’’دس سالہ رفاقت ۔۔۔ پل بھر میں دشمنی ۔۔۔؟‘‘
01 جولائی 2018 2018-07-01

آج بارہ سال بعد اُس کا فون آیا ۔۔۔ اس دوران میری نہ تو اُس سے کبھی ملاقات ہوئی نہ ہی فون پہ بات، ان بارہ سالوں میں کوئی دن ایسا نہ تھا جب میں نے اُسے یاد نہ کیا ہو ۔۔۔

اُس کا فون آیا تو میں نے ’’ہیلو‘‘ کہا تو اُس کا مخصوص قہقہہ اُس کا تعارف کرانے کے لیے کافی تھا ۔۔۔ کچھ ایسے پھیکے تعلق بھی ہوتے ہیں جو سو بار بھی فون کریں تو اندازہ نہیں ہوتا ’’کون بول رہا ہے‘‘ ۔۔۔ اور ہر بار تعارف کروانا ہی پڑتا ہے ۔۔۔ خاص طور پر سیاسی تعلق ۔۔۔ ’’توبہ‘‘ ۔۔۔ ’’توبہ‘‘ ۔۔۔ یہ تعلق ایسے ’’خوفناک‘‘ ہوتے ہیں جہاں بار بار اپنا تعارف اور اپنی اوقات دکھانی پڑتی ہے ۔۔۔ ٹیلی ویژن پر دس سال تک ایک سیاستدان اپنے لیڈر کی تعریفیں کرتا رہا ۔۔۔ اُسے دنیا کا سب سے خوبصورت ، سب سے ایماندار، سب سے فراخ دل، انسانیت کا دوست ثابت کرتا رہا ۔۔۔ ’’لو جناب‘‘ اِدھر مطلب حل نہیں ہوا ۔۔۔ یا ذرا سی بے اعتنائی پر ۔۔۔ دس سالہ رفاقت پل بھر میں دشمنی میں بدل گئی ۔۔۔ خوبصورتی کی جگہ بد صورتی نے لے لی، وہ پل بھر میں دنیا کا سب سے بڑا بے ایمانDeclare ہو گیا ۔۔۔ اُسے بخیلی کی سند جاری کر دی گئی اور انسانیت کا سب سے بڑا دشمن ۔۔۔ یہ عنایت بھی ہو گئی ۔۔۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی ۔۔۔ یہ سب ہو جانے کے بعد ۔۔۔ کچھ Payment ہوئی کچھ خوشامد ہوئی تو پھر سے بغلگیر ہو گئے ۔۔۔ اور آخری بیان آ گیا ۔۔۔ ’’یہ سب تو کسی غلط فہمی کا نتیجہ تھا‘‘ ۔۔۔!!

ہمارے عدالتی نظام میں قتل تک کے مجرم پل بھر میں ’’بری‘‘ ہو گئے ۔۔۔؟!

کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ہماری گفتگو دو چار منٹ تک قہقہوں کے تبادلے پر ہی ختم ہو گئی ۔۔۔ تیرہ سال پہلے اُس نے مجھے رات ایک بجے فون کیا اور حکم دیا کہ جتنے پیسے تیرے پاس ہیں وہ کسی کاروبار میں لگا لو ذرا بھی تاخیر مت کرنا ورنہ ساری زندگی پچھتاؤ گے کیونکہ اس وقت تمہارا ’’ستارہ‘‘ بارہ سال بعد پھر عروج پر آ گیا ہے ایک رات جب میں اُس سے ملنے گیا تو ملازمہ نے آہستہ سے کہا ’’بی بی جی اوپر ہیں، آپ چلے جائیں‘‘ ۔۔۔ شدید گرمی کے موسم میں میں چھت پر چلا گیا وہ جائے نماز پر بیٹھی ایک بڑے سائز کی تسبیح پر کچھ ورِد کر رہی تھی ۔۔۔ مجھے دیکھا تو مسکرائے اور ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کو کہا ۔۔۔ میں چھت پہ بڑی دو کرسیوں میں سے بائیں طرف والی کرسی پر بیٹھ گیا اس دوران آنکھیں بند کیے وہ آہستہ آواز میں کچھ پڑھتی رہیں نہ جانے کب ٹیک لگائے شدید گرمی کے باوجود میری آنکھ لگ گئی ۔۔۔ جب میری آنکھ کھولی تو وہ دائیں کرسی پر بیٹھی مجھے معنی خیز نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ مجھے لاہور سے پنڈی کا وہ سفر یاد آ گیا ۔۔۔ جب میں نے اُس پانچ گھنٹے کے سفر میں اُس سے کوئی بات نہ کی اور سارا رستہ سویا رہا ۔۔۔ جس پر اُس نے کہا تھا ’’غصہ‘‘ کرتے ہو تو بھی کمال کا کرتے ہو؟‘‘ ۔۔۔ میں نے اُسے بتایا کہ جو ’’کمال‘‘ کا غصہ کرتے ہیں اُن کی محبت بھی لازوال ہوتی ہے ۔۔۔؟!

