ہمارے ناخوش ہمسائے
01 جولائی 2019 2019-07-01

یہ بحث پاک افغان کرکٹ میچ سے شروع ہوئی۔ جھگڑا گالی گلوچ سے ڈنڈوں اور لاتوں گھونسوں تک پہنچا۔ میڈیا میں آیا اور سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی مانند پھیل گیا۔ جتنے منہ اتنی باتیں، معمولی سا واقعہ قومی تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔ الزام در الزام ، نفرت اور غصہ بین السطور نظر آیا۔ لیکن یہ صرف افغان قوم اور پاکستانی قوم کا باہمی مسئلہ نہیں ہے۔اس خطے میں ہمارے جتنے بھی ہمسائے ہیں۔ تقریبا ان سب کے ساتھ یہی مسائل ہیں۔

بھارتی ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ کیونکہ ہماری طرح انہیں بھی یہی بتایا گیا ہے۔ ہم دشمن ہیں۔ بھارتی مسلم ہمیں ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ اس دشمنی کی وہ مسلسل قیمت چکاتے ہیں۔

افغانی ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں۔ امریکہ اور روس کی سرد جنگ ان کے ملک میں لڑی گئی۔ امریکہ نے روس کو شکست دی۔ دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا۔ جبکہ افغانستان تباہ و برباد ہو گیا۔ اور اس کے لاکھوں لوگ مارے گئے۔ پاکستان کے کچھ پاور فل لوگوں نے ڈالروں سے اپنی تجوریاں بھر لیں۔ اور عام لوگوں کو بتایا گیا۔ اگر روس کو افغانستان میں نہ روکا گیا تو اگلا ٹارگٹ پاکستان ہو گا۔ اور پھر نامعلوم طریقے سے اس سرد جنگ کو جہاد کا نام دے دیا گیا۔ جب سرد جنگ ختم ہوئی تو تزویراتی گہرائی کے نام پر افغانستان پر قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش جاری رہی۔ اور طالبان پیدا کیے گئے۔ جب امریکہ نے پتھر کے زمانے میں واپس پہنچانے کی دھمکی دی۔ تو گڈ کاپ اور بیڈ کاپ کا کھیل شروع کیا گیا۔ اور ایک بار پھر ڈالر کمائے گئے۔ جب ٹی ٹی پی اٹھائی گئی۔ تو ٹی ٹی پی کو ختم کرنے کے نام پر اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت کے نام پر پھر ڈالر کمائے گئے۔ اور جب افغانیوں نے ایک آزاد ملک کے طور پر رہنے کی خواہش کی۔ تو انہیں نمک حرام کہا گیا۔ مہاجر کہہ کر ان کی ذلت کی گئی۔ کہا جاتا ہے۔ پاکستان نے بھی اس جنگ میں بے پناہ نقصان اٹھایا۔ ہمارے اسی ہزار لوگ مارے گئے۔ ایک سو ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا۔ ہم بھی کہتے ہیں۔ یہ ظلم ہوا۔ پوری افغان قوم اور پاکستانی قوم پر ظلم ہوا۔ ہم آج بھی اس جنگ کے ہولناک نتائج بھگت رہے ہیں۔ لیکن اس کا سبب کون ہے۔ آج ہم اسی روس کو گرم پانیوں تک آنے کی اجازت دے چکے ہیں۔ گوادر پورٹ کا حصہ بننے کی اجازت دے چکے ہیں۔ اور اسی روس کے ساتھ تاریخ کا سب سے بڑا اسلحہ خریدنے کا معاہدہ کرنے جا رہے ہیں۔ جس کو روکنا کبھی ہمارا مذہبی فرض بن چکا تھا۔

ایرانی ہم سے ناراض ہیں۔ کیونکہ ہم افغان اور سعودی اور امریکی پالیسیوں کی وجہ سے ان کا احترام نہیں کرتے۔ ایرانی صدر ہمارے دورے پر آتا ہے۔ اور کلبھوشن نکال لیتے ہیں۔

بنگلہ دیش کی دشمنی واضع ہے۔

اور چینی ہم سے ناراض ہیں۔ کونکہ ہم سی پیک پر ریاستی معاہدوں کے تقدس کو قائم نہیں رکھ سکے۔ ان پر ایسٹ انڈیا کمپنی ہونے کا الزام لگاتے رہے۔ وہ ہمارے ملک میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری لائے اور ہم یہ کہتے رہے۔ وہ ہم پر معاشی قبضہ کرنے آئے ہیں۔ ہم نے میڈیا میں کھلے عام کہا۔ چینی کرپٹ ہیں۔ ان کے حکومتی اہلکار کرپٹ ہیں۔ چینی حکومت نے بار بار درخواست کی۔ ہمارے ملک میں کرپشن پر سخت سزائیں ہیں۔ ہمیں ثبوت دیں۔ اور پھر ہم نے چینیوں پر انسانی اسمگلنگ اور خواتین کے اغواء کا الزام لگا دیا۔ چینی ان خواتین کے اعضاء نکال کر بیچ دیتے ہیں۔ ہمارے نجی چینلز پر بوجہ باقائدہ مہم چلائی گئی۔ پروپیگنڈہ کیا گیا۔ لیکن کوئی ثبوت پیش نہ کیا گیا۔ نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ میں چین کے خلاف مضمون لکھے گئے۔ چین کا بین الاقوامی امیج خراب کیا گیا۔

بھارت ، افغانستان، ایران ، چینی اور بنگلہ دیش ہمارے ہمسائے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے کوئی ہم سے خوش نہیں۔ اور یہی بات قابل غور ہے۔


ای پیپر