دَست شناسی،مردم شناسی اور کردار سازی
01 جولائی 2019 2019-07-01

سن 2011/12 ء کی بات ہو گی سرکاری غلامی بھی چل رہی تھی اور کالم نگاری بھی ۔ ایک دن سینئر صحافی جناب سید جواد شمسی بھی آئے ہوئے تھے۔ دفتر میں درجن بھر کولیگز موجود تھے۔ کچھ فقہ، علم، تقویٰ اور جوتش کے دعوے پر سینئر بننے کی کوشش کر رہے تھے۔ خوابوں کی تعبیر ، بچھو کے کاٹے کا علاج، طب نبوی، ایلوپیتھی، ہومیو پیتھی، مسائل کے روحانی، قانونی اور مذہبی حل بتانا اور پھر بغیر پوچھے بتانا ان صاحبان کا کمال تھا۔ دفتروں ، محافل اور دیگر جگہوں پر آج کل اگر سیاست سیات نہ کھیلی جائے تو مذہب مذہب اور فقہ فقہ لازم کھیلی جاتی ہے۔ مذہب پر خوب علمیت کا اظہار ہوتاہے ،کھرل، رضوی، مگسی، بھٹی، جٹ اور بٹ سبھی موجود تھے۔ ایک دست شناس تھے انہوں نے میرا ہاتھ دیکھا اپنی رائے دی، پھر ایک ہمارے دوست مگسی صاحب تھے جنہیں آتا صرف سر دیکھنا تھا مگر وہ بھی ہر ایک کا ہاتھ دیکھ رہے تھے۔ آئمہ کرام کا تذکرہ دست شناسی اور مردم شناسی کا سلسلہ جاری تھا میں نے ایک دوست جو کافی دولت مند ہو چکے تھے مگر روزہ، نماز، رشوت ، زکوٰۃ کے پابند تھے۔ ان صاحب کا میں نے ہاتھ پکڑا اور دیکھنا شروع کر دیا۔ اب میری جانے بلا کہ دست شناسی کیا ہے میں نے اُن کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ ماشاء اللہ زبردست قسمت ہے۔ وہ متوجہ ہوئے اور شکر گزاری کے تاثرات کے ساتھ اپنے وجود کندھوں کو سمیٹتے ہوئے میری تعریف کر دی کہ آپ کی مہربانی ہے میںنے کہا نہیں یہ اللہ کا کرم ہے۔ آپ کا ہاتھ بتاتا ہے کہ آپ جیسی کسی کی قسمت نہیں۔ لاجواب ہے، بے مثال ہے۔ عقل ، دانش، فہم، دین کی سمجھ، عزت ، شہرت ، دولت، اولاد، سکون سب کچھ ہے۔ وہ سن کر اپنے مخصوص انداز میں بدن سمیٹے ہوئے خوشی سے سرخ ہوتی ہوئی آنکھیں، چہرے کا رنگ اور کندھوں کو یوں سمیٹے جا رہے تھے کہ کندھے کانوں کو کیا آپس میں ہی نہ مل جائیں۔ میں نے ان کی خوش قسمتی کی اتنی تعریف کی کہ کمرے میں موجود دوست میری بات سننے لگ گئے آخر ایسی کیا بات باقی رہ گئی تھی جس کے بیان نے اس قسمت کے قصیدے کو حرف آخر قرار دینا تھا جب سب ہمہ تن گوش ہو گئے میں نے بالآخر ان کو لازوال قسمت کا راز آخری فقرہ بول کر کہہ دیا کہ جناب آپ اتنے خوش قسمت ہیں کہ آپ اسلام کے قلعے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہیں اگر آپ سعودیہ میں ہوتے تو یہ ہاتھ ساتھ نہ ہوتا۔ بس! پھر وہ قہقہہ اٹھا گویا جیسے ماتم اٹھتا ہے۔ مجھے یہ اپنی کہی ہوئی بات یاد آ رہی ہے کہ ہمارے حکمران طبقے کتنے خوش قسمت ہیں اگر یہ کسی قانون کی حکمرانی والے ملک میں ہوتے تو کیا یہ باوقار اور عزت دار ہوتے یہاں تو دنیا سے چن چن کر کرپٹ اور بد اخلاق اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ عنان حکومت کے عہدوں پر فائز لوگوں کے ہوتے ہوئے کیا زنا، شراب اور رشوت کے مجرمان، فراڈ اور جھوٹ کے ملزم یا مجرمان کے لیے جیلیں کھول نہیں دینی چاہئیں بہت سے ہاتھ ہیں جو سعودیہ میں پیدا ہوتے تو بدن کے ساتھ نہ ہوتے اور چائنہ میں ہوتے تو سر ہی ساتھ نہ ہوتا۔