’’ہاں ہاں‘‘ ۔۔۔ ’’ میں دیکھ چکی ہوں ۔۔۔ محسوس بھی کر چکی ہوں اور قائل ہوں تمہاری اِس ’’خوبی‘‘ کی ۔۔۔ اوہ سوری ۔۔۔ ’’خامی‘‘ ۔۔۔ کی ۔۔۔؟!

آج اُس کا فون آیا تو اُس نے دو تین قہقہوں کے بعد محبت سے مجھے کہا ’’بھائی فوت ہو گیا ہے وہی جو کسی انٹرنیشنل بینک میں مینیجر تھے؟‘‘ ۔۔۔

’’ہاں ہاں وہی طارق بھائی ۔۔۔ مجھ سے بڑے تھے عمر میں ، اُن کو کینسر تھا جب آخری اسٹیج پر تھے تو میرے پاس آ گئے یا یوں کہہ لو کہ مجھے اُنہوں نے مجبور کر دیا کہ میں اُنھیں اپنے پاس بلا لوں ۔۔۔ میرا یہ بھائی بڑا صحتمند اور جوان ہمت تھا لیکن کینسر نے اُسے کہیں کا نہ چھوڑا ۔۔۔ میری بے بسی اور اُس کی پریشان حالی دونوں نے میرے گھر کو قبرستان جیسا بنا رکھا تھا آپ کے کئی فون آئے لیکن میں جواب نہ دے سکی کیونکہ میں نے سوچ لیا تھا کہ اپنی رنگین زندگی کو ’’تالا‘‘ لگا کے کسی سمندر میں پھینک دوں اس دوران فائیو اسٹار ہوٹلوں سے رات گئے میری دوستوں کے فون آتے رہے لیکن میں اُن میں سے کسی سے بھی رابطہ قائم نہ کر سکی کیونکہ میں نے سوچا تھا اگر کبھی میں اپنی یہ قسم توڑوں گئی تو سب سے پہلے آپ سے رابطہ کروں گی ۔۔۔ اس دوران کینسر نے طارق کو کچل کر رکھ دیا آخری دنوں میں تو اُس کی گردن ٹیڑھی ہو گئی تھی سنا ہے ہڈیوں کا کینسر جب آخری اسٹیج میں ہوتا ہے تو انسان کی ہڈیوں میں سینکڑوں نہیں ہزاروں لاکھوں کریکس (Cracks) آ جاتے ہیں اور ڈاکٹروں نے مجھے بتایا تھا کہ اس کی جو جو ہڈی ٹیڑھی ہوتی جائے گی اُس کو سیدھا کرنے کی کوشش مت کیجئے گا ان کو کہیں زیادہ اذیت کا شکار ہونا پڑے گا بلکہ کہہ لیں ناقابل برداشت اذیت برداشت کرنا ہو گی ۔۔۔ اس دوران وہ جب للچائی ہوئی اذیت سے بھرپور نظروں سے مجھے دیکھتا تو میں گھبرا جاتی ڈاکٹر کے مطابق میں ٹیکہ نکال کے بھائی کو خود ہی لگا لیتی کہ اُس کی درد میں کمی اور اذیت کا احساس کم ہو جائے ۔۔۔ اب تو دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں قانون سازی ہو چکی ہے ۔۔۔ ناقابل علاج امراض میں مبتلا مریض چاہیں تو اُنھیں ’’آسان موت‘‘ فراہم کر دی جاتی ہے ۔۔۔؟ ہمارے ہاں جس طرح سیاسی خاندان، سیاسی شخصیات ملک کو چالیس چالیس پچاس پچاس سالوں سے لوٹ رہے ہیں اور نئے الیکشن میں پھر سے ’’نئے جذبے‘‘ کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں ۔۔۔ دل تو چاہتا ہے کہ عوام اِنھیں بھی ’’آسان موت‘‘ کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیں ۔۔۔

