بد انتظامی
01 جولائی 2019 2019-07-01

اک طرف تمام طبقات سرکا ر کی اعلان کر دہ ٹیکس سکیم کی کامیابی کی دوڑ میں معروف ہیں، سربراہ حکومت بھی اپنے خطبات کے ذریعہ ان تمام سرمایہ داروں اور کالا دھن کے حامل "معززین "قوم سے بار بار اپیل کر چکے ہیں کہ وہ اس ’’کا رخیر‘‘ میں شریک ہو کر قومی خزانہ میں ٹیکس جمع کر وا کر آ شیربادحاصل کر یں تا کہ’’ گلشن‘‘ کا کاروبار چلتا رہے ۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ با وردی حکومتوں سے لے کر سویلین سر براہان تک سب نے اس نوع کی سکیم کو متعارف کر وایا تھا اور اس انداز میں ناجائز دولت اور سرمایہ کو تحفظ فراہم کر نے کی وکھری ٹائپ کیـ"قومی خدمت "انجام دی جاتی رہی ، کپتا ن جی کا معا ملہ ذرا مختلف اس لئے ہے کہ بار بار اپیل کے باوجود سماج کے لاڈلے سرمایہ کار انکی آواز پے کان نہیں دھر رہے اور متعارفی سکیم کی کامیابی کے احکا مات زیادہ روشن دکھائی نہیں دیتے ۔امکان ہے کہ اسکی تاریخ میں توسیع کے بغیر چارہ نہیں کیونکہ اس وقت بیرونی سرمایہ کاری کارخ بھی "مدینہ ریاست "کی طرف نہیں ہے جبکہ امریکا کا ڈالر آسمان سے باتیں کر رہا ہے جس کے اثرات کارو باری اور صنعتی طبقہ پر نمایا دکھا ئی دیتے ہیں اپوزیشن سر کار کی معاشی پالیسیوں کو صرف تنقید بنا رہی ہے لیکن کپتان جی کیلئے حوصلہ افزاء خبر یہ ہے کہ عصر حاضر کے سپہ سالا ران کے حوصلے بلند کرنے میں معروف ہیں او وہ قوم سے بھی اک ہونے کی استدعا کر رہے ہیں نہیں معلوم کہ بے نامی جائیدادوں کے مالکین انکی درخواست کے باوجود قوم کا حصہ بنتے ہیں یا نہیں تا ہم معاشی مشکلات سے کسی کو بھی انکار نہیں ۔

عام شہری کے ذہن میں اک سوال تو ضرورر پیدا ہو تا ہے کہ جب ریاست سے بڑا کوئی طاقتور ہی نہیں، تمام سرکاری ادارے بھی اپنے فرائض منصبی جان فشانی سے انجام دیتے ہیں، آڈٹ سے لے کر بینکنگ کا نظام یہاں نافذ ا لعمل ہے وزرا ء کرام کی فوج ظفر موج ہر عہد میں رہی ہے ، ایسے نامور باوردی حکمران بھی گزرے ہیں کہ جن کی مرضی کے بغیر کوئی پر نہیں مار سکتا تھا بعض گورنرز کا توطو طی بولتا تھا جن کا نام سن کر افسر شاہی کانپ اٹھتی تھی تو پھر ان سرمایہ داروں کی یہ مجال کیسے کہ وہ ریاست ہی کی رٹ کو چیلنج کر تے ہوئے اسکے اندر ا پنی ریاست قائم کر لیں اور آج سر براہ حکومت تر لوں ،منتو ں سے ٹیکس جمع کر وانے اور بے نامی جا ئیدادوں کو ظاہر کرنے کی استدعا ء کر تا پا یاجائے ۔

غیر جانبدا ر حلقوں کا بر ملا یہ کہنا ہے کہ اس نوع کی سرمایہ کاری اور جائیدادوں کی خرید و فروخت سرکار کی چھتری کے تلے ہر عہد میں ہوتی رہی ہے ۔عہد ایوبی میں اگربائیس خاندانوں کے دولت ارتکا ز کر نے کا شہرہ تھا تو آج انکی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ جن کے ڈنڈے اشرافیہ سے ملتے ہیں جو انھیں ہر دور میں تحفظ فراہم کر تی رہی ہے، فی زمانہ’’ نعرہ تبدیلی‘‘ کے باوجود اسی طبقہ کا دست شفقت ان کے سروں پے موجود ہے جو اس سکیم کی ناکامی کو کندھا دے رہے ہیں ۔قومی سرمایہ کاراندرونی ملک چند ہاتھوں میں جمع ہونا ور بیرون ملک غیر قانونی طور پر جانا بد انتظامی کی بد ترین مثال ہے ۔ جس سے ہر عہد کے حکمران صرف نظر کر تے ہیں آج یہ عالم ہے کہ مفت کی پی کر فاقہ مستی کے رنگ لانے کی امیدسے کاروبار حکومت چلا رہے ہیں ۔اگر قومی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی ادنی سی بھی کاوش کی جاتی تو صورت حال میں نمایا ں فرق دکھائی دیتا ۔

اس سر زمین پے انفارمیشن ٹیکنا لوجی کو متعارف ہوئے تین دہائیاں ہو چکی ہیں اس عرصہ ہی سے کاروباری حضرات سے لے کر خوانچہ فروش تک کا ڈیٹا کا ریکارڈ پر لانے کی جسارت کی ہوتی تو از خود ٹیکس سرکار کے خزانے میں جمع ہوتا رہتا موجودہ بجٹ میں ٹیکسوں کا بوجھ عام آدمی پر ڈالنے کی ضرور ت کم ہی محسوس ہوئی ۔

