کاش ہمارے ہاں کبھی اےسا نہ ہو
01 جولائی 2019 2019-07-01

مصر مےں منتخب صدر ،ڈاکٹرمحمد مرسی کی افسوسناک موت اےک بار پھر کئی سوالات اٹھا گئی۔ سب سے بڑا سوال تو ےہی ہے کہ امرےکہ اور ےورپ، جو خود کو انسانی حقوق اور جمہورےت کا چمپےئن قرار دےتے ہےں، وہ اس طرح کی درندگی پر چپ کےوں سادھ لےتے ہےں؟ مرسی کا تختہ کس طرح الٹا گےا، کےونکر منتخب صدر کو زنداں مےں ڈالا گےا، کس طرح اسے اذےتےں دی گئےں، کےسے مختلف قسم کی بےمارےوں مےں مبتلا اےک بزرگ شخص کو علاج و معالجے سے محروم رکھا گےا، کمرہ عدالت کے اندر کن المناک حالات مےں اس کی موت واقع ہوئی، کس طرح اس کے قرےب ترےں عزےزوں کو بھی چہرہ دےکھنے اور نماز جنازہ مےں شرےک ہونے کی اجازت نہ دی گئی۔ ےہ سب کچھ کسی اےک فرد کا نہےں، انسانےت کا المےہ ہے۔ ےہ اکےسوےں صدی کی اس دنےا کا بھی المےہ ہے جو انسانی حقوق کے بڑے بڑے چارٹر بناتی، بڑے بڑے ادارے تشکےل دےتی اور بڑے بڑے دعوے کرتی ہے۔ لےکن اس طرح کی سفاکی پر آنکھےں موند لےتی ہے۔ اس لئے کہ انسانےت کا ساتھ دےنا اس کے اپنے مفاد کے خلاف ہوتا ہے۔ حال ہی مےں ےہی روےہ سعودی صحافی جمال خشوگی کے بارے مےں اختےار کےا گےا۔ دنےا کی سب سے بڑی طاقت نے خشوگی کے بہےمانہ قتل سے اس لئے نظرےں چرا لےں کہ اسے اربوں ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنا تھا۔

امرےکہ اور ےورپ کا ےہ "معےار انسانےت" بہت بڑا سوالےہ نشان ہے۔ اےسی کوئی واردات مغرب کے کسی نا پسندےدہ ملک مےں ہو جائے تو قےامت کھڑی کر دی جاتی ہے۔ احتجاجی قراردادےں منظور ہوتی ہےں۔ اقوام متحدہ کا کمےشن برائے انسانی حقوق حرکت مےں آ جاتا ہے۔ نوبت بعض اوقات اقتصادی پابندےوں تک پہنچ جاتی ہے۔لےکن اگر کسی ملک کے حکمران امرےکی اشاروں پر ناچنے کے لئے تےار ہےں اور اس کے عالمی اےجنڈے کو تقوےت پہنچا رہے ہےں تو مغرب کو خبر ہی نہےں ہوتی کہ کوئی واردات ہوئی بھی ہے۔ خشوگی اور مرسی تو دو افراد تھے، اےک مدت سے فلسطےن اور کشمےر ، اسرائےلی اور بھارتی ظلم وستم کی چکی مےں پس رہے ہےں لےکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہےں رےنگتی۔صرف اس لئے کہ اسرائےل سب کا چہےتا ہے اور بھارت بہت بڑی عالمی منڈی ہے جسے خفا نہےں کےا جا سکتا۔ فلسطےن اور کشمےر مےں انسانی حقوق کی بد ترےن پامالی ، روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔ اےسی اےسی المناک کہانےاں سننے مےں آتی ہےں کہ انسان کا کلےجہ پھٹ جاتا ہے لےکن انسانےت ، جمہورےت اور بنےادی حقوق کے نعرے لگانے والوں کے دل مےں ذرا سا درد پےدا نہےں ہوتا۔

