے کے دعوے پرکیونکر اعتبار کریں گے۔

آپ نے ڈالر کنٹرول کرنے کی ہدایت کی لیکن آج یہ صورتحال ہے کہ ڈالر کی پاکستانی روپوں میں قیمت 168ہوگئی ہے پوچھنا یہ ہے کہ آ پ جس طرف نگاہ اٹھاتے ہیں تباہی کا کیوں آغاز ہوجاتا ہے؟ آپ کو پتہ ہے ڈالر کی اونچی اڑان سے ملک پر کتنے سو ارب قرضے کا اضافہ ہوگیا ہے؟ آپ تو چلے جائیں گے مگرادائیگی عام اور غریب لوگوں کو خون پسینے سے کرنی پڑے گی عوام سے اتنی بے اعتناہی اور زندہ درگور کرنے کی پالیسی اچھی بات نہیں ۔

پیارے وزیرِاعظم ،آپ نے غریبوں کا نام لیتے ہوئے پیٹرول وغیر ہ کی قیمتیں کم کرنے کا مژدہ سنایا تو ہر چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور لوگوں کو یقین ہوگیا کہ کچھ بھی ہو ہمارا وزیر اعظم عام آدمی کے دکھوں کا مداوہ کرے گا مگر ہوا کیا نرخ کم کیا ہوئے ملک میں پٹرول ہی نایاب ہو گیالوگ مارے مارے سڑکوں پر بوتلیں اٹھائے خوار ہوتے رہے لیکن حکومت نرخ کم کرنے تک ہی محدود رہی اور لوگ 72کی بجائے 150روپے میں ایک لیٹر پٹرول حاصل کرتے رہے تین ہفتوں بعد ریاستِ مدینہ کے علمبرداروں نے توجہ دی اور اچانک پچیس روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا پھر بھی لوگوں نے سکھ کا سانس لیا کہ چلو مہنگائی میں اضافہ تو ہوگیا لیکن ضرورت کے مطابق پٹرول تو ملنے لگا ہے ۔

کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ حکومت کے ایک فیصلے سے چار ار ب روپے پٹرول کمپنیوں نے عوام کی جیبوں سے نکلوا لیے کہاں ہمارے ملک میں گرانی کے خلاف لوگ مظاہر کرتے اور نعرے لگاتے تھے آپ کے دور میں پٹرول کی قیمت میں اضافے کے باوجود عوام نے اِس بنا پر سکھ کا سانس لیا ہے کہ دستیابی کا سلسلہ تو شروع ہو، ایسی واردات آج تک کسی حکمران کے دور میں نہیں ڈالی گئی جیسی ریاستِ مدینہ کے دور عوام سے کی گئی ہے پھر بھی اِتنا کہنا ہے کہ کرسی کی بے شک پرواہ نہ کریں مگر اپنے فیصلوں کا جائزہ ضرور لیں اور کابینہ میں بیٹھے مافیاز کے ہمدردوں کا محاسبہ کریں تاکہ کسی کو عوامی مفادات سے کھلواڑ کی جرات نہ ہو آپ نے ٹھیک ہی فرمایا ہوگا کہ آپ کو کرسی کی پرواہ نہیںلیکن آپ سے پوچھنے کی اتنی جسارت ہے کہ کرسی کے ساتھ کیا آپ کو عوام کی بھی پرواہ ہے یا…؟


ای پیپر