کپتان جی نے اپنے فرمودات میں کہا کہ قوم ٹیکس ادا نہیں کر تی ۔ موصوف کے اقتدار میں آنے سے قبل خیالات چنداں مختلف تھے اس وقت انکی نظر میں قوم محب وطن اور ہر قسم کا ٹیکس ادا کرتی ہے جبکہ حکمران چور تھے آج وہ ٹیکس چوری کا الزام قوم پے دھر رہے ہیں خود کو کس مقا م پے دیکھتے ہیں اسکا فیصلہ ان پے چھوڑتے ہیں۔

لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ عام شہری سے لے کر صنعت کار ان ڈائریکٹ ٹیکس ہر شے کی خریداری پے ادا کرتا ہے یہ الگ بات کہ یہ ٹیکس سرکاری بد انتظامی کے باعث قومی خزانے میں جانے کی بجائے مخصوص طبقات کی جیب میں چلا جاتا ہے اس سماج میں اگر کوئی تیکس نادہندہ ہے تو وہ اشرافیہ کی کلاس ہے ۔جو کسی نہ کسی شکل میں شریک اقتدار رہتی ہے اس لیے وہ کوئی ایسی پالیسی وضع نہیں کر نے دیتی جسکی زد میں یہ کلاس آتی ہے اگر بادل نخواستہ کوئی پالیسی افسر شاہی اپنے بل بوتے پر مرتب کر ے تو انھی میں سے سرکاری اہلکاران کو چور دو وزروں کی خبر دیتے ہیں جس کے ذریعہ سے ٹیکس کی ادائیگی سے صاف بچ نکلنا انتہائی آسان ہے ۔

المیہ یہ ہے کہ اک طرف ہر شہر ی سے ادا شدہ ٹیکس سرکار کے ہاتھوں میں جاتا نہیں تو دوسری طرف سرکاری فنڈ ز کے استعمال کی خرد برد قومی سرمایہ کے ضیاع کا باعث بنتی ہے ۔گذ شتہ دنوں اک معروف ٹی وی پروگرام میںعالمی سطح کے ماہر محکمہ صحت سے متعلقہ ڈاکٹر پر شکوہ تھے کہ چھوٹے چھو ٹے بنیادی مر کز صحت میں بھاری بھر کم مشینری اس لیے خرید کر لی جاتی ہے کہ اسکی وساطت سے مالی سال کے خاتمہ سے قبل بجٹ کو ہر حال میں خرچ کر نا اور اس ذریعہ’’ ڈیل‘‘ کر کے کمیشن کو ذاتی استعمال میں لانا بھی ہوتا ہے حالانکہ بہتر منصوبہ بندی سے سرکار ی فنڈ کا بہترین استعمال مریضوں کو مزید سہو لت فراہم کرنے کا باعث بن سکتا ہے ۔

حلقہ احباب میںسے ایک سنیئر ڈاکٹر جو پنجاب میں ایک ضلعی ہیڈ کوارٹرہسپتال کے سربراہ بنے انکی ایما نداری انکے آڑے آگئی اور وہ ڈپریشن کے خود مریض بن گئے ضلعی افسر شاہی کے نادر افسرنے ناقص انتظاما ت کا بہانہ بنا کرکے انکے ناک میں دم کیے رکھا باوجود اس کے کہ انھوں نے ہسپتال میں خاطر خواہ اصلا حات کر کے مریضوں کی زندگی کو سہل بنا یا تھا انکا جرم صرف یہ تھا کہ وہ مذکورہ افسر شاہی کی ماہانہ کی بنیاد پر جیب گرم کرنے کو "قومی گنا ہ "خیال کر تے تھے جبکہ ان کے پیش رو یہ فریضہ انجام دیتے رہے ان کے جانے سے انکا "حقہ پانی "بند ہو گیا تھا ۔

سر کاری اداروں کو فراہم کر دہ بجٹ میں کرپشن کی ان گنت مثالیں موجود ہیں ،کرپشن کے خاتمے کا علم بلند کرنے کے باوجود اس نوع کی خرافات سرکاری اداروں میں تاحال موجود ہیں، البتہ اس میںکمی کی باز گشت سنائی دے رہی ہے ۔

ایمنسٹی سکیم کے ذریعہ سماج کے دولت مندوں کو قانونی راستہ فراہم کر کے ان سے ٹیکس نکلوانا اور انہیں ٹیکس نیٹ ورک میں لانا ہی وقت کا تقاضا نہیں بلکہ بد انتظامی کو بھی روکنا ، قومی اداروں میں شفافیت لانا ،بجٹ کے بر وقت اور صحیح مقصد کیلئے زیر استعمال لانا، ہمہ قسم کے کمیشن مافیا کی حوصلہ شکنی کر نا ، بدعنوان سرکاری افسران کے گرد گھیرا تنگ کرنا اور قومی سرمایہ کو تحفظ فراہم کرنا ،اس سکیم سے زیادہ نا گزیر ہے۔

قومی معیشت کو دستاویزی انداز میں نافذ کر نے کے سوا اب کوئی چارہ نہیں تاکہ آئند ہ کسی حکومت کو اس نوع کی سکیم متعارف کر وانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے ۔ لیکن اسکی آڑ میں عوام پے عرصہ حیات تنگ کرنا دانشمندی نہیں۔


ای پیپر