ٹھنڈی عدالتوں میں گرمیوں کی چھٹیاں
01 جولائی 2019 2019-07-01

عدلیہ سے وابستہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ موسم گرما اور سرما میں جہاں ملک بھر میں بچوں کو سکولوں میں چھٹیاں ہوتی ہیں وہیں ہمارے ملک کی عدلیہ میں بھی تقریباً ڈھائی ماہ کی تعطیلات منائی جاتی ہیں. یہ نہیں کہ ان تعطیلات میں عدلیہ کا ادارہ مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے بلکہ اہم اور فوری نوعیت کے مقدمات کی شنوائی کے لیے ماتحت عدالتوں اور لاہورہائیکورٹ میں بھی ججز دستیاب ہوتے ہیں. لیکن ان ایام تعطیلات میں ماتحت عدالتوں میں ٹرائل اور اعلی عدلیہ میں ریگولر کیسز کی سماعت نہیں ہوتی. یعنی ملک بھر کی عدالتوں میں ہر سال ستر سے پچھتر روز تک ضمانتوں، حبس بے جا اور حکم امتناعی کی درخواستوں کے علاوہ کسی مقدمے کی سماعت نہیں ہوتی. چند روز قبل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سردار شمیم احمد خان کی جانب سے رواں سال کی موسم گرما کی عدالتی تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں یکم جولائی سے 7 ستمبر تک عدالتی تعطیلات ہوں گی. نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ لاہورہائیکورٹ کے مستقل ججز چھ ہفتے جبکہ ایڈہاک ججز چار ہفتے کی چھٹیاں کر سکتے ہیں. اسی طرح ماتحت عدلیہ میں بھی ایک ماہ کی گرمیوں کی چھٹیاں کی جائیں گی. یوں پورے عدالتی نظام کو تازہ دم ہونے کے لئے دو ماہ مل جائیں گے. دوسری طرف لاءجسٹس کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر کی عدالتوں میں مجموعی طور پر اٹھارہ لاکھ سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں. عدلیہ میں زیر التوا مقدمات کے انبار کی موجودگی میں ان تعطیلات کے دوران نہ تو ان اٹھارہ لاکھ مقدمات کی شنوائی ہو پائے گی بلکہ نئے دائر ہونے والے مقدمات کا انبار بھی اس میں شامل ہو جائے گا۔

