ٹیکس کی چو ری معیشت کی کمز و ر ی
01 جولائی 2018 2018-07-01

ذرا سو چئیے کہ اب اس ما ہ میں ہو نے وا لے عا م انتخا با ت کے لیئے قر یباً سا ڑ ے ا کیس ہز ا ر امید وا رو ں نے کا غذ ا تِنا مز د گی جمع کر ا ئے، مگر ان میں سے تیس فی صد کے پا س سر ے سے نیشنل ٹیکس نمبر ہی نہیں ہے۔ اور سا ٹھ فی صد ایسے امید وا ر ہیں جو ٹیکس نیٹ سے با ہر ہیں۔ گو یا یہ ہیں ہما ر ے معا شر ے کے و ہ سر کر د ہ با شند ے جو خو د کو صا د ق و امین کہتے ہو ئے اس ملک سے کر پشن ختم کر نے کے دعو ید ا ر ہیں۔ آ ج ا گر امر یکی ڈ ا لر ایک سو پچیس رو پے کے گر د گر د ش کر رہا ہے تو ا س کی وجہ سر کا ر ی خز ا نے کا خا لی ہو نا ہی تو ہے۔ جب حکو مت کو ٹیکس ہی نہیں ادا کیا جا ئے گا تو کیا آ سما ن سے فر شتے اتر کر خز ا نے کو بھر یں گے؟ یعنی یہ ہے ملک کی و ہ اشر ا فیہ جس کے گر یبا ن عو ا م کے ہا تھو ں میں ہو نے چا ہیں، اب اسمبلیو ں میں بر ا جما ن ہو کر لٹے ہو ئے عو ا م کو اب قا نو ن کی چتھر ی تلے بیٹھ کر مز ید لو ٹنے کا ا ر ا د ہ ر کھتی ہے۔ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے۔ پارلیمان میں جانے کے خواہش مند افراد وہ لو گ ہو نے چا ہیں جو با قا عد ہ طو ر پر ٹیکس نیٹ میں شامل ہو ں تا کہ پھر یہ اس معا شر ے کی ان کا لی بھیڑ و ں پہ ہا تھ ڈا ل سکیں جنہو ں نے ٹیکس کی عد م ا د ا ئیگی کی صو ر ت میں اس ملک کو آ ج اس نہج پہ پہنچا د یا ہے۔ بصورت دیگر ایف بی آر کو ان کے خلاف انتہائی اقدامات سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا اس لیے ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کلچر کمزور ہے اور شفافیت کا فقدان ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ جنہوں نے پارلیمنٹ میں پہنچ کر عوام پر ٹیکس عائد کرنے کے قواعد طے کرنے اور قانون سازی کرنی ہے، وہ خود ہی ٹیکس ناہندہ ہیں۔ ہمارے ملک میں مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس نیٹ دائرہ وسیع کرنے کے بجائے ٹیکسوں کی شرح بڑھانے پر زور دیا جاتا ہے۔ 2013ء میں بننے والی اسمبلی نے گزشتہ 5 برسوں میں ٹیکس کی شرح میں ہوشربا اضافہ کیا، یعنی پہلے سے اور رضاکارانہ طور پر ٹیکس ادا کرنے والوں سے ہی مزید رقوم کشید کی جاتی رہیں جبکہ سابق پارلیمنٹیریز میں سے بیشتر ٹیکس ناہندہ تھے۔ ٹیکس چوری کس بڑے اور وسیع پیمانے پر ہورہی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ تحریک انصاف کے پشاور سے ایک امیدوار نے 3.2 بلین روپے کی پراپرٹی ہونے کے باوجود صرف 3 ہزار ٹیکس ادا کیا۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کیا یہ حب الوطنی ہے؟ کیا یہ عوام دوستی ہے؟ کیا یہ ایمانداری ہے؟ کیا یہ صادق اور امین ہونے کا پیمانہ ہے؟ کیا ٹیکس ناہندہ افراد کو عوام کا نمائندہ ہونے کا حق حاصل ہونا چاہیے؟او ر سچ تو یہ ہے کہ ٹیکس نا د ہند گا ن کسی ایک سیا سی پا رٹی تک محد و د نہیں بلکہ یہ سب ہی بڑ ی سیا سی پا ر ٹیو ں پہ ر اج کر تے د کھا ئی دیتے ہیں۔ اس و قت جبکہ ہما ری عد لیہ اس معا شر ے کو سد ھا ر نے کا تہیہ کیئے بیٹھی ہے تو اس سے گذ ا ر ش ہے کہ ان ٹیکس چو ر و ں سے کسی قسم کی نر می نہ بر تے۔ اس ملک کے لٹے پٹے عو ا م ہر طر ف سے ما یو س ہو کر اب صر ف عد لیہ کی جا نب د یکھ ر ہے ہیں۔دو سر ی جا نب اب مو جو د ہ عد لیہ کے پا س بھی سنہر ی مو قع ہے قو م کے ان مجر مو ں کو ان کے کیفرِکر د ا ر تک پہنچا نیکا۔

