سیاسی اداکاروں کے پتلی تماشے
01 جولائی 2019 2019-07-01

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس ہوگئی۔’’ بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا ،جو چیرا تو اک قطرہ خون نہ نکلا‘‘ کلیجہ ٹھنڈا ہوگیا؟ کانفرنس مولانا فضل الرحمان نے بلائی تھی۔ ایسے مایوس ہوئے کہ اس کے بعد سے چپ لگ گئی۔ سب کو اپنا بنا کے دیکھ لیا، کوئی اپنا نہیں سب اپنے اپنے ہیں۔ اے پی سی میں بلاول، زردری، شہباز شریف، مریم نواز سب کے تضادات سامنے آگئے۔ اجتماعی استعفوں کی مخالفت، حکومت گرانے پر اتفاق نہیں، بجٹ کی منظوری روکی نہ جاسکی۔ اختر مینگل قابو نہ آسکے۔ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی پرے پرے رہیں۔ دس گھنٹے تک کیا کرتے رہے، کیا صرف 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے اور عوامی رابطہ مہم چلانے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے پر اتفاق لیکن اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بت کو گراتے ہوئے کیسا لگے گا؟ جہانگیر ترین چراغ کے جن کی طرح چیئرمین سینیٹ کو بچانے حاضر ہوگئے ہیں۔ تجوریوں کے منہ کھل گئے تو آزاد ارکان کے منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں گے۔ اے پی سی نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ کیا۔ بظاہر کتنا آسان لیکن کتنامشکل۔ 104 کے ایوان میں اسحاق ڈار کو مائنس کر کے 103 ارکان، اپوزیشن جماعتوں کے 67 حکومتی حامی ارکان 36 سینیٹ کے قواعد و ضوابط کی شق 12 کے تحت چوتھائی یعنی 26 یا ان سے زیادہ ارکان تحریک عدم اعتماد پیش کر سکتے ہیں۔ رائے شماری خفیہ ہوگی۔ یہیں گھپلا ہوگا۔ ن لیگ 30، پیپلز پارٹی 21، جے یو آئی ف 4، اے این پی 1، نیشنل پارٹی 5، پختون خوا ملی پارٹی 4، جماعت اسلامی کے دو ووٹ مل گئے تو 67 ہوجائیں گے۔ اس کے مقابلے میں تحریک انصاف 14، ایم کیو ایم 5، فاٹا 7، فنکشنل 1، بی این پی مینگل1 اور بلوچستان عوامی پارٹی کے صادق سنجرانی سمیت 8 ووٹ شامل ہیں، کل ووٹ 36، اصولا ووٹوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے لیکن ہمارے یہاں بندوں کو گننے سے پہلے تولتے ہیں تولنے میں وہ اتنا بھاری ہوجاتا ہے کہ گننے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ ایک فیصلہ وہ بھی مخدوش، نتیجہ ففٹی، ففٹی گرانا تھا تو بنایا کیوں تھا، وہ وقت یاد نہیں جب بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت گرانے کا پر اسرار مشن لیے کوئٹہ گئے تھے۔ بلوچستان سے محبت نہیں نواز شریف سے دشمنی پیش نظر تھی۔ کیا جھرلو پھیرا گیا کہ منتخب وزیر اعلیٰ کو ہٹا کر 500 ووٹوں سے منتخب رکن عبدالقدوس بزنجو کو وزیر اعلیٰ اور ایک غیر معروف رکن صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنا دیا گیا۔ زرداری نے آدھا سچ بولا کہ سنجرانی خود بھی ٹپس پہ گھوم رہے ہیں اور دوسروں کو بھی ٹپس پر گھما رہے ہیں چیئرمین بنانے والے دس ماہ میں ہی اپنے کئے پر پچھتانے لگے۔ ساغر صدیقی نے سچ ہی کہا تھا۔

بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں

کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے

آشیانوں پہ بجلی اچانک نہیں گری، دونوں لیڈروں کو بخوبی علم تھا لیکن ہر ایک اس خوش فہمی میں مبتلا رہا کہ ’’گرے گی جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیانہ کیوں ہو‘‘۔ دونوں جیل میں پڑے ہیں اور موہوم مستقبل کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ ایک کا بیٹا ایک کی بیٹی میدان میں ہیں۔ لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ، عملی اقدامات ندارد، مولانا فضل الرحمان نے کس چائو سے اے پی سی بلائی تھی۔ اجتماعی استعفوں کی تجویز پیش کی۔ دونوں بڑی جماعتوں نے یہ کہہ کر مسترد کردی کہ حکومت تبدیل کرنا چاہتے ہیں جمہوریت نہیں، حکومت گرانے پر اتفاق نہ ہوسکا۔ سارے لیڈر تنکا تنکا بکھرے ہیں جھاڑو کیسے پھرے گی۔ اختر مینگل ان سب سے ملاقاتوں اور یقین دہانیوں کے بعد جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کے ہتھے چڑھ گئے وہ وزیر اعظم کے پاس لے گئے۔ وزیر اعظم نے چشم زدن میں سارے مطالبات منظور کرنے کی یقین دہانی کرائی، سر پر ایسا دست شفقت رکھا کہ انہیں کے ہو کر رہ گئے۔ اپوزیشن ہاتھ ملتی رہ گئی۔ قسمت میں قدم قدم پر ناکامیاں لکھی ہیں، جماعت اسلامی نے پہلے ہی علیحدہ رہنے کا اعلان کردیا تھا۔ ٹائیں ٹائیں فش مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے فورا کہا کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا، ایک تحریکیے نے لقمہ دیا وہ بھی مرا ہوا۔ کسی بات پر اتفاق نہیں ہوا تو اے پی سی بلانے کی کیا ضرورت تھی۔ خوامخواہ چائے پانی پر اتنا خرچہ ہوا۔ کون دے گا؟ کسی نے ہانک لگائی سیاسی اداکاروں کا پتلی تماشا تھا۔ دس گھنٹے بعد ختم ہوگیا۔ سیاسی اداکاروں کے پتلی تماشے دونوں طرف ہورہے ہیں۔بچے جمورے کھیل کود رہے ہیں۔ جبکہ عوام کی جان عذاب میں آئی ہوئی ہے ’’آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ‘‘ مولانا فضل الرحمان کو اے پی سی مہنگی پڑی۔ آئے بھی وہ گئے وہ ختم فسانہ ہوگیا ،کچھ بھی قبول نہ کیا گیا اسلام آباد کو لاک ڈائون کرنے تک کی تجویز کو پزیرائی حاصل نہ ہوسکی۔ بلاول بھٹو جن کے نام کے ساتھ زرداری کا لا حقہ بھی لگا ہوا ہے نے مذہبی کارڈ استعمال کرنے کی مخالفت کی انہیں کیا معلوم کہ مولانا کے سارے کارڈ ایکسپائر اور آئوٹ ڈیٹڈ ہوچکے ایک یہی کارڈ تو باقی ہے۔ اے پی سی کا نتیجہ کیا ہوا حکومت قدرے خوفزدہ ہوئی۔ایک سینئر تجزیہ کار نے انکشاف کیا کہ مولانا کو پیغام بھی بھجوایا گیاکہ مل جل کر سسٹم چلائیں، مولانا نے پیغام بر کو چائے تک نہ پوچھی ترت جواب دیا کہ دس لاکھ کا لشکر جرار لے کر آرہا ہوں۔ حکومت کے طور طریقوں سے لگتا ہے کہ وہ ہر ایمرجنسی کے لیے تیار ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اے پی سی کے 48گھنٹوں کے اندر وفاقی بجٹ منظور کرالیا گیا ،کثرت رائے سے منظور ہوا۔ اپوزیشن تو پانچ سات ارکان توڑنے کی فکر میں تھی۔ رائے شماری میں 31 ارکان نے حکومت کے بنائے ہوئے بجٹ کی حمایت کی 176 ارکان نے حمایت میں ووٹ دیا جبکہ اپوزیشن ارکان کی تعداد صرف 147 رہ گئی۔ کس برتے پر حکومت گرائیں گے۔ کسی دل جلے نے کہا کیا31 ارکان کو کچھ نظر نہیں آیا کہ وہ کس بجٹ کی حمایت کر رہے ہیں۔ ڈالر، سونا، اشیائے صرف سبھی مہنگی ہوگئیں، ڈالر گزشتہ دس ماہ میں 52 روپے مہنگا ہوا۔ سونا ایک لاکھ روپے تولا کی حد چھونے کی کوشش میں ہے۔ بجلی، گیس پیٹرول کی قیمتیں کسی کے قابو میں نہیں حکومت قیمتوں پر قابو پانے کی بجائے عوام کو قابو کرنے کی تدبیریں سوچ رہی ہے۔ زندہ رہنا ہے تو ٹیکس دو، فضائی ٹکٹوں، رئیل اسٹیٹ اور دیگر تمام ذرائع پر ٹیکس لاگو، زندگی موت پر ٹیکس، کفن دفن پر ٹیکس، موبائل فون کنکشن صرف ٹیکس گوشوارے جمع کرنے والوں کو ملے گا بجلی کنکشن پر نان فائلرز پر 25 فیصد ٹیکس لگے گا۔ وزیر اعظم ما شاء اللہ ہر ماہ ٹیکس توسیع کا جائزہ لیں گے۔ ایک معاون خصوصی نے کہا کہ 10 لاکھ غریبوں کے لیے راشن اسکیم شروع کر رہے ہیں، دیہاڑی دار مزدور اور گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کی جائے گی۔ معاون خصوصی نے غلط اندازہ لگایا غریبوں کی تعداد 10 لاکھ نہیں 17 کروڑ بلکہ اس سے زیادہ ہے یہی حالات رہے تو آئندہ ایک سال میں 20 کروڑ افراد غریبوں کی فہرست میں شامل ہوجائیں گے تب یہ 20 کروڑ بھوکے ننگے انسان راشن کارڈ ہاتھوں میں لیے ڈپوئوں کے سامنے قطاروں میں لگے نظر آئیں گے۔ 5 کلو آٹا 2 کلو چینی، اس کے بغیر معاشی استحکام حاصل نہیں ہوسکتا۔ چوروں، ڈاکوئوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ شیخ رشید لاکھ کہتے پھریں کہ نواز شریف 10 ارب ڈالر دینے پر راضی ہوگئے ہیں لیکن نواز شریف بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے پلی بار گین کر کے اعتراف جرم کیسے کریں گے۔ آصف زرداری سے کیا حاصل ہوگا۔ بیرون ملک سے اب تک کچھ نہیں ملا۔ آئندہ بھی کچھ نہ ملنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے وصولی کی صرف درخواست ہی کی جاسکتی ہے۔ امارات، برطانیہ اور دیگر او ای سی ڈی ممبر ممالک میں پاکستان تارکین وطن کیخلاف کارروائی نہیں ہوسکی۔ روز روز کی دھمکیوں اور اعلانات سے تاجر برادری مایوس، صنعتکار پریشان ملک میں بے بقینی اور عدم اعتماد کی فضا پروان چڑھ رہی ہے۔ معاشی خود مختاری ایک خواب، خدا نہ کرے کہ اس خواب کی تعبیر بھیانک شکل میں رونما ہو۔ ایسا ہوا تو بہت برا ہوگا۔


ای پیپر