دنیا بھر بالخصوص ترقی یافتہ ممالک کا جائزہ لیا جائے جہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے اور زیر التوا مقدمات کا انبار بھی نہیں ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں بھی عدالتوں میں تعطیلات کا کوئی تصور نہیں ہے. تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل برطانوی حکومت نے یہاں کے گرم ترین موسم میں گرمیوں کی تعطیلات کا آغاز کیا تھا. لیکن قیام پاکستان کے بعد بھی یہ سلسلہ آج تک جاری ہے. ایک محتاط اندازے کے مطابق سال کے بارہ مہینوں میں ہماری اعلی عدلیہ تقریباً چھ ماہ کام کرتی ہے اور تقریباً چھ ماہ چھٹی مناتی ہے. قارئین کی سہولت کے لئے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ لاہورہائیکورٹ میں ہفتے کے روز ججمنٹ ڈے ہوتا ہے اور اس دن عدالتی کام نہیں ہوتا. اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ ہائیکورٹ میں ہفتے کے پانچ روز عدالتی کام ہوتا ہے. اور اب اگر دنوں کے حساب سے جائزہ لیا جائے تو ہائیکورٹ میں سال کے 365 دنوں میں 102 دن ہفتہ اور اتوار کی چھٹی، 75 روز سردیوں اور گرمیوں کی چھٹیاں ، 14 روز قومی اور مذہبی تہواروں کی چھٹیاں منائی جاتی ہیں جو کہ تقریباً چھ ماہ بنتے ہیں. اسی نقش قدم پر ماتحت عدلیہ بھی سال کے 365 دنوں میں 102 دن چھٹی مناتی ہے جو کہ تقریباً ساڑھے تین ماہ بنتے ہیں. یعنی مجموعی طور پر ہماری اعلی عدلیہ سال کے چھ ماہ اور ماتحت عدلیہ ساڑھے آٹھ ماہ مکمل طور پر فعال ہوتی ہے. جبکہ طبیعت کی ناسازی اور دیگر وجوہات پر جج صاحبان کی لی جانے والی چھٹیاں اس کے علاوہ بنتی ہیں. ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انصاف دینے والے ادارے میں تمام تر سہولیات کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں چھٹیاں منائی جائیں گی تو مقدمات کا بوجھ کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتا ہی چلا جائے گا اور یہی وجہ ہے کہ عدلیہ میں تمام تر اصلاحات کے باوجود زیر التوا مقدمات کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے. برطانیہ میں مقیم دوست وکیل انیس احمد سعدی نے اس حوالے سے بتایا کہ وہاں مہینے یا دو مہینے کی تعطیلات کا کوئی تصور نہیں ہے. البتہ موسم سرما میں دو ہفتے کی تعطیلات ہوتی ہیں لیکن اس میں بھی کوئی مقدمہ ایسا نہیں جس کی سماعت نہ ہو سکتی ہو. ان چھٹیوں میں بھی ریگولر سمیت ہر قسم کا مقدمہ سنا جاتا ہے اور فوری فیصلہ بھی کیا جاتا ہے. انیس سعدی نے مزید بتایا کہ برطانیہ میں بارہ مہینے عدالتی اوقات کار صبح نو بجے سے رات دس بجے تک ہیں. برطانوی جج ڈیڑھ دو گھنٹے کے وقفے کے ساتھ تیرہ گھنٹے عدالتی امور نمٹاتے ہیں. اس کے علاوہ انھیں حکومت کی طرف سے گاڑی، گن مین، سرکاری رہائش گاہ، ملازمین کی فوج، پٹرول جیسی سہولیات بھی نہیں دی جاتیں. برطانوی جج صاحبان بسوں میں سفر کرتے ہیں، اپنی فائلیں خود اٹھاتے ہیں، عدالتی وقفے کے دوران ایک ہی کینٹین میں جج. ملزم اور وکلاءکھانا کھاتے ہیں. لیکن اس کے باوجود جج کے تقدس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اس کے مقابل اگر پاکستانی عدلیہ کا جائزہ لیا جائے تو مصدقہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بجٹ میں 94 کروڑ 89 لاکھ چار ہزار دو سو اڑسٹھ روپے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سمیت ساٹھ جج صاحبان کے لیے مختص ہوتا ہے. یوں کم و بیش ایک جج پر ماہانہ پندرہ لاکھ اکیاسی ہزار پانچ سو اکہتر روپے خرچ آتا ہے. ماہانہ مشاہرے کے علاوہ ہائیکورٹ کے ججز کو سرکاری رہائش گاہ، سرکاری گاڑی، پٹرول، کمرہ عدالت اور چیمبر میں اے سی، قاصد، نائب قاصد، چپڑاسی، گن مین، لانڈری، ٹیلی فون، خانساماں، مالی الغرض ہر قسم اور نوعیت کی مراعات حاصل ہوتی ہیں. اسی طرح ماتحت عدالتوں کے جج صاحبان بھی اے سی والے کمروں میں بیٹھتے ہیں اور سرکاری گاڑی اور رہائش گاہ سمیت انھیں بھی دیگر مراعات حاصل ہوتی ہیں. لیکن ان تمام مراعات اور سہولیات کے ہوتے ہوئے بھی عدلیہ میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں اور موسم گرما کی تعطیلات ضروری سمجھی جاتی ہیں. وکلاءکا کہنا ہے کہ سردیوں اور گرمیوں میں چھٹیوں کی یہ سہولت عدلیہ کے سوا پورے ملک میں کسی ادارے کو حاصل نہیں ہے جبکہ ان چھٹیوں سے پہلے سے تاخیر زدہ عدل مزید تاخیر کا شکار ہو رہا ہے. سینئر وکلاءنے چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سردار شمیم احمد خان کو تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی تعطیلات کو نہ صرف منسوخ کیا جائے بلکہ عدالتی اوقات کار میں کم از کم رات نو بجے تک اضافہ کیا جائے تاکہ لاکھوں زیر التوا مقدمات کو مزید تاخیر کے بجائے جلد نمٹایا جا سکے. یہاں ایک دلچسپ واقعہ کا ذکر کرنا ضروری ہے. چند روز قبل میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک مقدمے کی کوریج کے بعد لاہورہائیکورٹ کے تاریخی بوہڑ کے درخت کے نیچے معروف وکیل آفتاب باجوہ کی سیٹ پر بیٹھا تھا کہ فیصل آباد سے آئے ہوئے ایک بزرگ سائل نے آفتاب باجوہ کے کلرک چاچا منظور سے اپنے مقدمے کی تاریخ کا پوچھا تو چاچا منظور نے کہا کہ بزرگو اب آپ ستمبر میں آنا، عدالت چھٹیوں پر ہے. یہ سن کر بزرگ نے حیرانگی سے کہا کہ عدالت میں کس بات کی چھٹیاں ہیں. جرم اور ناانصافی کرنے والوں نے تو چھٹی نہیں کی تو منصف کس بات کی چھٹی کرے گا. کیا ہمارے ملک میں جرم و ناانصافیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے. کیا عدالتوں نے لوگوں کو فوری انصاف فراہم کر دیا ہے جو یہاں چھٹیاں ہو رہی ہیں. گرمی تو ہم برداشت کرتے ہیں جو انصاف لینے ان ٹھنڈے کمروں میں بیٹھنے والوں کے پاس آتے ہیں لیکن شاید انھیں ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر بھی گرمی لگتی ہے. بزرگ سائل کی بات سن کر وہاں موجود سب لوگ بے ساختہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ بابا جی بات تو بالکل ٹھیک ہے۔


ای پیپر