نیویارک اور لاس اینجلس میں سات دن(1)
01 جولائی 2019 2019-07-01

استنبول سے دس جون 2019 کی شام ٹرکش ائیر لائنز کے جہاز نے ٹیک آف کیا اور کیسے دس جون ہی کی رات آٹھ ہزار میل کا دس گھنٹے کا فاصلہ طے کر کے نیویارک پہنچا دیا یہ فلسفہ مابعد الارضیات سے تعلق رکھتا ہے۔جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ نیویارک پر مشینی پاسپورٹ کنٹرول کسوک نے پاسپورٹ سکین کیا اور امیگریشن آفیسر نے آنکھ اٹھائے بغیر چھ مہینے کی انٹری دے دی۔چونکہ یہ میرا امریکہ کا دوسرا دورہ تھا تو شاید میں امریکیوں کے سیکیورٹی سسٹم میں بے ضرر قرار پا چکا تھا مگر میری بیگم کا سیکیورٹی سسٹم شاید امریکیوں سے زیادہ جدید ہے۔اس ائیرپورٹ پہ پہنچ کے دا ٹرمینل کے ٹام ہینکس بہت یاد آئے جو سٹیٹ لیس ہونے کے بعد کیسے ہفتوں یہاں پھنسے رہے تھے ۔ ائیرپورٹ سے پینتالیس ڈالرز کے عوض فار راک اوے میں واقع عارف یزدانی کے گھر پہنچا تو انھوں نے نہایت پرتپاک استقبال کیا۔سفر کی تھکاوٹ اور بھوک کی آہٹ نے بستر اور خوراک سے ایسا سازباز کیا کہ میں گرتے ہی سو گیا۔اگلے دن آنکھ کھلی تو سامنے بحراوقیانوس اپنی ساحلی لہروں کو وقت کے سمندر میں سرفنگ سکھا رہا تھا۔ناشتے اور گپ شپ سے فارغ ہونے کے بعد نکلا اور راک اوے بیچ 67 میٹرو سٹیشن سے ٹرین میں بیٹھ گیا۔اس ٹرین کے جھٹکوں اور پٹری میں لاہور سے نارووال جانیوالی ٹرین کی طرح کوئی فرق نہیں سوائے اسکے کے نارووال جانیوالی ٹرین پہ کبھی کبھی جھٹکے نہیں بھی لگتے۔ٹرمپ ٹھیک کہتا ہے کہ امریکہ کو اپنے روڈ اور ریل انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی شدید ضرورت ہے۔راستے میں ایک ٹرین بدل کر نیچرل ہسٹری میوزیم پہنچا توطبیعت نہال ہو گئی۔داخلے کا ٹکٹ تئیس ڈالر تھا مگر میرے چہرے پر تذبذب کے آثار دیکھ کر خاتون کہنے لگیں کہ اگر آپ ڈونیشن دے دیں تو آپ کا داخلہ مفت ہو گا۔ میں تین ڈالر اور لاکھوں دعائیں دیکر میوزیم میں داخل ہوا اور گھنٹوں اسکی گیلریز میں کھویا رہا۔شہاب ثاقب ،جانور،زلزلے،انسانی ارتقاء،کائنات کے اسرارورموز جب آپ ناریل پانی پیتے ہوئے دیکھیں تو اپنی جہالت کا احساس مزید تقویت پکڑنے لگتا ہے۔میوزیم سے نکلا تو دوبارہ میٹرو سٹیشن میں جا گھسا۔ایک دکان سے نیشنل جیوگرافک میگزین اور نیویارک ٹائمز خریدا اور ٹرین پکڑ کر ٹائمز سکوائر آ گیا ۔ بھانت بھانت کے لوگ اور جگمگاتے نیون سائنز ٹھنڈی ہوا میں خواب کا سماں پیدا کر رہے تھے۔یہاں پینتیس ڈالر کے عوض ایک چینی ٹھیلے والے سے لائیکیا موبائل کی سم خریدی تو میرے فون نے خود کو امریکی شہریت ملنے پر مبارکباد دی۔وہاں پر ایک بنگالی نیویارک کا تیس ڈالر میں بس ٹور فروخت کر رہا تھا جو میں نے لے لیا۔ڈاو±ن ٹاو±ن نیویارک کم پیسوں میں ڈھونڈنے کا اور کوئی طریقہ اب تک سائنس ایجاد نہیں کر پائی ہے۔دو گھنٹے بعد واپس ٹائمز سکوائر پہنچا تو شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔یہ شہر صحیح معنوں میں دنیا کا دارالحکومت ہے جو 1624ءمیں نیو ایمسٹرڈیم کے نام سے ولندیزیوں نے آباد کیا اور پھر 1664ءمیں انگریزوں نے ڈیوک آف یارک کے نام پہ اسے نیویارک کر دیا۔