زرداری کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ چہ معنی؟
01 جولائی 2019 2019-07-01

جمعہ کے روز قوم کو تین بریکنگ نیوز ملیں۔ قومی اسمبلی نے بجٹ منظور کرلیا۔ فنانس بل کی حمایت میں 176 اور مخالفت میں 146 ووٹ آئے۔ دوسری خبر یہ کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مشکل حکومتی فیصلے کامیاب بنانا سب کی ذمہ داری،ملک مشکل معاشی حالات سے دوچار،کوئی فرد واحد قومی اتحاد کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ۔ تیسری خبر یہ کہ سابق صدر اور مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اشارہ دیا ہے۔آرمی چیف کے حالیہ بیان سے واضح ہو گیاہے کہ اپوزیشن بجٹ کو ہر صورت میں نامنظور کرنا چاہ رہی تھی، اور اس کی بنیاد پر حکومت کے خلاف تحریک چلانا چاہ رہی تھی۔ اس نے بجٹ کے خلاف تو ووٹ کیا لیکن سڑکوں پر نہ آئی ۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

پاناما لیکس کے فیصلے کے بعد سیاسی فضا میں سیاسی بڑوں کی ریٹائرمنٹ کی بو آرہی تھی ۔پہلے نواز شریف اور بعد میں پیپلز پارٹی کے گرد حصار تنگ ہو نے لگا۔ ان اقدامات سے معلوم ہوا کہ سابق حکمران دو بڑی جماعتوں کو کھڈے لائن لگایا جارہا ہے۔ نواز شریف کو سزا ہوئی ، احتساب اور کرپشن کا بیانہ عوام میں مقبولیت حاصل کر چکا تھا۔اس سے بچنے کے لئے سابق صدر آصف علی زرداری نے سیاست شروع کی ۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ لاتے وقت دعوا کیا تھا کہ آئندہ وزیراعظم ہمارا ہوگا۔یہ اشارہ تھاکہ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔ اور سیاست سے الطاف حسین اور نواز شریف کو مائنس کرنا کافی ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی مائنس زرداری کی صورت پیپلزپارٹی کے ساتھ سیاسی ہمسفر بننے کا عندیہ دیا ہے۔

زرداری صاحب نواز لیگ کے خلاف اسٹبلشمنٹ کا ساتھ دیتے رہے۔ عمران خان اورعلامہ قادری سے بنانے کی کوشش کی ۔ بلوچستان میں زہری کو حکومت توڑنے، عبدالقدوس بزنجو کی حکومت لانے اور سینیٹ اور اس کے چیئرمین کے انتخابات میں اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے رہے۔انہیں باور کرایا گیا کہ عمران خان بطور وزیراعظم اسٹبلشمنٹ کے اتنے زیادہ پسندیدہ نہیں۔ لہٰذا ایک بار پھرپیپلزپارٹی کو اقتدار میں آنے کا موقع دیا جاسکتاہے،یا اقتدار کی شراکت میں بڑا رول دیا جاسکتا ہے۔یہی کھیل جنرل ضیاٗ الحق نے بھٹو کو سزائے موت دینے کے وقت کھیلا ، بڑے پگارا، غلام مصطفیٰ جتوئی سمیت بڑے سیاستدانوں کو وزیراعظم بنانے کی امید دلائی تھی۔ بعد میں معاملات بگڑنے لگے تو آصف زرداری آئندہ سیٹ اپ میں اپنے سرکردہ رول سے دستبردار ہو گئے، اور کہا کہ پیپلزپارٹی اپوزیشن میں بھی بیٹھنے کے لئے تیار ہے۔یعنی پی پی پی کو آئندہ سیٹ اپ میں گیم سے آؤٹ نہ کیا جائے۔

آصف زرداری نے چند ماہ پہلے’’ تین سالہ مدت والے ‘‘ لوگوں کا ذکر کیا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ مقررہ مدت والے لوگ آنے جانے والے ہیں۔میدان میں صرف سیاستدان ہی مستقل رہتا ہے۔ وہ اس طرح کا اظہار اس سے قبل بھی کر چکے ہیں۔ لگتا ہے کہ بعض فورمز پر یہ بات کہی گئی، اور ان تک یہ پیغام بھی پہنچا۔سرکاری اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے سمجھتے ہیں کہ ہر ایک مقررہ مدت کے بعد ریٹائر ہوتا ہے اور اس کے لئے کوئی مزاحمت نہیں ہوتی۔ جنرل اور جج خود کو سیاستدانوں کے مقابلے میں خود اعلیٰ پایے کا سمجھتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ پیشے کے لحاظ سے انہیں باقاعدہ تربیت حاصل ہے۔ اور ایک نقطے کے بعدریٹائر ہو کر انہیں واپس گھر جانا ہے۔

