پنجاب کی بجلی، کراچی کا پانی اور میاں شہباز شریف
01 جولائی 2018 2018-07-01

ایک شیخ کاروبار کے سلسلے میں بیرون ملک گیا۔ واپسی پر اپنے سازو سامان کے ساتھ بحری راستہ اختیار کیا۔ بحری جہاز جب عین سمندر کے وسط میں پہنچا تو جہاز کو تیزو تند طوفان اور سمندری لہروں نے آ لیا۔ جہاز کے کپتان نے کہا ! شیخ صاحب اللہ سے دعا کریں اور صدقہ خیرات کی منت مانگیں تاکہ شپ کنارے تک جا لگے۔ ورنہ جو صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ اس میں خطرے کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آ رہا۔ شیخ صاحب اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوئے اور صدقہ کے لیے ایک دیگ کی منت مانگ لی۔ کچھ لمحوں بعد طوفان تھم گیا۔ اور جہاز نے اپنی درست سمت اختیار کر لی۔ ابھی جہاز کنارے سے ذرا دور ہی تھا تو کپتان نے بوچھا ! شیخ صاحب دیگ کب پکائی جائے گی۔ کپتان کا اتنا کہنا تھا تو شیخ صاحب سیخ پا ہو گئے۔ کونسی دیگ۔۔۔؟ شیخ صاحب طوفان کی نیت بھانپتے ہوئے بولا ! او ہو اللہ میاں تو جلد ہی ناراض ہو گئے۔ میں نے تو فقط یہی کہا تھا کونسی دیگ۔۔۔ میرا مطلب تھا دیگ میٹھی یا نمکین۔۔۔ پکائی جائے۔ چھوٹے میاں صاحب ! بھابی کی خیریت دریافت کرنے گئے تھے۔ میاں صاحب لندن میں روڈ کراس کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ میاں نے سمجھا کہ شاید لندن بھی پاکستان ہی ہے۔ یہاں سے جی چاہے اور جب چاہے ’’ٹپ‘‘ جاؤ۔ نہ کوئی پوچھے گا اور نہ ہی آئین کی خلاف ورزی ہو گی۔ حالانکہ زیبرہ کراسنگ کچھ ہی فاصلے پر تھی۔ میاں صاحب نے تو ساری عمر پروٹوکول سے سفر کیا تھا۔ غریب عوام کے سپنوں کو زیبرہ کراسنگ سمجھا تھا۔ پاکستان کی سڑکیں تو وزیروں اور مشیروں کے پروٹوکول کے لیے بنی ہیں۔ غریب کی کیا جرات کہ وہ اپنے گزرنے سے پہلے آدھا ، آدھا گھنٹہ روڈ بلاک کروا دے۔اب میاں صاحب ( عید گزارنے اور بھابھی کی تیماداری کے بعد) واپس وطن تشریف لے آئے ہیں۔ ہونہی میاں صاحب ایئر پورٹ پر وارد ہوئے تو دس پندرہ گاڑیوں کا ’’ ٹولہ‘‘ میاں صاحب کو پورے ’’بھار‘‘ کے ساتھ لیکر آیا۔ میاں صاحب نے آتے ہی ہیلی کاپٹر پکڑا اور کرانچی نکل گئے۔ کرانچی پہنچتے ہی میاں صاحب نے کرانچی والوں کو سبز باغ دکھانے شروع کر دیے۔ (کیونکہ میاں صاحب سبز باغ دکھانے میں اور وعدے وعید کرنے میں ) ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ مگر یہ کہنا بجا ہو گا کہ میاں شہباز شریف وعدوں کی ’’ڈگڈگی‘‘ بجانے میں ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ میاں صاحب نے کراچی والوں سے ہنسی مذاق بھی کیا۔ گیت سنگیت کی بات بھی ہوئی۔ جب کہ موسیقی میں پرویز مشرف میاں صاحب سے زیادہ سریلے اور سر میں تھے۔ پان وان پر بھی بحث چھڑی اور ساتھ وعدہ کیا کہ اگر حکومت ملی تو کراچی کو لاہور جیسا بناؤں گا اور دوسال کے اندر کراچی والوں کے لیے پانی پانی کردوں ( بلکہ وعدہ پورا نہ فرما کر کراچی والوں کو پانی پانی کر دوں گا) ویسے میاں صاحب ’’ بنانے بنانے کے ‘‘ وعدے اچھے کر لیتے ہیں۔ جیسے لاہور کو پیرس بنا دوں گا ؟ کراچی کو لاہور بنادوں گا۔؟ بندہ پوچھے ! آپ لاہور کو پیرس نہ بنائیں آپ لاہور میں پیرس جیسی سہولتیں پیدا کر دیں۔ لاہور میں پیرس جیسے آئین اور قانون لاگو کر دیں۔ آپ کراچی کو لاہور نہ بنائیں۔ کراچی میں لاہور جیسی سہولتیں پیدا کر دیں۔ کراچی کو بجلی دے دیں۔ کراچی کو پانی دے دیں۔ مگر قارئین ! یہ وہ شہباز شریف ہیں جو 2013 ء کے الیکشن میں اچھل کود کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ اگر ہم حکومت میں آئے تو تین ماہ میں بجلی پوری کر دیں گے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میرا نام بدل دنیا۔ یہ وہی خادم اعلیٰ ہیں جو پھر یہ کہنے لگے کہ دوسال میں بجلی کی کمی پوری کر دیں گے۔ یہ وہی کھلار کے سفاری ‘‘ سوٹ والے خادم ہیں جو کہتے تھے کہ 2018 ء تک ملک روشن ہو جائے گا۔ کراچی والے تو یہ بھی مانتے ہیں کہ وہی وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں جنہوں نے حکومتی مدت پوری ہونے کے آخری دن فرمایا تھا کہ ہماری حکومت کی ٹرم آج رات 12 بجے ختم ہو جائے گی۔ کل اگر لوڈ شیڈنگ ہو گی تو آپ مجھے ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے۔ آپ نواز شریف اور عباسی صاحب کو ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے۔ اب کل سے آپ جانیں اور لوڈ شیڈنگ جانے، میں ذمہ دار نہیں ہوں گا۔ یہ مضحکہ خیز بیان اس سیاستدان کا نام ہے جو تین بار ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ رہ چکا ہے ۔ بلکہ پچھلے دس سال وزیر اعلیٰ رہ چکا ہے۔ میاں صاحب اس بھتیجی کے سگے چچا جان ہیں۔ جو سارا سال ایک ہی ’’رٹا‘‘ رٹے گئی کہ میری بیرون ملک تو کیا؟ پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں۔ میں تو ابا حضور کے ہاں رہتی ہوں۔ اب جب اثاثے ظاہر کیے گئے تو محترمہ مظلومہ، مریم نواز کی پچانوے کروڑ کی جائیداد نکل آئی۔ کیا آئین اور قانون میں ہے کہ عوام روٹی کو ترسے اور حکمرانوں کے پاس اربوں روپے کی جائیداد ہو۔ بقول غالب !