ٹرین پکڑی اور واپس اپنی قیام گاہ کی جانب روانہ ہو گیا کیونکہ اگلی صبح میں نے ویسٹ کوسٹ کے نگینے لاس اینجلس سے ملنے جانا تھا۔صبح صبح عارف یزدانی نے مجھے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ کے ٹرمینل ایٹ پہ ڈراپ کیا اور بارہ جون کی صبح پانچ بج کر چالیس منٹ پر امیریکن ائیرلائنز کے جہاز ائیر بس 321 نے نیویارک سے اڑان بھری اور پانچ گھنٹے کی مسافت طے کرتا ہوا ایریزونا کے شہر فینکس میں لینڈ کر گیا۔راستے میں ائیرلائن والے کھانا نہیں کھانے کی تصویریں تقسیم کرتے ہیں جو آپ کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کر کے خرید سکتے تھے۔اس دریا دل کنجوسی کی وجہ اقتصادیات ہیں مگر کنجوسی کنجوسی ہوتی ہے۔فینکس ائیرپورٹ سے مجھے ایک گھنٹے بعد لاس اینجلس کے لانگ بیچ ائیرپورٹ کی کونکٹنگ فلائٹ لینی تھی ۔ ائیر پورٹ میں جگہ جگہ کیکٹس کینڈی فروخت ہو رہی تھی جو صحرائی ایریزونا کی ملتان کے سوہن حلوے کی طرح سوغات ہے۔بھوک سے نڈھال ہو رہا تھا لہٰذا گوشت سے لبریز برگر کیساتھ کافی لی تو گویا سوکھی زمین کو بارش کے پانی نے سیراب کر دیا۔پھر برازیل کے بنے چھوٹے جہاز پہ بیٹھ کر لاس اینجلس کی جانب فرشتوں کی تلاش میں روانہ ہو گیا۔یہ پچاس منٹ کی فلائٹ تھی اور مقامی وقت کے مطابق دن سوا گیارہ بجے میں نے لاس اینجلس میں لینڈ کیا۔سورج کی روشنی میں خوشگوار ہوا کے جھونکےپام کے درختوں کو جھومنے پہ مجبور کر رہے تھے۔دو بسیں،ایک ٹیکسی،چند گھنٹے اور راہگیری رہنمائی کی مدد سے واک آف فیم کے عقب میں ایک مناسب موٹل ٹراپیکانا ان تلاش کیا تو تھکاوٹ کے باعث کمر بستر سے لگتے ہی سو گیا۔رات گیارہ بجے آنکھ کھلی تو شدید بھوک لگی تھی۔باہر ایک ریستوران سے ہاٹ ڈاگ اور کوک کا ڈنر کیا۔یہاں کولڈ ڈرنک کی ریگولر بوتل ہماری بوتل سے کافی لمبی ہوتی ہے۔واپس ہوٹل جا کر اگلے دن کا پلان مرتب کرنے میں مگن ہو گیا۔اگلا دن تیرہ جون کا تھا۔صبح سات بجے موٹل کے سامنے سٹار بکس سے ٹرکی سینڈوچ کا ناشتہ کیا اور میٹرو پکڑ کر واک آف فیم آ گیا۔ نیویارک کے مقابلے میں لاس اینجلس کی سب وے بہت زیادہ اچھی حالت میں ہے۔ واک آف فیم ایک فٹ پاتھ ہے جس پر فلمی ستاروں اور ڈائریکٹرز کے نام زمین پہ ستاروں کی شکل میں جگمگا رہے تھے۔وون لیہہ اور ٹم روبنز کو خصوصی سلام کیا۔پھر بگ بس کا ٹکٹ خریدا اور گائڈ کی راہنمائی میں شہر کا چکر لگانا شروع کیا۔ڈولبی تھیٹر،چائینیز تھیٹر،بیورلی ہلز ، پیراماو±نٹ پکچرز،ڈاو±ن ٹاو±ن ، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اور ایف بی آئی بلڈنگ سے ہو کر بس سینٹا مونیکا کی جانب بڑھ رہی تھی جو لاس اینجلس کا ساحلی علاقہ ہے۔اس علاقے میں ہر جگہ سیاحوں کا ہجوم تھا۔فضا میں سرشاری،نغمگی اور بے فکری مجھ جیسے تیسری دنیا کے باشندے کو اس کیفیت سے دوچار کر رہی تھی جسے عربی زبان میں حسد کہتے ہیں۔سینٹا مونیکا پئیر پہ اتر کر میں نے کچھ سنیکس اور ڈرنکس خریدیں اور بحرالکاہل کے ساحل کے کنارے جا کر بیٹھ گیا۔ارد گرد لوگ سن باتھ اور سرفنگ میں مصروف تھے اور میں اپنے پیر سمندر کے ٹھنڈے پانی سے گیلے کرنے کے بعد گیت سن رہا تھا۔ساگر کنارے دل یہ پکارے تو جو نہیں تو میرا کچھ بھی نہیں۔


ای پیپر