ہمارے ایک دوست بہت اعلیٰ عہدوں تک گئے۔ بچپن سے نمازی، پرہیز گار تھے مگر جب نوکری میں آئے تو ریزگاری بھی نہ چھوڑی اور پرہیز گاری بھی قائم رکھی لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت دے دی گویا ہدایت کا عمل اربوں روپے اکٹھے کرنے سے پہلے مکمل نہ ہو پایا لیکن ہر ایک کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ میں نے ہدایت یافتہ فاقہ مست اور با اختیار بھی دیکھے۔ دراصل مجھے اس دوست کے ارب پتی ہونے کے بعد ہدایت یافتہ ہونے پر احساس ہوا کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ ، حج، عمرہ اپنی جگہ عبادات ہیں مگر ہدایت یہ ہے جس کو اللہ دین کی صحیح سمجھ عطا کر دے میں ان کے گھر ملنے گیا تو مجھے فرماتے ہیں کہ بٹ صاحب میں صوفی ہو گیا ہوں میں نے کہا کمال ہے میں آپ کو کالج کے دنوں سے جانتا ہوں صوفی تو آپ بچپن سے ہیں۔ فرماتے ہیں نہیں پیسے (رشوت) لینے بند کر دیئے ہیں اور جو جمع کیا تھا سب بانٹ دیا میں نے استفسار کیا کہاں بانٹا بولے کہ غریب رشتے داروں ، محلے داروں اور غرباء ، مساکین میں میں نے کہا کمال کر دیا۔ آپ نے انہی بے چاروں کو لوٹا دیتے جن سے لیے تھے، لیئے کسی سے اور لوٹائے کہیں یہ انصاف تو نہیں؟ بحر حال میرا ان سے ایسا کچھ نہ تھا کہ وہ مجھے کچھ لوٹاتے نہ میں دینے والوں میں تھا اور نہ ان کی نظر میں مستحق مگر یہ تبدیلی ان کی فطرت تبدیل نہ کر سکی۔ حد منافقت اپنی جگہ قائم رہی۔ اب مردم شناسی کے دعویداروں کے لیے بڑا سوال ہے کہ نیک ہو تو اگر حسد، منافقت اور بدخواہی کی لت پڑ گئی ہے تو وہ پھر مردم شناسی کا پیمانہ کیا رکھیں گے۔ فطرت تو کوئی نظریہ بھی نہیں بدل سکتا ہے۔ ایک اعلیٰ افسر کے سہولت کار اور مخبر چند منافقین تھے بظاہر مسجد کے گرد منڈلاتے رہتے تھے۔ ہاتھوں میں تسبیاں یوں پکڑی ہوتیں جیسے کلاشنکوفیں ہیں۔ ایک دوست نے سوال کیا کہ آصف کیا خیال ہے یہ جنت میں چلے جائیں گے میں نے کہا کہ میری کیا اوقات میں کسی کی جنت دوزخ کی تقدیر بتا سکوں ۔ اللہ کی رحمت کو کوئی قید نہیں کر سکتا۔ اس کے بار بار اصرار پر میں نے کہا کہ یار مجھے یہ تو نہیں پتا یہ کیسے ہیں اور ان کی آخرت کیا ہے البتہ خیال ہے کہ ابھی ان کا فیصلہ ہونا باقی ہو گا کہ جنت میں سے کوئی جنتی ان سے دور سے ہیلو ہائے کر بیٹھے گا ان کا تو مجھے پتا نہیں البتہ اس کو ضرور جنت سے باہر بلا کر پوچھا جائے گا کہ تیرے یہ واقف کیسے ہیں، مردم شناسی تو اسٹیبلشمنٹ نہیں کر پاتی یہ نواز شریف زرداری عمران کیا بیچتے ہیں موجودہ حکمرانوں نے چھانگا مانگا بُھلا دیا زرداری کہتے ہیں سینے میں اتنا کچھ ہے کہہ دوں تو آگ لگ جائے ۔ مریم نواز کہتی ہیں اتنا مجبور نہ کرو کہ سب کچھ بتا دیا جائے کہ نواز شریف کو کیوںنکالا۔ چورہدری نثار کہتے ہیں پی ٹی آئی کو اقتدار عوام نے نہیں کسی اور نے دیا ہے۔سچ بولوں تو طوفان برپا ہو جائے۔ بلاول کہتے ہیں وزیراعظم سلیکٹڈ ہے۔ عوام کہتے ہیں ہمیں کچھ نہ دو سچ ہی بتا دو مگر کون بولے گا سچ سچ کا سوچ کر گڑھی خدا بخش کا قبرستان آنکھوں میں گھوم جاتا ہے۔ دراصل اسٹیبلشمنٹ نے قومی سطح پر کردار سازی نہیں ہونے دی ایک ہاتھ میں اقتدار کی ہڈی ، دوسرے میں ڈنڈا اور یوں قومی قیادت کے ذریعے عوام کی منزلوں کا تعین کیا ان حالات میں ایسی معاشرت کے باشندوں کی مردم شناسی کون کرے اور دست شناسی کاروبار ضرور ہوگا لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ سرکار کا فرمان ہے مفہوم ہے کمی بیشی اللہ معاف کرے ’’احد کا پہاڑ اپنی جگہ بدل سکتا ہے کوئی اپنی طبع مزاح فطرت نہیں بدل سکتا‘‘۔ مردم شناسی ، دست شناسی ، تبلیغ سب اپنی جگہ مگر کردار سازی کے لیے قانون کی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ 25 سال سے زائد نوکری کی نیلسن منڈیلا نے 27 سال قید میں ہو سکتا ہے کوئی گھڑی اچھی دیکھی مگر ہم نے ایک روح بھی منافقت سے پاک نہ دیکھی سوائے چند لوگوں کے ۔ یوں محسوس ہوا 27 سال نہیں جیسے میں کہیں جا رہا تھا راستے میں حاجت ہونے پر ریت پر پیشاب کیا ہو بس! وطن عزیز میں مردم شناسی اور دست شناسی دل کی تسلی کے لیے ہے سیاست و معاشرت میں ہم نے لمحوں میں دہائیوں کے رشتوں کو بدلتے دیکھا ہے اور یوں ہی چلتا رہے گا۔جب کردار سازی نہ ہو گی۔


ای پیپر