کیا پاکستانی واقعی ٹیکس نہیں دیتے؟
01 جولائی 2019 2019-07-01

ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں میں دیگر مسائل کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ پارٹی کا لیڈر اگر کوئی بیان جاری فرما دے تو پارٹی کے دیگر راہنما ہمنوائوں کی طرح اس کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور کئی تو ایسے راہنما بھی ہوتے ہیں جو اس بیان کو سمجھے اور جانے بغیر ہی اسے دہرانا شروع کر دیتے ہیں۔ مثلاً وزیر اعظم عمران خان نے جب سے قوم سے خطاب فرماتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ایک فیصد ( % 1) پاکستانی ٹیکس دیتے ہیں تو حکومتی وزراء اور تحریک انصاف کے راہنمائوں نے مسلسل اس بیان کا راگ الاپنا شروع کیا ہوا ہے۔ جب ملک کا وزیر اعظم ایسے بیانات مسلسل دیتا ہے تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ تاثر کتنا گہرا ہے کہ پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے اور محض ایک فیصد پاکستانی 99 فیصد پاکستانیوں کو پال رہے ہیں۔ جب ملک کا وزیر اعظم اس تاثر کو خود پھیلائے تو اس سے صورت حال کی سنگینی کا واضح اظہار ہوتا ہے۔ اس طرح وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے اپنی بجٹ تقریر میں فرمایا کہ پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی (Tax to GDP ) شرح محض 12 فیصد ہے جو کہ اس خطے میں سب سے کم ہے اور اسی طرح دنیا کے مقابلے میں بھی کم ہے۔

پاکستان کے بارے میں نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ پاکستان کے باہر بھی یہ عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے اس لیے قرضے لینے پڑتے ہیں۔یہ درست ہے کہ GDP کی شرح سے پاکستان میں کم ٹیکس جمع ہوتا ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ محض ایک فیصد پاکستانی ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ باقی پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر بالغ پاکستانی ٹیکس ادا کرتا ہے ۔ پٹرول، بجلی، گیس ، خوراک سمیت روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء پر ٹیکس عائد ہے۔ ہر پاکستانی جو چائے پیتا ہے توتھ پیسٹ استعمال کرتا ہے ۔ صابن سے نہاتا ہے۔ شیمپو استعمال کرتا ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرول کا استعمال کرتا ہے۔ وہ 17 فیصد جی ایس ٹی ( GST ) جنرل سیلز ٹیکس ادا کرتا ہے ۔ تمام پاکستانی جو کہ موبائل فون استعمال کرتے ہیں وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ گھی، خوردنی تیل، خوراک وغیرہ سب پر ٹیکس لاگو ہے۔یہاں تک کہ جو بچے اپنے جیب خرچ سے گولیاں، ٹافیاں، بسکٹس، چاکلیٹس اور سیلز وغیرہ خریدتے ہیں وہ بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

پاکستانی دنیا میں سب سے زیادہ ٹیکس زدہ قوم ہیں۔ جن پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بے تحاشا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ مگر عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ مثلاً ہر سال جو براہ راست ٹیکس اکٹھا کیا جاتا ہے اس کا 62 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس (withholding ) سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔ جو کہ براہ راست ٹیکس کو اکٹھا کرنے کا بالواسطہ طریقہ ہے۔ جو عام پاکستانی ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرواتے مگر وہ بجلی، موبائل فون بل، بینک کی سروسز اور دیگر خدمات پر ود ہولڈنگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔جو کہ ایڈوانس انکم ٹیکس ہے۔ کروڑوں پاکستانی براہ راست اور بالواسطہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ مگر پھر بھی ٹیکس چور کہلائے جاتے ہیں۔ مگر پاکستانی حکومت کے کرتا دھرتا اور اشرافیہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ بلکہ الٹا ان پر ٹیکس ادا نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ یہ در اصل زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

پاکستانی حکمران طبقات یہ حقیقت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ ٹیکس کا موجودہ نظام فرسودہ اور متروک ہو چکا ہے۔ جس میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ٹیکس کو ٹھیک طریقے سے جمع کر سکے اور ملکی ضروریات کے مطابق اس میں اضافہ کر سکے۔ پاکستان کو ایک ترقی پسند اور منصفانہ ٹیکس نظام کی ضرورت ہے۔ ٹیکس کا سادہ سا اصول یہ ہے کہ جو جتنا زیادہ کماتا ہے اور دولت رکھتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ ٹیکس دیتا ہے اور جو کم کماتا ہے وہ کم ٹیکس دیتا ہے۔ مگر ہمارے امیروں سے ٹیکس لینے کی بجائے بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے غریب عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔غریب عوام کو اشرافیہ اور امیر طبقے کی ٹیکس چوری کے لیے قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔

پاکستان کے 70 فیصد ٹیکس بالواسطہ یعنی (Indirect ) ٹیکسوں سے اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ پاکستانی حکمران طبقات نے جان بوجھ کر یہ تاثر پھیلایا ہے تاکہ چند بنیادی حقائق کو چھپا یا جا سکے۔ سب سے بڑی حقیقت اور سچ یہ ہے کہ اشرافیہ اور حکمران طبقات کا بڑا حصہ پوری طرح ٹیکس ادا نہیں کرتا یا بالکل ہی ٹیکس نہیں دیتا۔ پاکستان کی امیر ترین پانچ فیصد آبادی ملک کی زیادہ تر صنعت بڑے کاروباری اور تجارتی اداروں، زمینوں اور ذرائع پیداوار کی ملکیت رکھتی ہے۔ اصولی طور پر سب سے زیادہ ٹیکس انہی کو ادا کرنا چاہیے۔ مگر یہ 5 فیصد امیر آبادی ٹیکس ادا نہیں کرتی۔ ٹیکس کا نظام بد عنوان ، جابرانہ اور فرسودہ ہے جو کہ ٹیکس چوری میں مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ امیروں سے ٹیکس اکٹھا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔

اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے اور ٹیکس کے نظام کی خرابیوں کو دور کرنے کی بجائے حکمران طبقات اور ان کے حامی ماہرین ٹیکس چوری کا الزام عام پاکستانیوں پر عائد کرتے ہیں۔ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے پاکستان کی آبادی کی اکثریت آرام دہ اور خوشحال زندگی گزار رہی ہے ۔ ان کے پاس اتنی آمدن اور دولت ہے کہ انہیں ٹیکس ادا کرنے چاہئیں۔ وہ یہ باتیں اس ملک کے عوام کے بارے میں کرتے ہیں جہاں 50 فیصد آبادی غریب ہے۔ اس آبادی کا بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے یا اس کے گرد گرد زندگی گزارتا ہے۔

پاکستان میں لیبر فورس کی کل تعداد 6 کروڑ90 لاکھ کے قریب ہے۔ جس میں سے 60 لاکھ افراد بے روزگار ہیں جبکہ 6 کروڑ 30 لاکھ نوکریاں کرتے ہیں۔ 6 کروڑ 30 لاکھ محنت کشوں میں سے غالب اکثریت کم از کم اجرت 17500 کے قریب + اوسط ماہانہ کماتے ہیں۔ کروڑوں محنت کش سالانہ 96000 ہزار اور ایک لاکھ 70 ہزار کے درمیان کماتے ہیں۔ جو کہ سالانہ 5 لاکھ قابل ٹیکس آمدن سے بہت کم ہے مگر اس کے باوجود یہ کروڑوں محنت کش تمام ان ڈائریکٹ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ پاکستانی معیشت ایک کم تنخواہ والی معیشت ہے۔ محنت کش 10 سے 12 گھنٹے کام کرنے کے با وجود اتنے پیسے نہیں کماتے کہ وہ اپنے خاندان والوں کو بنیادی ضروریات زندگی فراہم کر سکیں۔ مگر وہ تمام ان ڈائریکٹ ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ خواتین جو کہ پاکستانی آبادی کا تقریباً نصف ہیں مگر لیبر فورس میںا نکا حصہ محض 22.39 فیصد ہے اس طرح 77 فیصد خواتین معاشی طور پر سرگرم نہیں ہیں۔ اور گھریلو مشقت ابھی تک کام کے طور پر تسلیم نہیں کی جاتی۔

جب کروڑوں محنت کش قابل ٹیکس آمدن سے کم کماتے ہوں۔ آدھی آبادی غربت کی لکیر کے آس پاس زندہ ہو۔ جب 77 فیصد خواتین معاشی طور پر غیر متحرک ہوں تو پھر آبادی کا بہت تھوڑا حصہ باقی بچتا ہے جو کہ زیادہ آمدن اور دولت کا حامل ہے اور جس سے ٹیکس وصول کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ آبادی کی اکثریت ٹیکس نہیں دیتی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقات اور اشرافیہ ٹیکس نہیں دیتی۔ان سے ٹیکس وصولی اصل ہدف ہونا چاہیے نہ کہ غریبوں ، محنت کشوں اور درمیانے طبقے پر بالواسطہ ٹیکس کا بوجھ لاد یا جائے اور پھر یہ بھی کہا جائے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ پاکستانی حکمران پہلے تو زخم دیتے ہیں اور پھر اس پر نمک بھی چھڑکتے ہیں۔


ای پیپر