کہے کا پاس اب متروک ہوا
01 جولائی 2019 2019-07-01

عمران خان کہتے ہیں کہ موجودہ خرابی کے ذمہ دار سابق حکمران ہیں اور منی لانڈرنگ کے تمام راستے بند کردیں گے وہ کوشش بھی کررہے ہیں کہ ڈوبتی معیشت کی کشتی کنارے لگائی جائے مگر بطور اپوزیشن لیڈر جو کچھ غلط کہتے رہے ہیں اب وہی کچھ کرنے پر مجبور ہیں مثال کے طور پراپوزیشن میں ہوتے ہوئے انھیں قرضے لینے پر سخت اعتراض تھا اور قرضے نہ لینے کے حل بھی بتاتے تھے لیکن اب وہ بھی قرضے لیکر ہی امورِ مملکت چلانے پر مجبور ہیں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے خودکشی کرنے کا عزم ظاہر کرتے تھے لیکن حکومت میں آکر اُنھیں معلوم ہوا ہے کہ معیشت کی بہتری آئی ایم ایف سے قرض لیے بنا ممکن ہی نہیں تیل کی بڑھتی قیمتوں پر بھی معترض تھے مگر حکومت میں آکر 19.5 ارب ڈالر کا بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے پڑول کی قیمتوں میں اضافہ کولازم تصور کرتے ہیں جب کنٹینر پر سوا ر شام ڈھلتے وہ تقریر کرتے تو اکثر دہراتے کہ جب مہنگائی بڑھنے لگے تو سمجھ لیں حکمران چور ہیں حیرانگی کی بات یہ ہے کہ حکومت میں آکرہونے والی مہنگائی پر لب کُشائی سے گریزاں ہیں اور خواہشمند ہیں کہ عوام بھی خاموش رہے۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف فرماتے ہیں وزیرِ اعظم کی کابینہ ناکام اور ناکامی کا حل نئے انتخابات ہیں عجیب بات یہ ہے کہ جب وہ حکومت میں تھے تو اپوزیشن کی تنقید سے چڑ کھاتے تھے عمران خان نے چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تاکہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کا پتہ چل سکے تو شہباز شریف غصے میں آجاتے اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کا مطالبہ کرتے آج نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے وہ یکسر اس بات کو نظر انداز کرجاتے ہیں کہ وہ اَن گنت بار کہہ چکے ہیں کہ جس کو عوام منتخب کریں اُسے حکومت کرنے کا موقع دیا جائے اور اگلے الیکشن کا انتظار کیا جائے تاکہ عوام کو محاسبے کا موقع مل سکے مگر اب کیونکہ وہ حکومت سے باہر ہیں اورعوام نے عمران خان کو منتخب کر لیا ہے جس پر شہباز شریف خفا ہیں شاید اُنھیں یقین ہے کہ پاکستان میں اقتدار کے لیے صرف اُنھی کا گھرانہ ہے لیکن اُن کا یقین غلط ثابت ہو گیا ہے الیکشن کو ایک برس سے بھی کم عرصہ گزرا ہے مگر انھیں الیکشن کی یاد آنے لگی ہے زرداری کو بھی وہ لاہور،کراچی اور سکھر کی سڑکوں پر گھسیٹنے کا عزم ظاہر کرتے تھے مگر آصف زرداری کی گرفتاری پراب حیران ہیں اوراِتنے مہربان ہیں کہ زرداری کی رہائی کے لیے پُرعزم ہیں ۔

ہمارے ملک میں عوام کو تو بھولنے کی عادت ہے ہی حکمرانوں کو بھی اپنا کہا یاد نہیں رہتا اب تو میڈیا کا دوردورہ ہے اسی لیے کبھی کبھار کوئی صحافی کسی رہنما کو کیاوعدہ یاد کرادے تو جلا بُھنا جواب ملتا ہے یا کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق بات گھما پھرا کر دامن بچانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اگر فواد چوہدری جیسے ہتھ چُھٹ کو بات یاد کراتے ہوئے تنقید کی جائے تو تھپڑبھی لگ سکتا ہے یادرہے سیاسی رہنما اپوزیشن کے دور میںجتنے حلیم الطبع،شفیق اور وسیع الظرف نظر آتے ہیں وہی حکومت میں آتے ہی اِتنے نازک مزاج ہوجاتے ہیں کہ ہر بات اُنھیں گراں گزرتی ہے زرا زراسی بات پر ہتھے سے اُکھڑ جاتے ہیں اسی لیے کسی کے کہے کی نشاندہی کرتے ہوئے محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ نشاندہی کی جسارت ہوجائے تو بھڑکنے والے کے ہاتھوں عزت بچانا مشکل ہوسکتا ہے ۔

