تھرپارکر میں انسانیت کی خدمت
01 جولائی 2018 2018-07-01

تھرپارکر میں غذائی قلت کے سبب آئے دن بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور بھوک، افلاس و بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے صورتحال بہت زیادہ خراب نظر آتی ہے۔ مٹھی کے گردونواح اور دیگر علاقوں میں تمام دعووں کے باوجودلوگوں کو صحیح معنوں میں طبی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ یہ وہ حالات ہیں جنہیں مدنظر رکھتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے گزشتہ دنوں تھرپارکر میں بچوں کی اموات کے حوالہ سے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا ہے اور ثناء اللہ عباسی کی سربراہی میں قائم کردہ کمیٹی کو دو ہفتے میں رپورٹ جمع کروانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کو طبی عملے کی بھی فی الفور بھرتی کا حکم دیا اور کہا ہے کہ تھرپارکر میں محکمہ صحت سے متعلقہ سٹاف کی کمی کو دو ماہ میں ہر صورت پورا کیا جائے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کا اس معاملہ میں ایکشن لینا خوش آئند اقدام ہے وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ سندھ کی سابقہ حکومت کی جانب سے بہت دعوے کئے جاتے رہے ہیں تاہم حقیقی صورتحال یہ ہے کہ یہاں کے رہنے والے باسیوں کوآج بھی صاف پانی تک میسر نہیں ہے۔ تھرپارکر میں بچوں کی اموات کسی خاص موسم کے ساتھ منسلک نہیں بلکہ سارا سال ہی یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ البتہ میڈیا میں اسے کبھی کبھار شہ سرخیوں میں جگہ مل جاتی ہے۔بچوں کی اموات کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی،صحت کی سہولتو ں کا فقدان اور غذائی قلت اہم ہیں۔زچہ و بچہ کے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں ہے ۔اس دور میں بھی تھر کی عورتیں مرچ ،نمک اور چائے کے ساتھ روٹی کھاتی ہیں ۔تھر پارکر کے بعض علاقے ایسے ہیں جہاں قریب کوئی مارکیٹ اور منڈی نہیں ہے۔ بعض مقامات پر دیہاتوں سے مارکیٹ او رمنڈیوں کا فاصلہ گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔شادی کے بعد یہاں جب عورت ماں بنتی ہے تواسے اچھی خوراک، ادویات ،چیک اپ اورآرام وغیرہ کی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہوتی بلکہ اسے بدستور اپنے روزمرہ کے کاموں میں مشغول و مصروف رہنا پڑتا ہے۔ وہ بکریاں چراتی ہے، لکڑیاں اکٹھی کرتی ہے اور دور دور سے پانی لاتی ہے۔اس وقت وہاں حاملہ خاتون کا اوسطاََوزن پینتیس سے اڑتیس کلو گرام ہے۔اتنا کم وزن صرف اورصرف مناسب خوراک اور آرام نہ ملنے کی وجہ سے ہے جس کا نتیجہ ہے کہ پیداہونے والے بچوں کا وزن دوسے تین کلوگرام ہوتا ہے ۔بچو ں کی پیدائشی کمزور ی دراصل ماں کی کمزوری کی وجہ سے ہے۔ جب ماں کو خوراک نہیں ملے گی تو بچہ لازماََ کمزور ہو گا،اس لئے کہ ایک صحتمند ماں ہی صحتمند بچے کو جنم دیتی ہے۔پندرہ سولہ لاکھ کی آبادی میں جب روزانہ آٹھ سے دس بچے فوت ہیں تو میڈیا کی خبریں بن جاتی ہیں۔یہ وہ بچے ہیں جن کی اموات مٹھی شہر کے مرکزی ہسپتا ل میں ہوتی ہیں۔دور دراز گوٹھوں میں جو بچے روزانہ فوت ہیں تو ان کی میڈیا میں کوئی خیر خبرنظر نہیں آتی۔ اس کامطلب ہے کہ تھرپارکر میں روزانہ اموات کا سلسلہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔

تھرپارکر میں صحت کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ وہاں کے لوگ صحت کے لفظ سے ہی آشنا نہیں ہیں۔ وہاں صحت اور صفائی کی ابتر صورت حال کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ جوہڑ کا جو پانی کتے اور گدھے پیتے ہیں وہی پانی انسان اور اس کے بچے پیتے ہیں۔ انہی جوہڑوں میں وہ لوگ نہاتے اورکپڑے دھوتے ہیں۔لوگوں کا زیادہ تر انحصار بارش پر ہوتا ہے۔بارش ہو تو لوگ جوہڑوں میں پانی جمع کر لیتے ہیں،اس کی وجہ سے کچھ گھاس اگتی ہے جس پر ان کے جانور بھیڑ بکریاں اور اونٹ وغیرہ چرتے ہیں ۔اس لئے وہاں خاص طور پر بارش بہت بڑی نعمت سمجھی جاتی ہے مگرجب بارشیں نہیں ہوتیں تو پھر تھر میں قحط کی سی کیفیت ہوتی ہے۔جماعۃالدعوۃ اس وقت جہاں ملک بھر میں تعلیم، صحت و دیگر رفاہی منصوبہ جات پر کام کر رہی ہے وہیں تھر پارکر میں بھی کروڑوں روپے مالیت کے منصوبہ جات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہم نے پہلی دفعہ 2002ء میں تھرپارکرکا وزٹ کیا اور جائزہ لیا تھا کہ وہاں کے لوگوں کے مسائل کیا ہیں؟ ۔اس وقت ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی تھی کہ تھر پارکر میں سنگین مسئلہ پانی کی عدم دستیابی ہے۔ہم نے16سال پہلے جس مسئلے کی نشاندہی کی تھی آج سارا میڈیا، مقامی حکومتیں اورمختلف تجزیہ نگار ہما ری نشاندہی کی تائید کرتا دکھائی دیتا ہے۔یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر وہاں پانی کا مسئلہ حل ہو جائے، کسی نہر کے ذریعے پانی پہنچادیا جائے یامقامی سطح پر کسی طریقے سے میٹھا صحتمند پانی مہیا کردیا جائے تو تھر پارکر کے لوگوں کے بیشتر مسائل حل ہو جائیں گے۔ حالت یہ ہے کہ پانی کی قلت کی وجہ سے وہ کپڑے نہیں دھوتے اورنہانے کیلئے انہیں پانی نہیں ملتا جس سے بیماریاں پھیلتی ہیں ۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ وہاں کے لوگوں کے مسائل حل کئے جائیں۔حکومت نے کچھ عرصہ قبل تھر پارکر میں پانی کی فراہمی کے لئے پانچ ارب روپے کی خطیر رقم سے ایشیا کا سب سے واٹر فلٹریشن پلانٹ تو لگا دیا لیکن اس کی مناسب طریقے سے دیکھ بھال نہیں ہے۔ اسے مطلوبہ پانی نہیں مل رہا جس کی وجہ سے پینے کا پانی آج بھی وہاں دستیاب نہیں ہے۔ پچاس فیصد سرکاری ڈسپنسریاں ایسی ہیں جنہیں تالے لگے ہوئے ہیں ۔تھر میں آج بھی ایسے علاقے موجود ہیں جن میں مہینے میں ایک دفعہ میٹھا پانی آتا ہے‘وہ بھی صرف دو گھنٹے کے لئے۔اتنے کم وقت میں پانی کتنی مقدار میں ذخیرہ کیا جاسکتا ہے اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے۔مرد مجاہد پروفیسر حافظ محمد سعید نے حکم دے رکھا ہے کہ تھرپارکر ، بلوچستان اور دیگر علاقوں میں بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب دکھی انسانیت کی خدمت کی جائے یہی وجہ ہے کہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نے صرف مسلمانوں ہی نہیں ہندوؤں کے علاقوں میں بھی پندرہ سو سے زائد پانی کے منصوبے مکمل کئے ہیں۔ان منصوبوں میں کنویں،ہینڈ پمپ اور سولر پمپ شامل ہیں ۔جو عورت کئی مٹکے سر پر اٹھا کر پانچ پانچ میل دور سے ننگے پاؤں پانی لانے پر مجبور تھی آج الحمد للہ اس کے گھر کے سامنے ہینڈ پمپ ہے یا پانی کا کنواں ہے۔جو لوگ پہلے گندا کھارا پانی پیتے تھے اب انہیں میٹھا اور صحت بخش پانی اپنے گھر کے دروازے کے سامنے پینے کے لئے مل رہا ہے ۔تھر میں ہم بلا تفریق رنگ، نسل اورمذہب دکھی انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے آدھے سے زیادہ کنویں ان آبادیوں میں ہیں جہاں صرف ہندو بستے ہیں ۔اقلیتیں بھی پاکستان کے باعزت شہری ہیں ،اگر یہ کسی مشکل یا پریشانی میں ہوں تو ان کی خدمت کرنا پوری قوم پر فرض ہے۔ بدقسمتی سے تھرپارکر میں تنگ دستی ہے اور اس کے ساتھ مختلف بیماریوں کا بسیرا بھی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل خیر آگے بڑھیں ، دل کھول کردست تعاون دراز کریں ،خیر ،بھلائی اور نیکی کے چراغ روشن کریں‘ یہی چراغ مفلس ونادار لوگوں کے گھروں کو روشن کرنے اور ان کو خوشیاں مہیا کرنے کا باعث بنیں گے۔


ای پیپر