01 جولائی 2019 2019-07-01

محترم مختار مسعود مرحوم کانام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ ایک نیک نام، نامور اور صاحب ِ درد بیوروکریٹ ہی نہیں بلکہ ایک صاحبِ طرز نثر نگار اور خوب صورت انشاء پرداز بھی تھے۔ آپ نے سکول سے لیکر کالج اور یونیورسٹی تک کی تعلیم مُسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے حاصل کی۔ قیامِ پاکستانِ کے بعد منعقد ہونے والے مقابلے کے پہلے امتحان میں شریک ہو کر کامیابی حاصل کی اور سول سروس میں شامل ہوئے۔ آپ اپنی ملازمت کے دوران مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور جہاں اپنی محنت ، لگن ، دردمندی ، اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور وطن سے گہری محبت اور لگاو کی بنا پر نیک نامی کمائی وہاں اپنی اعلیٰ پایے کی تصانیف کی بنا پر علمی اور ادبی حلقوں میں بڑا اونچا مقام بھی حاصل کیا۔ "آوازِ دوست "، سفر نصیب"،"لوحِ ایام"اور "حرفِ شوق " آپ کی تصانیف ہیں جن کا شمار بلاشبہ ادب ِ عالیہ میں کیا جاتا ہے ۔ آ پ کی تحریر میں الفاظ کا جو حُسن، اظہار کا جو پیرایہ، تاریخ کاجو شعور، تہذیب کی جو آگاہی ، بیتے زمانوں کی جو تصویر کشی ، حال کی جو منظر کشی، فردا کی جو عکس بندی، خیالات کی جو گہرائی اور بلندی اور سوچ اور فکر کی جو لانی اور درد مندی پائی جاتی ہے اس کا ثانی ملنا ناممکن نہیں تو محال ضرور ہے۔ "حرفِ شوق " آپ کی چوتھی تصنیف ہے یہ ضخیم کتاب 2017میں آپ کی وفات کے بعد شائع ہوئی۔ اِس کے آخر میں "اختتامیہ" کے عنوان سے جو سطور تحریر کی گئی ہیں اس میں انھوں نے اپنی زندگی کی کہانی بیان کرنے اور اپنے ایک مرحوم دوست سے علی گڑھ کی سب سے اہم اور منفرد عمارت کا قصہ سُنانے کا وعدہ ایفا کرنے کو اس کتا ب کے لکھنے کا مقصد بیان کیا ہے۔ کیا خوب صورت اور فکر انگیز تحریر ہے ۔

وہ لکھتے ہیں " میری زندگی کی کہانی ایک ایسے انقلاب سے عبارت ہے جس میں میرے بچپن نے آنکھ کھولی اور میری جوانی نے ہوش سنبھالا۔ یہ کہانی آج بھی تاروں کی چھائوں اور چڑیوں کی چہکار میں اسی طرح چاق و چوبند اور رواں دواں ہے ۔ اس صبح انقلاب کو دیکھنے کے لیے زندہ ہونا ایک سعادت تھی اور یہ سعادت بھی اس پار اور اُس پار کے علی گڑھ کے درمیان تھی! دراصل یہ ایسی خود شناسی اور جنوں کی داستان تھی جو کبھی پرانی نہیں ہو سکتی بلکہ زمانہ اسے بار بار دُہراتا ہے، فرق صرف نام ، مقام اور وقت کا ہوتا ہے۔۔۔ نام جو بدل سکتا ہے ، مقام جو پیچھے رہ جاتا ہے اور وقت جو کبھی تیزی اور کھبی آہستگی سے ہاتھوں سے ریت کی مانند پھسل جاتا ہے۔ ۔۔۔۔ اسی لیے میری یہ داستان ایسے موڑ پر پہنچ کر ختم ہوتی ہے جب میرے وہ ساتھی اپنا راستہ بدل چکے تھے جن کے ساتھ میں نے زندگی شروع کی تھی۔"

"ایک دن ، کم از کم دو نسلوں کے حائل ہو جانے کے بعد ، میں نے بچپن کے ایک ساتھی سے اپنے عہد

کے علی گڑھ کی سب سے اہم اور منفرد عمارت کا قصہ سُنانے کا وعدہ کیا تھا یہ کتاب اسی وعدے کی تکمیل ہے مجھے خوشی ہے بفضلہ یہ وعدہ وفا ہو سکا۔ آج و ہ دوست جس کی فرمائش پر میں نے یہ کہانی سُنائی مجھے کہیں بھی نظر نہیں آرہا ، غالباً میں نے لکھنے میں دیر کر دی یا اُسے جانے کی جلدی تھی۔۔۔۔ ؟ چند احباب جو یاد آرہے ہیں وہ سب اس جہان سے کوچ کر چکے ہیں لیکن ایک مصنف کے حیثیت سے وہ میرے لیے اب بھی زندہ ہیں، ان کی رفاقت اور محبت کی یاد خوش کن بھی ہے اور دل نواز بھی! یہ اس داستان کی باز آفرینی کا سبب ہے مگر یہ کسے معلوم تھا کہ آج جب یہ کہانی اپنی تکمیل کو چھو چکی ہے تو وہ جو اس کے مرکزی کردار تھے یوں سب کے لیے "حرفِ شوق " بن کر رہ جائیں گے۔۔۔۔ انھیں جانے کی جلدی تھی یا میرے رب کی رضا اسی میں تھی کہ اس کہانی کے منظر عام پر آنے سے پہلے وہ دُنیا سے گزر جائیں۔۔۔۔۔"

