جھوٹے وعدے جھوٹی قسمیں

01 جولائی 2018

مشتاق سہیل

کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا، الٹی گنتی گنتے جایئے، عام انتخابات میں23دن باقی، پلک جھپکتے ہی گزر جائیں گے، امیدوار سامنے آگئے، جنہیں ٹکٹ ملنے تھے مل گئے، جنہیں نہیں ملے وہ مایوسی کا شکار، جو زیادہ جذباتی تھے آزاد حیثیت میں کھڑے ہوگئے، سر پر کسی کا ہاتھ نہ سائبان، مگر امید ہے کہ ٹوٹتی ہی نہیں، کہنے لگے سیاست کرنا جانتے ہیں، کرکے دکھائیں گے، ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔23دن بعد پتہ چل جائے گا کتنے پانی میں ہیں۔ بعض سیاسی جماعتوں نے انتخابی منشور پیش کر دیئے، آسمان سے تارے توڑ کر عوام کے قدموں میں بچھانے کے دور ازکار دعوے۔ اقتدار کے عشق میں مبتلا سیاسی لیڈر بھی ایسے ہی وعدے کر رہے ہیں۔ جھوٹے وعدے جھوٹی قسمیں ، دھوکہ فریب سے بھر پور منشور۔ نئے نویلے چیئرمین سے منشور کا اعلان کرایا۔ جسے ابھی تک عملی زندگی کا تجربہ ہی نہیں وہ منشور پر کیا عملدرآمد کریگا۔ لوگ تین تین شادیوں کے بعد بھی عملی زندگی سے نابلد رہتے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے اپنے دستور میں جمہوریت کو مضبوط و مستحکم بنانے، تعلیم و صحت پر خصوصی توجہ دینے، کاشتکاروں کو سبسڈی، ٹیکسٹائل ٹیکس فری اور پانی کا مسئلہ حل کرنے کے وعدے کئے۔ بھوک مٹاؤ پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ایک محترم دوست نے کہا کہ جس نے منشور لکھ کر دیا وہ بھوک لکھنے سے پہلے ’’ اپنی‘‘ لکھنا بھول گیا۔ اپنی بھوک مٹاؤ پروگرام40 سال سے جاری و ساری ہے لیکن دولت اور اقتدار کی بھوک مٹتی ہی نہیں عوام کی بھوک کیا مٹائیں گے۔ دس سال اقتدار میں گزار دیئے، تھر کے علاقے کی بھوک پر قابو نہ پاسکے، سیکڑوں بچے قلت خوراک سے جاں بحق ہوگئے، اپنی بھوک مٹانے میں سرگرم۔ کوئی کارخانہ نہ صنعتی ادارے۔ باپ دادا بھی صنعتکار نہیں تھے۔ اثاثے اربوں کھربوں میں، یاری دوستی میں کسی نے نہیں پوچھا کہ اربوں کی گاڑیاں کہا ں سے آئیں۔ بینک نوٹوں سے بھر گئے پھر بھی اندر سے ہل من مزید کی صدائیں۔ بھوکے عوام کی تعداد بڑھتے بڑھتے14کروڑ ہوگئی۔ اقتدار کبھی بھی گھر کی چوکھٹ سے باہر نہیں رہا۔ غلام گردشوں تک ہمیشہ رسائی حاصل رہی لیکن عوام محروم رہے۔ جمہوریت کے استحکام، صوبائی خود مختاری ، آئین میں ہیرا پھیری، ترامیم کے ڈھیر لیکن ان تمام اقدامات سے عوام کو کیا ملا؟ وہ اب تک چیخ چلارہے ہیں کہ’’ خدا کے واسطے جھوٹی نہ کھائیے قسمیں ، ہمیں یقین ہوا ہم کو اعتبار آیا‘‘ آپ نے کچھ کیا نہ کریں گے۔ بھولے بادشاہ نے کیا کرنا ہے۔ والد صاحب اسٹیرنگ پر بیٹھے ہیں۔ سیاسی جادو گر کہلاتے ہیں۔ دم کے دم میں سینیٹ کا تختہ الٹ کر ن لیگ کو اکثریت سے محروم کر دیا۔ 23دن کے بعد قومی اسمبلی میں بھی کسی چمتکار کا منصوبہ بنا رہے ہوں گے۔ شبیر بجرانی مایوس ہوکر پی ٹی آئی میں جا رہے ہیں۔ راتوں رات کیا چھو منتر کیا کہ نہ صرف واپس آگئے بلکہ پیپلز پارٹی ٹکٹ پر الیکشن سے قبل ہی بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔ صلائے عام ہے یا ران نکتہ داں کیلئے کہ ناشتہ کہیں بھی کریں، ڈنر پیپلز پارٹی کے دستر خوان پر ہی ہوگا۔ پی ٹی آئی اب تک منشور کا باقاعدہ اعلان نہیں کرسکی۔ حالانکہ اعلان کی چنداں ضرورت نہیں۔ عمران خان پانچ سال سے کنٹینر پر چڑھ کر منشور ہی بیان کر رہے ہیں۔ دھاندلی، کرپشن کیخلاف اعلان جہاد لیکن سارے اثاثوں کے اعلان پر کتنے امیدواروں نے سچ بولا، کتنوں کے جھوٹ کو سچ قرار دیا گیا۔ ایک دن فواد چوہدری اور خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی مسترد، دوسرے دن فواد چوہدری اہل، خاقان عباسی تاحیات نا اہل۔ تیسرے دن اللہ اللہ کرکے اہل قرار پائے۔ ابھی عشق کے امتحان ختم نہیں ہوئے، تمام امیدواروں نے سالہا سال پہلے کی قیمتیں درج کیں۔ الیکشن کمیشن نے سب کو اہل قرار دیدیا۔ عمر بھر سیاست کرتے رہے نا اہل ہو کر کیا کرتے۔ سیاست دان قول فعل کے سچے ہوتے تو ملک جنت نظیر بن جاتا۔ یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہیتیں، کچھ نہیں ہوا۔ نہر بہنا درکنار لوگوں کو پینے کا صاف پانی تک نہ مل سکا۔ گٹروں کا بدبودار پانی عوام کا مقدر ٹھہرا۔ پیؤ، نہاؤ، استعمال کرو کہ یہ تمہارا بنیادی حق ہے، منشور میں بنیادی حقوق کا وعدہ کیا تھا، سو پورا کر دیا۔ جس پارٹی نے5سال منشور پیش کرنے کی مہلت ہی نہیں مل رہی۔ قائد ملک سے باہر، صدر کو نیب طلبی کے نوٹس پر نوٹس، کیرئر خطرے میں دکھائی دینے لگا۔ پارٹی کا وجود ہی خطرے میں ہے۔ آخری درخواست بھی دائر کر دی گئی کہ نا اہل شخص کے نام پر ن لیگ کیوں باقی ہے۔ رجسٹریشن منسوخ ہوجائے گی۔ ن لیگ کے قائد نے نظریاتی کارکنوں کی قدر نہیں کی۔ ادھر سے ادھر آنے والوں کو نوازا ، سر پر بٹھایا، مگر وقت آنے پر وہ پھسل کر داغ مفارقت دے گئے۔ نواز شریف کی پٹاری امیدواروں سے خالی ہوگئی۔ 173نشستیں خواب بن گئیں۔ مشاہد حسین نے بھی100نشستوں کی پیش گوئی کی مگر 100 بھی کیسے ملیں گی؟ چند ماہ قبل تحریک انصاف نے جو سروے کرائے تھے انکی رپورٹس مایوس کن تھیں۔ اوپر والوں سے فریاد کی، مائی باپ ’’آپ کا بندہ اور کھائے شکست ‘‘کیسے ہوسکتا ہے۔ غیبی اشارے ملے، کہ ن لیگ کے راستے پر کانٹے بچھا دیئے گئے ہیں، سب کچھ غیر یقینی بنا دیا گیا ہے۔چوہدری نثار نے ٹکٹ لینے سے انکار کیوں کیا۔
ہمیں کیا پتہ بس اتنا ہی پتہ ہے کہ درخواست نہ دینے کے باوجود ٹکٹ کا مطالبہ کر رہے تھے، درخواست دے دیتے تو کیا حرج تھا۔ پوشاک میلی نہ ہوتی لیکن ٹکٹ چاہئے ہی نہیں تھا۔ ن لیگ نے قمر الا سلام کو مقابلے کیلئے ٹکٹ دیدیا۔ قمر الاسلام ٹکٹ ملتے ہی راتوں رات ’کرپٹ ‘ہوگئے۔ نیب نے طلب نہیں کیا، گرفتار کر لیا۔14روزہ ریمانڈ، بے گناہی ثابت ہو ہی نہیں سکتی۔ انتخابی مہم ان کے ننھے منے بچے چلائیں گے۔ صورت حال کیا ہے؟ جو سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں کریں گے، کریں گے کی گردان دہرائیں گی وہی الیکشن میں آگے ہوں گی، حرف آخر حالات اچھے نہیں۔

مزیدخبریں