ےہ تصوےر کا اےک رخ ہے۔ خود اپنے گرےبان مےں جھانکا جائے تو اور بھی زےادہ افسوس ہوتا ہے۔ستاون کے لگ بھگ اسلامی ممالک زےادہ تر ملوکےت، آمرےت، شخصی حکمرانی ےا محدود جمہورےت کے حامل ہےں۔ نہ صرف ےہ کہ ان ممالک مےں باہمی اتحاد کا فقدان ہے بلکہ وقتا فوقتا وہ اےک دوسرے کے خلاف جنگےں لڑتے بھی دکھائی دےتے ہےں۔ ذرا سا اسرائےل، جو چاروں طرف سے اسلامی ممالک مےں گھرا ہے، دےدہ دلےری سے فلسطےنےوں کے حقوق پامال کر رہا ہے بلکہ ان کی نسل کشی مےں مصروف ہے۔ لےکن کوئی اس کا ہاتھ روکنے والا نہےں۔ ہاتھ روکنا تو دور کی بات ہے کوئی پوری طاقت سے ان مظلوموں کے لئے آواز اٹھانے والا بھی نہےں۔ اب تو نوبت ےہاں تک آن پہنچی ہے کہ بڑے بڑے مسلم ممالک اسرائےل کے قرےب ہو رہے ہےں۔ اسلامی کانفرنس ہو ےا عرب لےگ ےا کوئی اور ادارہ، سب نام نہاد ثابت ہوئے۔ اب تو ان اداروں کو بھی زنگ لگ چکا ہے۔

نصف درجن کے لگ بھگ جن مسلم ممالک کو مغربی طرز کی جمہورےت کا دعویٰ ہے وہاں بھی حقےقی روح کے مطابق جمہورےت کم کم ہی نظر آتی ہے۔ خود پاکستان کی بہترسالہ تارےخ پر نظر ڈالےں تو " اسلامی جمہورےہ" ہونے کے باوجود نہ ہمارے ہاں اسلامی قدروں کا راج ہے نہ ہی جمہوری رواےات کا۔ تقرےبا چونتےس سال تو براہ راست فوجی آمرےتوں کی نذر ہو گئے۔ آمروں نے ےاتو خود نئے آئےن بنا لئے ےا پہلے سے موجود آئےن مےں مرضی کی ترامےم کر لےں۔ قائد اعظم اور پاکستان بنانے والے دےگرراہنماو¿ں نے وفاقی پارلےمانی نظام کی بنےاد ڈالی لےکن چاروں ڈکٹےٹروںنے صدارتی نظام نافذکےے رکھا۔ اسی دوران ہماری تارےخ کا سب سے بڑا المےہ پےش آےا اور پاکستان دوٹکڑے ہو گےا۔ کوئی اور قوم ہوتی تو اتنے بڑے سانحے سے سبق سےکھتی۔ سقوط ڈھاکہ کے بارے مےں حمود الرحمن کمےشن رپورٹ کو تعلےمی نصاب کا حصہ بناتی۔ ان غلطےوں سے بچتی جن کی نشاندہی کی گئی تھی اور ان باتوں پر عمل کرتی جن کی سفارش کی گئی تھی۔ لےکن ہوا ےہ کہ اس سانحے کے بعد 1973 مےں پاکستان کا آئےن نافذہوا۔ آج اس آئےن کے نفاذ کو چھےالےس برس ہو گئے ہےں۔ ان چھےالےس (46) سالوں مےں بھی بےس برس سے ذےادہ فوجی حکمرانی کی نذر ہو گئے۔ آئےن کا آرٹےکل چھ (جو سنگےن غداری سے متعلق ہے) آج تک بروئے کار نہےں آسکا۔ پوری قومی تارےخ مےں کوئی اےک بھی وزےر اعظم اپنی معےاد پوری نہ کر سکا۔ کوئی پھانسی چڑھ گےا۔ کسی کو قتل کر دےا گےا۔ کوئی ملک بدر ہو گےا۔ کوئی جےل مےں ڈال دےا گےا۔

