بجٹ اور اپوزیشن
01 جولائی 2019 2019-07-01

بجٹ پاس ہوگیا اور کل جماعتی کانفرنس بھی منعقد ہوکر ختم ہوگئی۔ ان دونوں ایونٹس کی بازگشت ایک طویل عرصہ تک سنائی دیتی رہے گی۔ بجٹ تو پاس ہوگیا۔ لیکن حکمران جماعت کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ ابھی اس قیمت کی ادائیگی کا سلسلہ اگلے کسی بحران تک جاری و ساری رہے گا۔ بجٹ سیشن کا آغاز ہوا تو کپتان نے بجٹ منظوری کے معاملے کو آسان لیا اور یہ سمجھا بس اجلاس ہوگا۔ ان کی شخصیت کا سحر کار فرما ہوگا اور بجٹ پاس ہو جائے گا لیکن ابھی تو ابتدائے عشق ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا یہ پہلا باقاعدہ بجٹ تھا۔ بہر حال بلیک میل نہ ہونے۔ دباو میں نہ آنے ، کے دعوے بس دعوے ہی رہے۔ پہلے تو ایم کیو ایم نے آنکھیں دکھائیں اور فوری طور پر ایک وزارت لے اڑی۔ حیدر آباد اور کراچی کیلئے ترقیاتی پیکج کا آسرا۔ شنید ہے کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات میں سندھ کے دو بڑے شہروں کی مئیر شپ کا سبز باغ بھی دکھایا گیا ہے۔ اگلا فریق پاکستانی سیاست کی آزمودہ جماعت پاکستان مسلم لیگ ق رہی۔ کمال سیاست ہے چوہدری برادران کی بھی۔ اپنی حدود سے باہر نہئں نکلتے۔ کبھی چوکے چھکے نہیں لگاتے۔ حاکم وقت جو بھی ہو اس کے ساتھ فدویانہ تعلقات رکھتے ہیں۔پہلے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کرکے ان کے ووٹ بنک سے سیٹیں جیتیں۔ پھر پنجاب کی سپیکر شپ حاصل کی۔ مرکز میں بھی وزارت کی۔ بجٹ کا موقع آیا تو تھوڑا سا نظروں کا زاویہ تبدیل کیا۔ سمجھنے والے سمجھ گئے۔ چوہدری برادران سے کامیاب ملاقات رہی۔ اپنے ارکان پارلیمنٹ سے ہاتھ تک نہ ملانے کے روادار کپتان استقبال کیلئے بچھ بچھ گئے۔ بہر حال یہ ملاقات بھی کامیاب رہی اور مسلم لیگ ق بھی مزید وفاقی وزارت سمیٹ گئی۔اگلی آنکھ مچولی حکومت اور اپوزیشن دونوں کے مزے لینے کے ماہر جناب اختر مینگل کے درمیان ہوئی۔ اس آنکھ مچولی میں بھی کامیابی جناب اختر مینگل کو حاصل ہوئی۔ البتہ وکٹری سٹینڈ تک پہنچنے سے پہلے بی این پی نے حکومت اور اپوزیشن کی خوب دوڑیں لگوائیں۔ کبھی اپوزیشن کا وفد ، کبھی حکومت کا ڈیلی گیشن۔ اپوزیشن کو بھی سہانے سپنے دکھائے اور حکومت کو بھی سبز باغات کی سیر کرائی گئی۔ آخر کار سیاسی سودا بازی کے ماہر کھلاڑی جہانگیر ترین بروے کار آئے۔ ان کے دست سحر کار کے سامنے کون ٹھہر سکتا ہے۔ سنگلاح پہاڑوں سے آئے بلوچ سرداروں کی جماعت بھی سپر انداز ہوئی۔ اللہ کرے کہ اب ان چھ نکات پر عمل درآمد ہوجائے جن کے گرد سردار اختر مینگل کی سیاست گھومتی ہے۔ ان چھ نکات کے بل بوتے پر ہی تو جناب اختر مینگل بیک وقت حکومت اور پوزیشن کی دو کشتیوں کے سوار ہیں۔ ان سطور کی تحریر تک قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس ختم ہوچکا تھا۔ حکومت نے واضح اکثریت سے بجٹ پاس کرا لیا۔ بجٹ منظوری کی قرار داد کے موقع پر حکومت کو 176ووٹ ملے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا کوئی ایک بھی اتحادی نہیں ٹوٹا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ بجٹ قرارداد کے خلاف ایک سو چھیالیس ووٹ آئے اور اپوزیشن کا کوئی ایک رکن بھی نہیں ٹوٹا۔ گویا سیاسی لحاظ سے یہ مقابلہ برابر رہا۔ بجٹ اجلاس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے مابین تعلقات کار کا نیا دور شروع ہوگا۔ بجٹ اجلاس کے روز وزیر اعظم عمران خان کی اختتامی تقریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سیاسی محاذ آرائی کے نئے میچ کے آغاز میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس تو اختتام پذیر ہوگئی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ کانفرنس ناکام ہوگئی۔ تاہم ایسا نہیں۔ وہ اپوزیشن جو ایک سال پہلے منتشر تھی۔ وہ اب متحد ہوگئی ہے۔ اپوزیشن ایک راہبر کمیٹی بنانے پر متفق ہوگئی ہے جو کہ فیصلہ ساز ادارہ ہوگا۔ اپوزیشن جماعتیں پچیس جولائی جو کہ عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ تھی۔ اس موقع پر یوم سیاہ منائے گی۔ علامتی طور پر اس احتجاج کی اہمیت ہے۔ اسی طرح بلاول بھٹو ، مریم نواز اور دیگر قائدین اپنے اپنے طور جلسے جلوسوں کا شیڈول بنا چکے ہیں۔ ان جلسوں کے ذریعے باقاعدہ مومینٹم بنایا جائے گا۔ بجٹ پر عمل درآمد ہوتے ہی جب عوام کی چیخیں نکلیں گی تو عوام کو سڑکوں پر آنے کیلئے مائل کرنا آسان ہوگا۔ دنیا کی ساری تحریکیں بتدریج ہی آگے بڑھا کرتی ہیں۔ سب سے اہم فیصلہ چیئر مین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد اتحادی جماعتوں میں اعتماد کی فضا پیدا کرنا ہے۔ اس تجویز کا ایک مقصد پیپلز پارٹی کا خلوص نیت بھی چیک کرنا تھا کیونکہ پیپلز پارٹی نے ہی ووٹ دیکر صادق سنجرانی کو چیئر مین سینٹ بنایا تھا۔ سینٹ کے اعدادوشمار کے مطابق ساٹھ ارکان اپوزیشن کے پاس جبکہ اپوزیشن کے پاس بیالیس ارکان ہیں۔ گویا کاغذی حد تک تحریک عدم اعتماد کی کامیابی ممکن ہے۔ عملی طور پر یہ تحریک کامیاب ہونہ ہو یہ الگ بات ہے۔ ناکامی اور کامیابی کا فیصلہ تو وقت کے ساتھ ہوگا لیکن فی الحال تو دونوں فریق آمنے سامنے ہیں۔ میچ برابر ہے لیکن یہ میچ اسی طرح جاری نہیں رہے گا۔ حکومت اور اپوزیشن میں کسی ایک کو پیچھے ہٹنا ہوگا۔ ستمبر تک اس کا فیصلہ ہو جائے گا ۔


ای پیپر