قو می مسا ئل کا حل اور عمر ا ن حکو مت کا طر یقہ کار
01 جولائی 2019 2019-07-01

اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جا ئے کہ وز یرِ اعظم عمرا ن خان کی نیت ملک کو ر یا ستِ مد ینہ کے طو ر چلا نے کے با رے میں کھر ی ہے تو بھی یا د ر کھنے کی با ت یہ ہے کہ کو ئی اکیلا حکمر ا ن ا ٓ ج کے دور میں بگڑے تگڑے نظا م کو در ست نہیں کر سکتا۔ اور پھر ایک ایسے ملک میں جہا ں با ئیس کر وڑ افراد سا نس لے رہے ہو ں، اور جس ملک کا نظا م روزِ اول سے زبو ں حا لی کا شکا ر ہو ، وہا ں ایک انتہا ئی ا یما ندا ر اور جفا کش ٹیم کی ہمر ا ہی کے بناء ایسا سو چنا بھی خو د کو دھو کہ دینے کے مترا دف ہے۔ یہا ں یہ تمہید با ند ھنے کی ضر ور ت یو ں پیش ا ٓ ئی کہ پچھلے دنو ںوزیر اعظم جناب عمران خان نے میڈیا کے ذریعے لوگوں کو یقین دلایا کہ اگر کسی ٹیکس گزار کو ہراساں کیا گیا تو وہ خود اس کی شکایت کا ازالہ کریں گے۔ اس یقین دہانی کا مقصد یہ تھا کہ لوگ بے فکر ہوکر اپنے اثاثے ظاہر کریں اور ٹیکس دینا شروع کردیں۔ حکومت کی نظر میں ا ٓجانے کے خوف سے لوگوں کے دلوں میں جو خدشات ہیں، انہیں نکال دیں۔ بے فکر ہوجائیں کیونکہ جناب وزیراعظم خود ان کے تحفظ کی ضمانت دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی یہ سوچ اور یہ جذبے سراہے جانے کے قابل ہیں لیکن حکومت کے کرتا دھرتا لوگوں کو کون سمجھائے کہ کوئی بھی فرد واحد ایک پورے نظام کی زیادتیوں کے خلاف ڈھال نہیں بن سکتا۔ ایک طرزِ عمل کے خلاف اکیلا عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے ممکن ہے ان کے ذہن میں قرونِ اولیٰ کی ریاستیں ہوں جن میں ایک ا ٓئیڈیل اسلامی ریاست بھی تھی۔ لیکن وہ سادہ زمانے تھے، زندگیاں سادہ تھیں، مسائل سادہ اور کم تھے، اس لیے شکایات بھی سادہ تھیں۔ سب سے بڑا فرق یہ تھا کہ ا ٓبادیاں مختصر تھیں۔ اس زمانے کا ا ٓج کے زمانے سے موازنہ ممکن نہیں۔ ایک خبر نظر سے گزری کہ ’’وزیر اعظم کے شکایات سیل میں 14 ہزار درخواستیں زیر التوا ہیں‘‘۔ یہ صرف پنجاب پولیس کے پورٹل کا ذکر ہے۔ خبر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ زیر التوا شکایات میں لاہور پولیس کا پہلا نمبر ہے، جس کی 7 ہزار شکایات زیر التوا ہیں۔ یعنی 7 ہزار شکایات کا لاہور پولیس کے افسروں نے تاحال جائزہ ہی نہیں لیا۔ فیصل ا ٓباد کا دوسرا نمبر ہے، جہاں 3 ہزار شہریوں کی شکایات داد رسی کی منتظر ہیں۔ راولپنڈی کا تیسرا نمبر ہے جہاں 2300، جبکہ گوجرانوالہ کے شہریوں کی 2 ہزار شکایات وزیراعظم کے پورٹل پر داد رسی کے انتظار میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہریوں کی زیادہ تر شکایات ایف ا ٓئی ا ٓر درج نہ ہونے، قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور تفتیش ٹھیک نہ ہونے کے حوالے سے ہیں۔بتا یا گیا ہے کہ زیر التوا شکایات کے حوالے سے ا ٓئی جی پنجاب کی زیر صدارت ایک بڑا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ لاہور اور دیگر اضلاع کے پولیس افسر وزیر اعظم کے پورٹل پر موجود شکایات کو دو ہفتے کے اندر اندر حل کریں گے۔ اگر کوئی شہری پولیس کے عدم تعاون کی شکایات کرے گا تو متعلقہ افسر سے بازپرس ہوگی۔ اطلاع ہے کہ وزیر اعظم خود شہریوں کو فون کرکے ان کی شکایات کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب پولیس شکایات جلد دور کرنے میں مستعد نظر ا ٓرہی ہے۔ بہرحال دو ہفتے میں شکایات دور کرنے کی ہدایت کرنے اور ایسا ہوجانے میں زمین و ا ٓسمان کا فرق ہے۔ یہاں ذکر صرف وزیر اعظم کے شکایات سیل کے پنجاب پولیس کے پورٹل کا ہے، جہاں 14 ہزار شکایات دور ہونے کی منتظر ہیں۔ ان میں سے بہت بڑی اکثریت ان شکایات کی ہوگی جہاں بوجوہ پولیس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں گے۔ کچھ بھی کرنے سے پہلے بہت کچھ دیکھنا پڑتا ہے۔ کئی معاملات میں عدالتی پہلو بھی ہوں گے۔ اکثر میں حقائق اس طرح درج ہوں گے کہ شکایت پڑھے بغیر ظلم ہوتا نظر ا ٓئے گا۔ اکثر شکایت صرف سچ پر مبنی نہیں ہوں گی اور پھر ہر معاملے میں ایک دوسرا فریق بھی تو ہوتا ہے، اس کو بھی سننا ضروری ہے اور یہیں سے ہر معاملہ الجھنا اور پیچیدہ ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ یہ معاملات اتنے سادہ نہیں، جتنے سادہ انہیں سمجھا جارہاہے۔ وزیر اعظم کے شکایات سیل میں اس وقت تک شکایات موصول ہوتی رہیں گی جب تک لوگ اس نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے کہ شکایت کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور لگتا ہے کہ ایسا بہت جلد ہوگا۔ ایسے اقدامات کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیں، ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔

سوا ل پو چھا جا سکتا ہے کہ کیا پھر عوا م کو شکایت اور داد رسی کا حق نہیں ہونا چاہیے؟ ضرور ہونا چاہیے! یہ حق نہ ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ لیکن یہ حق یوں یقینی نہیں بنتے جیسے انہیں یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ تو محض سیاست ہے۔ اگر ہر شہری کی شکایت دور کرنی ہے تو سب سے پہلے اس کا انتظام اس سطح پر ہونا چاہیے جہاں شکایت پیدا ہوتی ہے۔ یہ یقینی بنانا چاہیے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے شکایت پر بلاتاخیر فیصلہ ہو اور اگر تاخیر ہو تو فوراً پکڑی جائے۔ صرف ایک مثال۔ اگر پرچہ درج نہیں ہوتا تو تھانے پر لازم ہونا چاہیے کہ وہ تحریراً اور بلاتاخیر اس کی وجہ شکایت کنندہ کو بتادے۔ اس کے بعد وہ چاہے تو سب ڈویژنل پولیس افسر کے پاس جائے جہاں یا تو پرچہ درج کرنے کا تحریراً حکم دیا جائے یا تحریراً دوبارہ انکار کیا جائے۔ شکایت کنندہ کو ایس پی کے پاس بھی جانے کا حق دے دیا جائے اور اس سطح پر بھی وہ وہی کرنے کا پابند ہو جیسے اس کا ماتحت تھا۔ اس سب کے بعد اگر شکایت کنندہ چاہے تو تین تحریری فیصلوں کے ساتھ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے۔ شکایت کیوں پیدا ہوتی ہے؟ سب سے زیادہ وجہ تاخیر ہوتی ہے اوردوسری زبانی ٹال مٹول۔ ہر کام کے لیے ایک نیا دفتر قائم کرلینا مناسب نہیں۔ نظام درست کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ نظام بدستور نقائص سے اٹے رہیں لیکن متوازی دفاتر قائم کرکے ان نقائص کو دھونے کا سامان کیا جائے۔ یہ تو قومی وسائل کا دہرا ضیاع ہو ا ۔ خصو صا ً ان دنو ں میں ، جب کہ ملک کی معا شی حا لت ر یکا ر ڈ ابتر ی کا شکا ر ہے، متوا زی د فا تر یا نظا م کا قیا م ایک نئی کشمکش کی ا ٓما ج گا ہ کے طو ر پر سا منے ا ٓئے گا۔ گو یا ایک تو ا ٓپ ناقص نظام قائم رکھتے ہیں اور اس پر قومی وسائل ضائع کرتے ہیں۔ دوسری طرف ا ٓپ ایک نئے اضافی نظام پر خرچ شروع کردیتے ہیں جو کبھی بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں پر حاوی نہیں ہوسکتا۔


ای پیپر