مسلم لیگ ن کے دور میں منتخب نمائندوں کی قدر محض اِس لیے تھی کہ اسمبلیوں میں اُنھی کے ووٹوں سے قائدِ ایوان کا منصب ملتا ہے لیکن یہی ممبرانِ اسمبلی عملی طور پر عضومعطل کے سوا کچھ نہ تھے کیونکہ غیر منتخب دوست احباب کو ذمہ داریاں سونپ رکھی تھیں جس پر عمران خان سخت تنقید کرتے ممبرانِ اسمبلی کی وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلٰی تک رسائی بمشکل ہوتی رانا ثنا اللہ جیسے لوگ ہی ٹرخا دیتے ایک ممبر اسمبلی نجی محفل میں اپنے رہنما سے ملنے کی روداد بتاتے ہوئے خاصے جذباتی انداز میں فرما رہے تھے کہ گھر سے کلف لگا سوٹ پہن کر گئے تھے مگر داخل ہوتے ہوئے اِتنی بار تلاشی ہوئی کہ پورے لباس پر شکنیں پڑ گئیں ایسا لگتا جیسے بستر سے اُٹھ کر ملنے آ پہنچے ہیں وہ اکثر کہتے اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کرتا ہوں مگر تذلیل کے باوجود جماعت کو تب خیرباد کہا جب ٹکٹ ملنے کی کوئی آس نہ رہی شاید رہنمائوں کو بھی ادراک ہے کہ یہ لوگ کہیں او رجا ہی نہیں سکتے اِس لیے زیادہ سر چڑھانے کی ضرورت نہیں اگر رہنما اپنے کہے سے پھر جاتے ہیں تو کارکن بھی اب اسی ڈگر پر چل پڑے ہیں کل تک جو آوے آوے کے نعرے لگاتے ہیں عین ممکن ہے آج جاوے جاوے کے نعرے لگاتے نظر آئیں نظریات کی بجائے جماعتیں مفاد کی خاطر تبدیل کی جاتی ہیں کبھی صدقے واری ہونے والے تنقید کے نشتر چلانے میں مضائقہ نہیں سمجھتے اب بھی کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا غیر منتخب افراد کی بڑی تعداد پاس اہم منصب ہیں اور ایسا ظاہر کیا جارہا ہے جیسے یہ نہ ہوں تو امورِ مملکت چل ہی نہیں سکتے۔

بات یہ نہیں کہ کوئی کیا کرتا یا کہتا ہے یا جماعت کیوں بدلتا ہے مگر کہے کاکچھ پاس تو رکھنا چاہیے گرگٹ بھی رنگ بدلنے میں کچھ وقت لگاتا ہے لیکن رائج سیاست میں تو انداز بدلنے اور گفتار بدلنے میں کوئی وقت نہیں لگایا جاتابلکہ ایسا وقت آگیا ہے کہ اب تو جواز پیش کرنے کا تکلف بھی ختم ہورہا ہے جو جماعت اقتدار میں آتی ہے لوگ اُسی کی طرف بھاگنے لگتے ہیں اور اپوزیشن میں آجائے تو کیڑے نکالتے ہوئے نئی جائے پناہ کی طرف منہ پھیر لیتے ہیں اسی بات کی رہنمائوں کو بھی سمجھ آگئی ہے اِ س لیے وہ اقدار کو اہمیت نہیں یتے اُن کا مطمح نظراقتدارہے جس کے لیے کسی اصول ،اخلاق کی قربانی بھی دینی پڑے تو بے دریغ ایساکر گزرتے ہیں ۔


ای پیپر