محفوظ قطب کیلئے انٹرنیشنل ایوارڈ
01 جولائی 2019 2019-07-01

سید محفوظ قطب پاکستان کے معروف ٹیکسٹائل انجینئر ہیں۔ ان کی ہنر مندی اور پروفیشنلزم کا اعتراف صرف پاکستان ہی نہیں بیرون ملک بھی کیا جاتا ہے۔سید صاحب، اسداللہ غالب صاحب کی زیر نگرانی چلنے والے ادارے پریس کونسل آف انٹرنیشنل افیئرز(پی سی آئی اے) میں بھی ہمارے ساتھ ممبر ہیں۔ 30مئی کو انہیں انگلینڈ آنے کی دعوت دی گئی جہاں مانچسٹر کی انٹرنیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی نے عالمی ایوارڈ سے نوازا۔ یہ وطن عزیز پاکستان کے کسی شہری کو ملنے والا ٹیکسٹائل انڈسٹری کا پہلا ایوارڈ ہے اور جس ادارے نے ایوارڈ دیا ہے اس کی اپنی حیثیت بھی عالمی سطح پر معتبرتسلیم کی جاتی ہے۔ سید محفوظ قطب ایک بہت بڑے خطاط بھی ہیں۔انہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے اسمائے مبارک بھی تجریدی آرٹ میں لکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ سینکڑوں دوستوں کو اپنی خطاطی کے فن پارے تحفہ کے طور پر دے چکے ہیں اور لوگوں نے ان نایاب اور نادر فن پاروں کو اپنے گھروں اور ڈرائینگ روموں کی زینت بنا رکھا ہے۔سید محفوط قطب نے یہ ایوارڈ کیسے حاصل کیا اور اس کے پیچھے ان کی زندگی کے کتنے برسوں کی محنت و مشقت شامل ہے؟ اس کا ذکر کرنے سے پہلے آپ کو بتاتا چلوں کہ برصغیر پاک و ہند کا یہ علاقہ زمانہ قدیم سے ٹیکسٹائل انجینئرنگ کے حوالہ سے معروف رہا ہے۔ دنیا بھر میں ہمارے ٹیکسٹائل انجینئرز اور فیشن ڈیزائنرز کی طرف سے تیارکردہ خوبصورت کپڑوں کو پسند کیا جاتا ہے اور ہمارے ٹیکسٹائل انجینئرز کی مانگ دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر کے صرف پاکستان ہی نہیں بیرون ممالک میں بھی روزگار کما رہے ہیں اوردنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ مشہور ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر نے کہا تھا کہ ’’لباس شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے‘‘ان کی یہ بات بالکل درست ہے۔ ہر شخص کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ اچھا دکھائی دے۔اس کیلئے خوبصورت لباس کا انتخاب اس ذوق شوق کی تکمیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے جبکہ ٹیکسٹائل انجینئر اور فیشن ڈیزائنز ہی ہیں جو اچھے لباس کی تیاری میں سب سے زیادہ معاون ثابت ہوتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ٹیکسٹائل پاکستان کی بہت بڑی صنعت ہے۔ جب پاکستان بنا تو صرف دو کارخانے تھے لیکن آج سے اٹھائیس سال قبل 1991ء میں اس حوالہ سے اعدادوشمار جمع کئے گئے تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل ملوں کی تعداد 250ہو چکی ہے اور اب یقینا یہ تعداد اس سے بہت بڑھ چکی ہو گی۔ یہ تو بڑی ٹیکسٹائل ملوں کی بات ہے ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے کارخانے بھی کام کر رہے ہیں۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر سال اوسطاً تقریباً پچاس نئے کارخانے قائم ہو رہے ہیں اور قومی برآمدات کا پچاس فیصد سے زیادہ حصہ ٹیکسٹائل کی مصنوعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ پاکستان میں تیار کردہ سوتی کپڑا، اونی مصنوعات، قالین اور دیگر ملبوسات پوری دنیا میں پسند کئے جاتے ہیں۔