اس دوران ایبٹ آباد والے سردار نے مجھ پر کئی طرح کے وار کئے تم تو جانتے ہو سردار کس قدر ظالم آدمی ہے اُس نے مجھ سے شادی کے لیے کس طرح کا پریشر نہیں ڈالا ۔۔۔؟ لیکن میں پوری ہمت سے اُس کا مقابلہ کرتی رہی اس دوران عصر کے بعد میری گردن کے پٹھے کچ جاتے اور جسم پر نیلے نشان پڑ جاتے میری دادی اماں بتایا کرتی تھیں کہ یہ جادُو کی علامات ہیں ۔۔۔ جادُو بھی ایسا کہ جس کا توڑ بہت مشکل ہوتا ہے؟ ۔۔۔! رات کے اندھیرے میں اس قدر خوفناک باتیں ۔۔۔ میں گھبرا سا گیا مگر وہ بولتی چلی جا رہی تھی ۔۔۔؟

ایبٹ آباد کا سردار جادو ٹونے کا خود بھی ماہر ہے اور اُس نے کئی عورتیں اس کام کے لیے بھی رکھی ہوئی ہیں میرے سامنے جب میں ایک دفعہ اُسے PC Bhurban ملنے گئی تو وہاں اُس کے پاس میں نے اونٹ کا خون آلود دل دیکھا جس میں وہ چھریاں مار مار کے کچھ پڑھتا چلا جاتا تھا جو اس بات کا غماز تھا کہ وہ کسی بیچارے کا بیڑہ غرق کرنے پر تلا ہوا ہے اُس نے بتایا تھا کہ وہ ارب پتی محض دنیاوی کاروبار کرنے سے نہیں ہوا اُس کے دنیا بھر میں سفلی علوم کے ماہرین سے تعلقات ہیں خاص طور پر ملائشیا اور انڈنیشا میں بسنے والے چینی جادو گر اُس کو پسند کرتے ہیں اور اس نے کئی گُر اُن چینی جادو گروں سے بھی سیکھے تھے نیلم بلاک کی انور مائی اور فیصل آباد کے ریاض سائیں سے اُس کے دیرینہ تعلقات تھے ۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مذہبی لحاظ سے کسی ایک سلسلے سے وابستہ نہیں ان کا دین ایمان پیسہ ہے ان کو بے تحاشہ دولت چاہئے اُس کے لیے چاہے اُن کا اپنا یا کسی دوسرے کا بیڑہ غرق ہی کیوں نہ ہو جائے اُنھیں کسی کو اذیت دے کے خوشی محسوس ہوتی ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایسے علوم اور ایسی چیزوں پر اندھا اعتقاد سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ بھی نہیں ہے لیکن یہ وہ دلدل ہے جس میں پھنس جانے والے کو کبھی بھی ہم نے باہر آتا نہیں دیکھا ایسے لوگ اب اس معاشرے میں آپ کو جگہ جگہ دکھائی دیں گے ایسے لوگوں کے موکل بھی لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں اور اُن کے نظریات بھی تقریباً تقریباً اُن سفلی علوم کے ماہرین کی طرح کے ہی ہیں اور وہ بھی ہر صبح کسی نئے ’’ بابے‘‘ یا ’’ٹونے ٹوٹکے‘‘ کے ماہر کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں اور عقل کے ان اندھوں کو کسی اگلے موڑ پہ ایسا نام نہاد ’’سائیں‘‘ یا ماہرِ علمیات مل جاتا ہے گویا دونوں منفی قوتیں ایک دوسرے کو مل ہی جاتی ہیں اور دونوں کے من کی مراد پوری ہو جاتی ہے ۔۔۔ اب یہ دھندہ ’’جعلی عاملوں‘‘ کے سپرد ہے جو چالباز ہیں اور اپنی چرب زبانی سے ’’مجبور‘‘ لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور کوئی بھی اُن کو پوچھنے والا نہیں ۔۔۔؟

