پنجاب میں ووٹروں کے رجحانات
01 جولائی 2018 2018-07-01

پنجاب میں ووٹروں کے رجحانات کو درست طور پر سمجھنے کے لئے اسے شہری اور دیہی، طبقاتی اور علاقائی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ شہری اور دیہی ووٹروں کے رجحانات میں نمایاں فرق ہے اسی طرح مختلف طبقات کے رجحانات میں بھی فرق ہے جبکہ علاقائی رجحانات بھی سیاسی حقیقت ہیں۔ مثلاً جنوبی پنجاب اور سنٹرل پنجاب کے دیہی ووٹروں کے رجحانات میں نمایاں فرق ہے۔ اس طرح وہ اضلاع جہاں پر مشرقی پنجاب سے آنے والے مہاجرین کی اکثریت آباد ہے ان اضلاع اور علاقوں کا سیاسی رجحان ان اضلاع اور علاقوں سے مختلف ہے جہاں پر آبادی کا تبادلہ نہیں ہوا اورقدیم باشندے آباد ہیں۔ مثلاً نارووال ، خوشاب اور جھنگ کے سیاسی رجحانات میں نمایاں فرق ہے۔

پنجاب کے شہروں میں سیاسی جماعتیں بہت حد تک اپنی مضبوط بنیادیں بنا چکی ہیں۔ شہروں میں روایتی برادری ازم بھی کمزور ہو چکا ہے۔ جبکہ سیاسی جماعتوں کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ برادری، مقامی دھڑوں اور شخصیات کا عمل دخل ختم ہو گیا ہے البتہ یہ پہلے سے کمزور ہوا ہے۔ پنجاب کے شہروں میں اس قت مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف سب سے بڑے سیاسی رجحان کے طور پر موجود ہیں۔ تحریک انصاف کے ابھار سے پہلے اور پیپلز پارٹی کے کمزور ہونے سے پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نمایاں اور مضبوط سیاسی رجحان تھے۔ 1970ء سے لے کر 2008ء تک پیپلز پارٹی ایک مضبوط رجحان کے طور پر موجود تھی مگر اس کے بعد اس کی حمایت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

روایتی طور پر پیپلز پارٹی شہروں میں محنت کشوں، غریبوں اور درمیانے طبقے کی نچلی اور درمیانی پرتوں میں مقبولیت رکھتی تھی۔ شہروں کے غریب علاقے پیپلز پارٹی کے مضبوط گڑھ تھے مگر 1990ء کے بعد صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوئی اور مسلم لیگ (ن) نے ان علاقوں میں قدم جمانے شروع کر دیئے۔ مسلم لیگ (ن) درمیانے طبقے خاص طور پر تاجروں ، مذہبی رجحانات رکھنے والے افراد اور طبقہ امراء کی پسندیدہ جماعت تھی۔ 2018ء میں صورتحال بہت حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔مسلم لیگ (ن) جو کہ تاجروں کی نمائندہ جماعت سمجھی جاتی تھی اور تاجر برادری کی واضح اکثریت اسے ووٹ دیتی تھی مگر اب حالات تبدیل ہو گئے ۔ تاجر برادری اس وقت تقسیم ہے۔ تاجروں کا ایک حصہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہے جبکہ بڑی تعداد میں تاجر تحریک انصاف کی حمایت بھی کر رہے ہیں جبکہ تحریک لبیک یا رسول اللہؐ پاکستان بھی تاجروں کے ایک حصے میں حمایت رکھتی ہے اسی طرح جماعت الدعوۃ کے سیاسی ونگ کی بھی تاجروں میں حمایت موجود ہے۔ مسلم لیگ (ن) جو کہ تاجر برادری کے اکثریتی ووٹ حاصل کرتی تھی اب اس کا ووٹ بینک بڑی طرح منقسم ہے۔

اسی طرح مسلم لیگ (ن) کو درمیانے میں بھی نمایاں حمایت حاصل تھی اور لاہور کے امیدوار پر مڈل کلاس علاقوں سے اس کے امیدوار باآسانی جیت جاتے تھے مگر اب تحریک انصاف کو ان پر توں میں نمایاں حمایت حاصل ہے۔

