کاش کپتان شاہ محمود قریشی کی قدر کرتے …!
01 جولائی 2020 (16:44) 2020-07-01

وزیر ِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چند دن قبل اپنی 64 ویں سالگرہ کا کیک کاٹا‘ مخدوم شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے مخدوم زین حسین قریشی اور شاہ جی کے قریبی احباب و مریدین بھی وہاں موجود تھے جنہوں نے مخدوم شاہ محمود کو ان کی سالگرہ پر مبارکباد پیش کی اور ان کی صحت سلامتی کیلئے دعا فرمائی۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی لاہور‘ ملتان اور جماعتِ غوثیہ سندھ کے زیرِ اہتمام مختلف مقامات پر وزیر ِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی سالگرہ کی مناسبت سے کیک کاٹے گئے۔ دریں اثناء مخدوم شاہ محمود قریشی نے ملک بھر سے لاتعداد خیر سگالی اور مبارکباد کے پیغامات موصول ہونے پر دوست احباب کا شکریہ ادا کیا۔ عہدِ موجود کی سیاست میں مخدوم شاہ محمود قریشی کا بڑا نام و مقام ہے کیونکہ کئی حوالوں سے وہ اپنے کپتان سے بھی بڑھ کر سمجھدار اور تجربہ کار ہیں۔ ایوان و پارلیمان بلکہ میدان کی سیاست کے دبنگ شیر اور ماہر و مایہ ناز کھلاڑی جانے مانے جاتے ہیں اور قبولیت و مقبولیت کے اعتبار سے دیکھیں تو بعد از عمران خان پوری پی ٹی آئی میں کوئی ان کے لیول کا نہیں‘ پورے ملک میں ان کے روحانی مرید ملنگ دیوانے اور سیاسی متوالے اور چاہنے والے ملتے ہیں۔ جب وہ پیپلز پارٹی میں تھے تب میں نے بڑے بڑے پردھان ’’پِپلیوں‘‘ (جہانگیر ترین نہیں) امیر ترین اور مقبول ترین لیڈرز کو یہ کہتے سنا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو‘ شاہ محمود قریشی کا سب سے زیادہ احترام کرتی ہیں اور اعتماد بھی سب سے بڑھ کر کرتی ہیں۔ ان کی جو پہلی

تقریر میرے دل میں اُتر گئی تھی وہ انھوں نے PP کے اُمیدوار برائے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے ایوان میں کی تھی میں تب سے مائل قائل اور گھائل ہوا شاہ جی کا کیونکہ باکمال ہے ان کا انداز تکلم و تقریر میری نظر میں نہایت ہی پُر اثر ہے اور پُر فکر بھی۔ ان دنوں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حالات و معاملات اچھے نہیں چل رہے‘ اختلافات‘ تفرقہ بازی اور بیان بازی زوروں پر ہے۔ وفاقی وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری اپنی حکومتی اور جماعتی کوتاہیاں تسلیم کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ پارٹی کے اندر پارٹیاں‘ دھڑے بندیاں اور درجہ بندیاں ہیں‘ ہم بس معمول کی حکومت چلا رہے ہیں عوامی توقعات کے مطابق کوئی تبدیلی نہیں لا سکے۔ فیصل واوڈا‘ فواد چودھری و دیگر اسد عمر‘ رزاق دائود‘ جہانگیر خان ترین اور وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی پر شدید تنقید کر رہے ہیں جبکہ کپتان کہتے ہیں کہ وزراء چھ ماہ میں کارکردگی بہتر کر لیں ورنہ معاملات دوسری طرف چلے جائیں گے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز فرماتے ہیں کہ وزیرِ اعظم کو یہ علم تھا کہ شوگر انڈسٹری میں کون کون لوگ ہیں لیکن اُنھوں نے بلا تفریق کاروائی کا حکم دیا۔ شاید اسی وجہ سے جہانگیر خان ترین اپنے قلب و جان کپتان سے تمام تر بلند جہازی تعلقات دوستیاں ختم کر کے بیرون ملک جا بیٹھے ہیں۔ چند دن قبل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فواد چودھری کا بیان زیرِ بحث آیا اور اور اس بیان پر کافی گرما گرمی بھی ہوئی‘ تحریک انصاف کی سینئر قیادت پر وزیرِ اعظم بننے کیلئے سازشیں کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ کاش کپتان مخدوم شاہ محمود قریشی کی قدر کرتے کیونکہ قریشی جی کا لیول وزارت نہیں صدارت ہے انھیں صدر تحریک انصاف ہونا چاہیے۔ ان حالات میں کپتان جماعت کے اتحاد و یک جہتی اور کامرانی کیلئے کھوٹے کھرے کی پہچان کریں کیونکہ سچ سازشوں کے سمندر میں غوطے کھا رہا ہے۔

لباسِ خضر میں ہزاروں راہزن بھی پھرتے ہیں

اگر جینے کی تمنا ہے تو کچھ پہچان پیدا کر

وزیرِ اعظم عمران خان کیلئے یہ نیک مشورہ مفت ہے کہ وہ پی ٹی آئی کو بحیثیت ایک منظم و متحرک و مضبوط سیاسی جماعت قائم دائم رکھنے کیلئے مخدوم شاہ محمود قریشی کو پارٹی صدر بنائیں اور دپٹی وزیرِ اعظم بھی۔ بطور وزیرِ خارجہ قریشی جی کی گراں قدر خدمات ہیں۔ سیکریٹری خارجہ جناب سہیل محمود‘ پارلیمانی سیکریٹری امور خارجہ محترمہ عندلیب عباس‘ ترجمان دفتر خارجہ میڈم عائشہ فاروقی‘ وزارت خارجہ کی یہ ساری ٹیم ہی اچھی اور لائق داد و تحسین ہے جس نے کشمیر سمیت دیگر تمام ایشوز پر پیارے پاکستان کا روشن چہرہ‘ مثبت تصور و تصویر دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔ ہماری راجپورت مادام تہمینہ جنجوعہ کی بھی مثالی کارکردگی ہے۔ مخدوم شاہ محمود شعلہ بیاں مقرر ہیں اور ان میں ایک بھٹو بھی بولتا ہے بلکہ ٹھاٹھیں مارتا ہے اور وہ بھٹو کی طرح کامیاب وزیرِ خارجہ بھی ہیں‘ ماضی کی مانند کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ صدر ایوب کے وزیر خارجہ بھٹو کی طرح وزیراعظم عمران خان کا وزیرِ خارجہ بھی باغی ہو کر اپنی الگ پارٹی بنانے کیلئے کھڑا ہو جائے لہٰذا وزیر اعطم عمران خان کی خدمت میں عرض ہے کہ:۔

اپنی مٹی پہ چلنے کا ہُنر سیکھو

سنگ مر مر پہ چلو گے تو پھسل جائو گے


ای پیپر