دوسری جانب یہ آپشن بھی میچوئر کیا گیاکہ نواز شریف اور آصف زرداری دونوں کو اب سیاست سے الگ ہو جاناچاہئے اورپنی اپنی سیاسی بادشاہتیں اپنی اولادوں کے حوالے کر کے خود جاکر آرام اور سکون کی زندگی گزاریں۔ خیال تھا کہ اگر دباؤ ڈالا جائے تو یہ دونوں رہنما ایسا کر سکتے ہیں۔ وہ رضاکارانہ طور پر ریٹار نہ ہوں کو انہیں اس طرف دھکیل دیا جائے کہ ان کے پاس ریٹائر منٹ ہی آپشن ہو۔ دونوں کے خلاف استعمال ہونے والا سب سے بڑا ہتھیار کرپشن اور احتساب کا جال ہے۔اس جال کی عوام میں مقبولیت بھی ہے۔

دسمبر میں ہی وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور نواز شریف کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔

نئے منظر نامے کے اشارے بہت پہلے جماعت اسلامی کے مولانا سراج الحق کی طرف سے آرہے تھے کہ ’’ نواز لیگ، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم تینوں ناکام ہو چکی ہیں‘‘۔ عدلیہ کے دو فیصلوں کے بعد نواز لیگ بھی مائنس ون ہو گئی۔ پیپلزپارٹی باقی تھی، اب اس کے خلاف بھی کارروائی ہورہی ہے۔

جب یہ یقین ہو گیا کہ منی لانڈرنگ کیس پک چکا ہے اور سابق صدر کی گرفتاری کسی بھی وقت ہو سکتی ہے ۔تحریک انصاف حکومت کے ان حملے سے بچنے کے لئے یہ دونوں جماعتیں ماہ رمضان میں حکومت پر دبائو ڈالنے کے لئے ایک دوسرے کے قریب آنا شروع ہوئیں،لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی۔یہ کام چھ آٹھ ماہ پہلے ہونا چاہئے تھا ۔ بالآخرآصف بھی گرفتار ہو گئے۔اب پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے دوبڑے جیل میں ہیں اور عملا غیر فعال ہیں۔ یہ ان کے میدان سے آئوٹ ہونے کا پیش خیمہ قرار دیا جارہا ہے ۔

کیا پیپلزپارٹی کو ریٹائرمنٹ کا دکھ جھیلنا پڑے گا؟ نواز لیگ اور پی پی پی دونوں مجبور ہو گئیں کہ اپنی نوجوان نسل کو سامنے لے آئیں، یہ صورتحال عملا بڑوں کی ریٹائرمنٹ ہی ہے۔ بجٹ کے موقع پر جماعتی کانفرنس میں ایک نکاتی ایجنڈا پر جمع ہوئی ۔

کل جماعتی کانفرنس رواں سال نومبر میں متوقع تبدیلی کی وجہ سے کوئی ٹھوس فیصلہ نہ کرسکی۔ اور بجٹ کے خلاف سڑکیں نہ سجانے کا پیغام بھی ملا۔ ایسے میں آصف زرداری نے ترپ کا پتہ پھینکا کہ انہوں نے سیاست سے ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے حالانکہ گزشتہ ہفتے ہی آصف زرداری نے کہا تھا ’’ ہم اتنے بھی کمزور نہیں ہیں صاحب۔‘‘ لیکن زرداری ریٹائر ہونے کا کہہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیںکہ مجھے اب اپنی زمین پر آرام کرنا ہے، میرا یہ وقت سیاسی محاذ پر کھیلنا نہیں بلکہ پوتے پوتیوں کو کھلانے کا وقت ہے۔ سیاست کے محاذ پر بلاول ہیں۔ زرداری کے اس فیصلے کی دو سیاسی توضیحات ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ چلو ہم ریٹائر ہو گئے، جس کے لئے’’ بڑے‘‘ زور دے رہے تھے، اب جس کی بھی مدت مکمل ہو رہی ہے وہ بھی ریٹائر ہو جائے۔ دوسری یہ کہ اہم ادارے کی سربراہ کی مدت میں توسیع کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے ، اور زرداری سمجھتے ہیں کہ اب بات لمبے بحر میں چلی گئی ہے، لہٰذا ریٹائر منٹ کے فیصلے کو قبول کر لیا جائے۔

اہم بات یہ ہے کہ سسٹم عمران خان کی حمایت کررہا۔ یعنی اداروںیا وہاں بیٹھے ہوئے افراد بھی عمران خان کے ساتھ ہیں، جس کو بعض حلقے مثبت امر قرار دے رہے ہیں ۔ دو سوال اپنی جگہ پر ہیں کہ اداروں کی سپورٹ کے باوجود حکومت کی معاشی کارکردگی اتنی اچھی نہیں جتنی ہونی چاہئے دوسرے یہ کہ ضروری نہیں کہ حکومت کو اداروں کی سپورٹ ہمیشہ رہے، ادارے اپنی سوچ تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔


ای پیپر