2013ء میں مسلم لیگ (ن) کو شہری علاقوں کے متوسط اور غریب علاقوں سے نمایاں حمایت اور ووٹ حاصل ہوئے تھے اور مسلم لیگ (ن) کی جیت میں ان ووٹروں نے نمایاں کردار ادا کیا تھا جبکہ آزاد ووٹروں نے بھی بڑی تعداد میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا تھا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ تحریک انصاف اس وقت غریب اور متوسط علاقوں میں بھی جڑیں بنانے میں کامیاب ہئی ہے اور اسے اس مرتبہ پہلے سے زیادہ ووٹ ملنے کی توقع ہے۔

تحریک انصاف کو شہری پڑھے لکھے نوجوان ووٹروں میں نمایاں حمایت حاصل ہے۔ پڑھے لکھے درمیانے طبقے کے نوجوان ووٹر بڑی تعداد میں تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے۔ جبکہ غریب اور متسوط علاقوں میں اب بھی مسلم لیگ (ن) کو نمایاں حمایت حاصل ہے۔

پیپلز پارٹی جو کہ بائیں بازو کے نظریات رکھنے والی غریبوں ، محنت کشوں اور دانشوروں کی جماعت تھی اس لئے مذہبی رجحانات رکھنے والے ووٹر اس کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ ڈالتے تھے جبکہ تحریک انصاف کو یہ فائدہ حاصل ہے کہ یہ بھی دائیں بازو کے نظریات اور خیالات رکھنے والی جماعت ہے اس لئے دائیں بازو کے مذہبی رجحانات رکھنے والے ووٹر تقسیم ہیں یہی وجہ ہے تحریک انصاف ان علاقوں میں بھی مسلم لیگ (ن) کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے جہاں پر پیپلز پارٹی کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مقابلہ دراصل دائیں بازو کے دو رجحانات کے درمیان مقابلہ ہے۔ اسی طرح شہری سیکولر اور لبرل رجحانات رکھنے والے افراد جو کہ روایتی طور پر پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے تھے اس مرتبہ وہ بھی تقسیم ہیں ان کا ایک حصہ مسلم لیگ (ن) کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کی وجہ سے اسے ووٹ دے گا جبکہ ایک حصہ تحریک انصاف کو آزمائے گا۔

جس طرح پنجاب میں نواز شریف کو بھٹو اور پیپلز پارٹی مخالف رہنما کے طور پر ابھارا گیا اور وہ تمام قوتیں جو کہ بھٹو کی مخالف تھیں اور بھٹو کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں براہ راست متاثر ہوئی تھیں وہ سب قوتیں نواز شریف کے گرد جمع ہو گئی تھیں اسی طرح اس وقت عمران خان پنجاب میں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے سب سے بڑے مخالف کے طور پر ابھارے گئے ہیں اور میدان میں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف مخالف ووٹ اب عمران خان کی حمایت کر رہا ہے۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ووٹروں کی بڑی تعداد بھی اس لئے عمران خان کو ووٹ دے گی کیونکہ اس وقت نواز شریف کو ہرانے کی صلاحیت اور پوزیشن صرف عمران خان کے پاس ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ووٹروں کی اکثریت اسٹیبلشمنٹ کے روایتی اتحادی اور حمایتی ہے جبکہ تحریک انصاف بھی اسٹیبلشمنٹ کی حامی اور حمایتی جماعت ہے اس لئے اسٹیبلشمنٹ کے حامی اور حمایتی بھی بڑی تعداد میں تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے کیونکہ یہ عمومی تاثر موجود ہے کہ مقتدر قوتیں عمران خان کو اقتدار میں لانا چاہتی ہیں جبکہ وہ نواز شریف کے خلاف ہیں اور اسے اقتدار میں نہیں آنے دیں گی۔ اس تاثر اور پروپیگنڈے کی بدولت بھی تحریک انصاف کو خاطر خواہ فائدہ ہوا ہے۔

اس وقت آزاد ووٹروں میں یہ رحجان تقویت پکڑ رہا ہے کہ اس بار عمران خان کو موقع دیا جائے ہم نے سب کو آزما لیا ہے تو کیوں نہ اس مرتبہ عمران خان کو بھی آزما لیں۔ پنجاب کے وہ ووٹر جو کہ کسی جماعت کے ساتھ مستقل طور پر منسلک نہیں ہیں۔ ان کے ایک حصے میں یہ رجحان موجود ہے جو کہ کئی حلقوں کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تحریک انصاف کی کامیابی میں اصل کردار انہی ووٹروں کا ہو گا۔ (جاری ہے)


ای پیپر