پاکستان کو معرض وجود میں آئے بہتر برس گزر چکے ہیں۔ ملک بھر میں ٹیکسٹائل ملوں کا جال پھیل چکا ہے اوریہاں بڑے بڑے ٹیکسٹائل ٹائیکون موجود ہیں۔ ایسے ایسے ٹیکسٹائل انجینئر بھی ہیں جو اتنی خطیر رقم تنخواہوں کی مد میں لے رہے ہیں کہ عام آدمی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ فیصل آباد کپڑے کی بہت بڑی مارکیٹ ہے، اسے پاکستان کا مانچسٹر کہا جاتا ہے۔ لوگ ماہانہ کروڑوں روپے کما رہے ہیں مگر قیام پاکستان کے بعد سے اب تک کسی پاکستانی کو ٹیکسٹائل کی صنعت میں عالمی ایوارڈ نہ مل سکا۔ کوئی ٹیکسٹائل انجینئر بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا یوں نہ منوا سکا جس طرح سید محفوظ قطب کو پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ان کی کہانی یقینی طور پر لائق فخراور نوجوان نسل کے مشعل راہ ہے۔ ٹیکسٹائل یونیورسٹی مانچسٹر 1910ء میں بنی اور اس نے اپنے قیام کے دس برس بعد ٹیکسٹائل انڈسٹری کی سرپرستی اور ہنر مندو باصلاحیت ٹیکسٹائل انجینئرز کی حوصلہ افزائی کیلئے ایک سالانہ ایوارڈ کا اجراء کیا ۔ یہ ایوارڈ بھارت، سری لنکااور بنگلہ دیش سمیت دنیا کے مختلف ملکوں کے بہت سے اداروں کو مل چکا ہے مگر پاکستان اس حوالہ سے ابھی تک محروم تھا۔ مانچسٹر کی اس ٹیکسٹائل یونیورسٹی نے تقریباً ایک سال تک پاکستان میں ہونہاراور اپنی فیلڈ کے ماہر ٹیکسٹائل انجینئرکی تلاش جاری رکھی اور ان کی نظر انتخاب سید محفوظ قطب پر پڑی تو ان کی کارکردگی اور ہنرمندی کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اس امر کا فیصلہ کیا گیا کہ اس سال کا ایوارڈ انہیں دیا جائے گا۔ مانچسٹر ٹیکسٹائل یونیورسٹی کی جانب سے انہیں بیس مئی کو مانچسٹر بلایا گیا جہاں تقریباً دس دن تک انہوں نے قیام کیا اور اسی دوران ایک خصوصی تقریب میں سونے کا ایک میڈل ان کے گلے میں پہنایا گیا۔ یہ منفرد ایوارڈ ہے جو صرف ان کیلئے ہی نہیں پورے ملک کیلئے اعزاز کی بات ہے۔ سید محفوظ قطب نے پوری زندگی جس طرح جانفشانی سے اپنی فیلڈ میں محنت کی آج انہیں اللہ تعالیٰ نے اس کاصلہ بھی خوب عطا کیا ہے۔ وہ پوری دنیا میں ٹیکسٹائل کی صنعت میں وطن عزیزپاکستان کا نام روشن کرنے کا سبب بنے ہیں۔

سید محفوظ قطب کو جس طرح مانچسٹر میں پذیرائی ملی اسی طرح پاکستان میں بھی انہیں ہر طرف سے مبارکبادیں مل رہی ہیں۔ ان کے اعزاز میں ضیافتوں اور تقاریب کا اہتمام ہو رہا ہے۔ ایسی ہی ایک تقریب کا اہتمام پریس کونسل آف انٹرنیشنل افیئرز کی جانب سے بھی کیا گیا جس میں پاکستان کے نامور ڈاکٹر محمود شوکت، ڈاکٹر آصف محمود جاہ، وحید رضا بھٹی،خالد سلیم، منظور احمد ودیگر ایسی شخصیات نے شرکت کی جو عام تقاریب میں شرکت کیلئے کم ہی وقت نکال پاتے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو جدید خطوط پر استوارکرنے میں یقینا ان کا بھی بہت حصہ ہے۔ انہوں نے نصف صدی سے زائد عرصہ تک جو محنت اور کاوش کی آج دنیا اس کی معترف دکھائی دیتی ہے۔ حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ ایسی شخصیت جس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کا نام ٹیکسٹائل کی صنعت میں سربلند ہوا ہے، اسے ملکی سطح پر بھی اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا جائے ۔ وہ یقینی طور پر اس کے مستحق ہیں اور انہیں یہ حق دیا جانا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ آج جس طرح سید محفوظ قطب کی پذیرائی ہوئی اور عالمی سطح پر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اس سے یقینا پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے دنیا میں اور کئی در کھلیں گے اور یہ صنعت پوری دنیا میںپاکستان کا نام اور زیادہ روشن کرتی رہے گی۔ پاکستان میں باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں ہے، یہاں اور بھی بہت سے سید محفوظ قطب چھپے بیٹھے ہیں ، ضرورت اس امرکی ہے کہ حکومتی سطح پر بھی ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ایسی گوہر نایاب شخصیات کو پاکستانی قوم کے سامنے لایا جائے تاکہ نوجوان نسل میں بھی اپنے ملک کیلئے کچھ کر گزرنے اور پاکستان کا نام روشن کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ ٹیکسٹائل کی صنعت سے بہت ذہین لوگ وابستہ ہیں اگر حکومت ان کی تھوڑی مزید سرپرستی کرے تو یہ پوری دنیا میں پاکستان کا نام اور زیادہ روشن کر سکتے ہیں۔میں ایک بار پھر سید محفوظ قطب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے مزید کام لے اور ان کی شخصیت پاکستان کیلئے مزید زیادہ نیک نامی کا باعث بن سکے۔ آمین۔


ای پیپر