ایبٹ آباد کے سردار کے پاسپورٹ پر میں نے بھارت، نیپال، ماریشش جیسے ممالک کے کئی کئی ویزے لگے ہوئے دیکھے وہ کہتا تھا کہ لوگ سمجھتے ہیں بنگال کے جادو گر دنیا میں اپنے کام کے ماہر سمجھے جاتے ہیں جبکہ اُس کے بقول نیپال، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں ایسے کاموں کے ماہرین بڑی تعداد میں موجود ہیں اور اُن کے موکل پاکستان میں کہیں زیادہ موجود ہیں اُس کے بقول انڈونیشیا، ملائیشیا اور نیپال میں تقریباً ہر دوسرا شخص ایسے منفی کاموں میں دلچسپی لیتا دکھائی دیتا ہے اگر وہ جادو ٹونے والوں کا گاہک نہیں تو اُسے کم از کم ہر دو چار ماہ بعد کسی ماہر نجوم یا پامسٹ کی تلاش ضرور کرنا ہوتی ہے پاکستان کے دو شہروں گجرات اور وزیر آباد کے ماہرین جو بنیادی طور پر چند نسل پہلے علم العداد کے ماہر سمجھے جاتے تھے جو اب پیسے کے لالچ میں انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں جا بسے ہیں اور ان ممالک کے توہم پرست لوگ ان کو مخفی علوم کا سب سے بڑا ماہر یا نجومی سمجھتے ہیں اور اُن کے بتائے ہوئے راستوں پر آنکھیں موندھے چلتے رہتے ہیں چاہے یہ راستہ اُنھیں موت تک لے جائے یا اُن کے ہاتھ میں کچھ بھی نہ رہے لیکن وہ ہر حال میں من مرضی کی بات جاننا چاہتے ہیں یا اپنے دشمنوں کو ہر حال میں نیست و نابود کر دینے کی خواہش لیے در بدر کی ٹھکریں کھاتے پھرتے ہیں اور کبھی بھی ہار نہیں مانتے، ہمت نہیں ہارتے ۔۔۔ ’’فال‘‘ ۔۔۔ ’’رمل‘‘ کے یہ ماہرین اب کروڑ پتی بن چکے ہیں ۔۔۔

یہ باتیں کرتے ہوئے فاطمہ کو محسوس ہوا کہ بات کافی لمبی ہو گئی ہے اس لیے اُس نے مجھے اپنے ساتھ نیچے آنے کو کہا جہاں اُس نے ایک الماری کا تالا کھولا جس میں ایک بہت بڑا شاپر تھا کالے رنگ کے اس شاپر میں جب اُس نے اُس کو کھولا تو لاکھوں روپے کے نوٹ موجود تھے ۔۔۔

اُس نے خاصی سنجیدگی سے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا اور میری آنکھوں میں گھورتے ہوئے مجھے آہستہ سے پوچھا ’’تم لو گے یہ پانچ کروڑ‘‘ ۔۔۔ ؟

’’پانچ کروڑ‘‘ ۔۔۔ ’’ میں لے لوں‘‘ ۔۔۔ میرے منہ سے نکلا ۔۔۔ ہماری آنکھیں چار ہوئیں ۔۔۔ میں کسی سوچ میں گم تھا ۔۔۔ اور اُس نے میری یہ کیفیت محسوس بھی کی ۔۔۔؟


ای پیپر