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

ابھی میاں صاحب کے فرزند وزیر اعظم بلکہ ( پنجاب کے کرتا دھرتا) کے ذمے آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل اور منرل واٹر سکینڈل واجب الادا ہے۔ لہٰذا میاں صاحبان جب جیت جاتے ہیں تو اپنے پارٹی ممبرز اور عوام کی ہمدردیاں بھلا کر الیکے چلنے کی عادت ڈال لیتے ہیں۔ اپنی من مانیاں کرنے کی عادت ڈال لیتے ہیں۔ انہیں ملازمین کا معاشی قتل کرنے کی عادت ہے۔ جب ڈوبنے لگتے ہیں تو دیگوں کی منتیں ( بجلی ، پانی ، روز گار) مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب سیاسی کشتی بھنور سے نکلتی نظر آنا شروع ہوتی ہے ( یعنی بر سر اقتدار آ جاتے ہیں) تو کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ کونسی دیگ، کونسی دیگ۔۔۔ جب عدالت عظمٰی پرہمی کا اظہار کرتی ہے تو کہتے ہیں ہم نے فقط یہی پوچھا تھا کہ دیگ میٹھی یا نمکین یعنی (مجھے کیوں نکالا) اگر میاں صاحبان ایسے ہی پینترا بدلتے رہے ( یعنی لندن میں ہماری کوئی جائیداد نہیں، وہ تو حسن اور حسین نواز کی ہے۔ ایک روپے کی کرپشن نہیں کی ۔ دو سال میں کراچی کو پانی مل جائے گا۔چند ماہ میں بجلی کی کمی پوری ہو جائے گی۔ وغیرہ وغیرہ) تو عوام میں نفرت کی لہر شدید ہو جائے گی۔ اب تو چوہدری نثار اور زعیم قادری ان کے در پے ہیں۔ کل کو پوری (ن) لیگ بھی ہو سکتی ہے۔ اور پارٹی کا وجود بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ (ن) لیگ کو وعدے وعید نہیں۔ عملی کردار کی اشد ضرورت ہے۔ بقول عباس تابش۔

یہ جو ہے ریت کا ٹیلہ میرے قدموں کے تلے

کوئی دم میں میرے اوپر بھی تو ہو سکتا ہے


ای پیپر