جمہوری مسلم ممالک مےں انتخابات کی تارےخ بھی انتہائی افسوس ناک ہے۔ مشرقی پاکستان سے بنگلہ دےش بن جائے والے ملک مےں حسےنہ واجد نے اپوزےشن کو مکمل طور کچل کر اپنی سب سے بڑی مخالف خالدہ ضےا کو منظر سے ہٹا دےا۔ 2018 کے انتخابات سے قبل خالدہ ضےا پر کرپشن کا مقدمہ چلا کر پانچ سال کے لئے جےل ڈال دےا گےا۔ اس سزا کے باعث وہ نااہل قرار پائیں اور انتخابات سے باہر ہوگئیں۔ حسےنہ واجد نے خالدہ ضےا کے بےٹے طارق رحمان کو بھی انتقام کا نشانہ بناےا اور اےک مقدمے مےں عمر قےد کی سزا سنا دی۔ مجےب الرحمن کی بےٹی نے جماعت اسلامی کے بعض سرکردہ راہنماوں کو بھی پھانسی چڑھا دےا۔کم ہی لوگ ہوں گے جو بنگلہ دےش کواےک حقےقی جمہوری ملک خےال کرتے ہوں۔

پاکستان کی صورتحال بھی کوئی زےادہ اچھی نہےں۔ اگر ماضی سے آنکھےں بند کر کے صرف حال پر نظر ڈالی جائے تو بھی افسوس ناک منظر دکھائی دےتا ہے۔ برس ہا برس تک اپنی مقبولےت کی بنا پر ووٹ لےنے اور حکومت کرنے والی دونوں جماعتےں (پےپلز پارٹی اور مسلم لےگ نواز) زےر عتاب ہےں۔ ان کے لےڈر جےلوں مےں ہےں۔ شرےف خاندان کا شاےد ہی کوئی فرد اےسا ہو جس پر کسی نہ کسی طرح کا مقدمہ نہےں ۔ ےہی حال بھٹو اور زرداری قبےلے کا ہے۔ دونوں جماعتوں کے کئی لےڈر بھی اسی صورت حال سے دوچار ہےں۔ کہا جاتا ہے کہ ےہ احتساب ہے۔ نےب آزاد اور غےر جانبد ار ، ادارہ ہے۔حکومت کا ان سزاو¿ں ےا گرفتارےوں سے کوئی تعلق نہےں۔ پاکستان کے اندر شاےد ہی کوئی با خبر شخص ان حکومتی دعووں پر ےقےن رکھتا ہو ۔ مےڈےا کی صورت حال بھی کم از کم "جمہوری" نہےں۔ آزادی اظہار رائے ، آزادی نقل و حرکت، آزادی تحرےر و تقرےر سب پر بڑے بڑے سوالےہ نشان ہےں۔

چند روز قبل مرےم نواز نے اپنی پرےس کانفرنس مےں اےک جملہ کہا تھا۔۔ " نہ ےہ مصر ہے، اور نہ ہم نواز شرےف کو مرسی بننے دےں گے" ۔ اللہ کرے اےسا ہی ہو ۔ اللہ کرئے ہم مصر جےسے حالات کا شکارہو کر ڈکٹےٹر شپ کے شکنجے مےں نہ آئےں۔ اللہ کرے ہمارے ہاں کسی سے وہ سلوک رو ا نہ رکھا جائے،جو محمد مرسی سے روا رکھا گےا۔ اسکی واحد صورت ےہ ہے کہ ہماری عدلےہ پوری آزادی اور طاقت کے ساتھ جمہوری قدروں، بنےادی انسانی حقوق اور آئےن و قانون کے تحفظ کے لئے فولاد کی دےوار بن جائے۔ اور کسی کو بھی اندھے انتقام کی کھلی چھٹی نہ دے۔ اےک معروف پاکستانی اےنکر نے اپنے شو مےں مولانا ابو الکلام آزاد کے قول کا حوالہ دےا ہے۔ ےہ قول مولانا کے اےک طوےل بےان کا حصہ ہے جو انہوں نے غداری کے مقدمے مےں اےک انگرےز جج کے سامنے دےا تھا۔ ابو الکلام آزاد نے کہا تھا "تارےخ عالم کی سب سے بڑی نا انصافےاں جنگ کے بعد عدالت کے اےوانوں مےں ہوئی ہےں"۔۔ محمد مرسی اےک عدالت کے اےوان مےں ہی جان کی بازی ہار گےا۔ کاش ہمارے ہاں کبھی اےسا نہ ہو ۔


ای پیپر