عد لیہ خو د بھی د یکھ رہی ہے کہ حکو مت کا خز ا نہ خا لی کر نے کے سلسلے میں کچھ ایسی ہی بے حسی کا مظاہرہ قرضے معاف کر نے والے بھی کرتے رہے ہیں۔ یہ نہ صر ف بذ ا تِ خو د کرپشن کی ایک بڑی صو ر ت ہے، بلکہ ناجائز طور پر قرضے معاف کرنے والے بھی اس ملک اور قوم کے اتنے ہی بڑے مجرم ہیں جتنے قرضے معاف کرانے والے۔ بہرحال اب امید کی �آ خری کر ن کے طو ر پر عو ا م عز ت مآب چیف جسٹس میا ں ثا قب نثا ر کی جا نب دیکھ رہے ہیں۔ خو د چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے: قرضے معاف کرانے والے 75 فیصد رقم واپس کردیں یا مقدمات کا سامنا کریں۔ انہوں نے کہا کہ قوم کا ایک ایک پیسہ وصول کیا جائے گا اور ہوسکتا ہے کہ یہ رقم بینکوں کو واپس کرنے کے بجائے ملکی قرضہ اتارنے کے لیے استعمال کی جائے۔ چیف جسٹس کی سربرا ئی میں تین رکنی بینچ کی جانب سے 54 ارب روپے قرضہ معافی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ جو عدالتی کارروائی کا حصہ نہ بنے ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی ہوگی۔ یہ ایک اچھی خبر ہے۔ پاکستانی عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے قرضوں کی معافی کے بارے میں سن رہے ہیں۔ یہ معاملہ پہلی مرتبہ 1988ء میں مرکز میں بے نظیر بھٹو حکومت کے قیام کے بعد عوام کی نظروں میں آیا تھا، ورنہ اس سے پہلے عوام کئی سو ارب روپے کے قرضوں کی ری شیڈولنگ اور اربوں روپے کے قرضوں کی معافی سے بے خبر ہی تھے۔ لوگوں کے علم میں آیا کہ کیسے قومی وسائل کو شیر مادر سمجھ کر ہضم کرلیا جاتا ہے اور ذرہ برابر شرمندگی محسوس نہیں کی جاتی۔ پیپلز پارٹی کے ارشاد راؤ نے اس حوالے سے ایک لمبی فہرست مرتب کی تھی۔ اس کے کچھ حصے مختلف اخبارات کے ذریعے منظر عام پر بھی آئے تھے۔ قرضے معاف کروانے والوں میں زیادہ تر حکمران جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بااثر لوگ ہی شامل تھے، ورنہ عام آدمی کا قرضہ کہاں معاف ہوتا ہے؟ اس طر ح کے ظر زِ عمل کی ذمہ دا ر سیا سی پا رٹیا ں خو د بھی ہیں او ر وہ یو ں کہ حب الوطنی اور عوام دوستی کے دعوے کرنے والی سیاسی جماعتوں نے بھی ایسے افراد کو پارٹی سے نکالنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔ بے نظیر دور میں اس حوالے سے وفاقی سطح پر ایک محکمہ قائم کیا گیا تھا جس کی سربراہی ملک محمد قاسم کو سونپی گئی تھی۔ اب ذ را ملا حظہ فر ما یئے کہ یہ معاملہ خود بینظیر بھٹو کے ہی حکم سے روک دیا گیا، اور بات آگے نہ بڑھ سکی۔ اس مر تبہ سپریم کورٹ نے اس پر حکم جاری کیا ہے تو قوم کو ڈوبے ہوئے 84 ارب روپے بازیاب ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کی اس ہدایت پر عملدرآمد کے نتیجے میں بینکاری نظام کو فائدہ پہنچے گا۔ اس کی جڑیں مضبوط ہوں گی اور سرکاری خزانے کو مال غنیمت سمجھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ بازیاب کرائی گئی رقوم اگر قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کی جائے تو یہ بھی ایک نہایت احسن اقدام ہوگا۔ اس حکم سے گڈگورننس کی بھی بنیاد پڑے گی۔ ورنہ ہمارے ہاں ہوتا یہ ہے کہ جس شخص کو جو ادارہ سونپا جاتا ہے، وہ اسی ادارے کے ساتھ ذاتی بزنس شروع کردیتا ہے۔ او پر بیا ن کیئے گئے دونوں معاملات یعنی ٹیکس ناہندگی اور قرضو ں کی معافی عوام کے بھی پیش نظر رہنی چاہیے۔ کہنا یہ چا ہ ر ہا ہو ں کہ ملک سد ھا ر کا یہ عمل اتنا شفا ف ہو نا چا ہیے کہ عو ا م اس بارے میں ہر قسم کی کا رر و ائی سے لمحہ بہ لمحہ آ گا ہ رہیں۔ تب ان کے لیے اپنے بہتر نمائندے چننا آ سا ن ہو جا ئے گا۔ او رپھر ان کا عد لیہ پہ کھو یا ہوا ا عتما د بھی بحا ل ہو نا شر و ع ہو جا ئے گا۔ پا کستا ن اس و قت اپنے مخصو ص حا لا ت کی بناء پر پو ری دنیا کی تو جہ کا مر کز بنا ہوا ہے۔ اگر عا م انتخا با ت سے پہلے اور پھر ان کے دو را ن ہم عا لمی میڈیا کو یہ با ور کر ا نے میں کا میا ب ہو جا تے کہ ہما رے سپر یم ادا رے اس ملک کو سد ھا رنے کا نہ صر ف تہہِ د ل سے تہیہ کر چکے ہیں ہیں، بلکہ اس پہ گا مز ن بھی ہیں تو ہم ضر و ر اپنی منزلِ مقصو د پا لیں گے۔


ای پیپر