میں سپاسِ تشکر کے طور پر یہ کہنا چاہوں گا کہ میں نے ان کی کتاب "آواز دوست" پچھلی صدی کی ستر کی دھائی میںجب یہ پہلی بار چھپی تھی تو پڑھی تھی ۔ از کجا می آید ایں آوازِ دوست۔۔۔۔! "قحط الرجال" اور" مینارِ پاکستان" اس کے دو طویل مضمون ہیں۔ خوب صور ت نثر کے ساتھ فکر کی کیا گہرائی ، بلندی اور درد مندی پائی جاتی ہے ۔ یہ کتاب کتنے عرصے میرے سرہانے پڑی رہی ۔ ملکی حالات اور پاکستان کے مُستقبل کے حوالے سے دل پریشان ہوتا تو میں اس کا کوئی نہ کوئی صفحہ کھول کر پڑھنے بیٹھ جاتا۔ ایک اور کتاب بھی تھی جسے میں نے بہت عرصہ اپنے سرہانے جگہ دیئے رکھی یہ مشہور ادیبہ اور ناول نگار محترمہ الطاف فاطمہ مرحومہ کا ناول "چلتا مسافر" تھا۔ سقوط مشرقی پاکستان کے پس منظر میں لکھا ہو ا یہ ناول دل و دماغ کے تاروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ میں نے کتنے ہی اپنے محترم ساتھیوں کو جن میں شاگردِ عزیز ڈاکٹر ندیم اکرام ہیڈ آف پیتھالوجی ڈیپاڑمنٹ بینظیر ہسپتال راولپنڈی جو اعلیٰ کتابوں کے پڑھنے کے بڑے رسیا ہیں۔ اس ناول کے پڑھنے کی سفارش کی ۔ ڈاکٹر ندیم اکرام نے یہ ناول پڑھنے کے بعد میرے انتخاب کی داد دی۔

خیربات محترم مختار مسعو د کی تصانیف کی ہورہی تھی"آوازِ دوست" اور" حرفِ شوق " کے علاوہ "سفر نصیب" اور "لوح ایام" ان کے دو اور قابل قدر تصانیف ہیں۔ جنھون نے اہلِ سخن سے بے پناہ داد سمیٹی ۔" سفر نصیب"میں نے اپنی جیب سے خریدی تھی افسوس کہ کوئی دوست پڑھنے کے لیے لے گئے اور واپس نہیں کی۔ "لوحِ ایام" شاید میں پوری نہ پڑھ سکا اس کے جستہ جستہ اور چیدہ چیدہ باب ضرور پڑھے ۔ اب فرصت ہو اور کتا ب مہیاہو تو دل کرتا ہے کہ اس کو صفحہ در صفحہ پورے دھیان اور انہماک سے پڑھوں۔ "حرفِ شوق " پچھلے ایک آدھ سال سے میرے زیرِ مطالعہ ہے اس کے کچھ حصے میں نے بار بار پڑھے ہیں اور ہر بار ایک نیا لُطف ہی محسوس نہیں ہوا ہے بلکہ سوچ اور فکر میں بالیدگی بھی پیدا ہوئی ہے ۔ "حرفِ شوق "کے بیک ٹائٹل پر" تحسین سخن شناس "کے عنوان سے محترم مختار مسعود کی چاروں تصانیف کے بارے میں کچھ تعارفی اور توصیفی کلمات لکھے ہوئے ہیں جو پڑھنے کے لائق ہیں ۔

"آوازِ دوست " کا تعارف کچھ اس طرح ہے "لفظ لفظ قابلِ داد، بعض فقرے لاجواب اور بعض صفحات داد سے بالاتر"۔" سفر نصیب "کے بارے میںلکھا گیا ہے "چشمِ بینا کا سفر جو زادِ حیات سمیٹے تلاشِ حق میں سر گرداں ہے۔ اس میں شامل دو خاکے اُردو کے بہترین خاکوں میں شمار کئے جاسکتے ہیں"۔"لوحِ ایام" کا تعارف ان الفاظ میں کرایا گیا ہے " موضوع ایران کا انقلاب، مخاطب اہلِ پاکستان، لکھنے والا انقلاب کا چشم دید گواہ، واقعات حیران کن ، بیان مسحور کن، نتیجہ ایک منفرد ادبی شاہکار۔" "حرفِ شوق " کی رونمائی ان الفاظ میں کی گئی ہے "آنے والی نسلیں اس تحریر میں دیکھ کر کہہ سکیں گی کہ حال کو ماضی سے مربوط کرکے امروز کے آئینہ میں فردا کی تلاش کیسے کی جاسکتی ہے"۔

محترم مختار مسعود مرحوم کی ان تصانیف کے بارے میں مزید بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ۔ زندگی کی بے ہنگم مصروفیات نے مہلت دی تو انشاء اللہ اس حوالے سے مزید کچھ کالموں میں اظہار ِ خیال ہوگا۔یار زندہ صحبت باقی!


ای پیپر