شہباز شریف کی فریاد : اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم
01 جولائی 2018 2018-07-01

عمران خان سے ملک میں تبدیلی کیلئے آخری دم تک جد و جہدکرنے کا عزم طے ہوا تھا اور اس پر وہ پورا اترا ہے لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اُس وقت کسی نے ٹکٹ کی کوئی بات نہیں کی تھی ۔22 سال کی انتھک جدو جہد ، صراط کے کتنے ہی پل راہ میں آئے ، پیار کرنے والے بہت سے ساتھی اس جدو جہد کے دوران ہمیشہ کیلئے بچھڑگئے ،اپنوں کی شادیاں اورجنازے چھوٹ گئے ۔ عمران خان کے ساتھ چلنے والوں کیلئے بھلا اچھی ملازمتیں کہاں تھیں سو افلاس اور بھوک ،ننگ نے گھروں تک تعاقب کیا ،وہ جو آج تحریک انصاف کو تبدیلی کی جماعت کہتے ہیں کبھی ہمارا تمسخر اڑاتے تھے ، ہماری فیملیوں کو ہماری ذہنی حالت پر شک ہونا شروع ہو گیا تھا ۔ اِن تمام حالات میں بھی اگر کچھ متزلزل نہیں ہوا تو وہ تبدیلی کا یقین تھا ۔ بطور ایک ترقی پسند میں یہ بات بخوبی جانتا ہوں کہ انقلاب اور تبدیلی صرف طبقات کی تبدیلی اور سماج میں دولت کی مساویانہ تقسیم کا نام ہے لیکن اگر معروضی حالات آپ کی سوچ اورخیالات کے منافی ہیں تو پھر آپ کو رستہ تبدیل کرنا چاہیے ۔ کام کے طریق کار میں کچھ نیا پن لانا چاہیے نہ کہ آپ ہر سال 10سے 9 اور پھر 9 سے 10 ہوتے رہیں اور ایک ہی گفتگو چائے کی پیالی پر کرنے کے بعد رات گئے بلکہ آثار سحر سے کچھ پہلے گھروں کو لوٹ جائیں۔ آ پ کواپنے سماج میں چلنے والی تحریک کا حصہ ہونا چاہیے۔ اگر مخالف کھڑے نہیں ہو سکتے تواُس کاحصہ بن کر اپنی سوچ کاپرچار کرسکتے ہیں۔

حالات ہمیشہ اپنے اصل مسائل کی طرف ہی لوٹتے ہیں، سو جب لو گ حقیقی انقلاب اور تبدیلی کیلئے تیار ہوں تو آپ کا چہرہ لوگوں کیلئے اجنبی نہیں ہونا چاہیے۔ آپ نے سماج کو کچھ نہ کچھ ضرور دیا ہو تاکہ آپ کو لوگوں آپ پر اعتماد کر سکیں جو کسی بھی تبدیلی کیلئے سب سے زیادہ ضرور ی ہوتا ہے ۔ میرے نزدیک نصابی تعلیم اس ریاست کے وہ مقاصد پور ے کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں شاہ دولہ کے چوہے تو پیدا ہوتے ہیں ، کلرک ذہنیت تو جنم لیتی ہے لیکن وہ صلاحیتیں جن سے بچے کو فطرت نے نواز کر بھیجا ہوتا ہے اُن کا قتل عا م ہو جاتا ہے ۔ ہمارے تعلیمی ادارے علم کی قتل گاہیں ہیں اور ہمارا سماج ان قتل گاہوں کے جلادوں کا محفوظ ترین مسکن ۔بے مقصد تعلیم بے مقصد انسانوں کو جنم دے رہی ہے ، یہی سچ ہے آپ اسے تسلیم کریں یا انکار اس سے آپ حقیقت کو تبدیل نہیں سکتے کہ وقتی طور پر آنکھیں بند کرنے کے بعد نا لائقیوں کی پالیسیوں کے نتائج آنا شروع ہو جاتے ہیں اور پھر سماج میں وہ تمام عناصر دکھائی دینا شروع ہوجاتے ہیں جو کسی بھی ریاست کیلئے زہرِ قاتل ہوتے ہیں ۔

پاکستان تحریک انصاف کے نقادوں کا کاروبار آج کل عروج پر ہے ۔ نت نئی تاویلیں اوردور کی کوڑیاں لا نے والوں کا معاوضہ کم جبکہ پاکستانی عوام کو زیادہ سے زیاد ہ ورغلانے والوں کی چاندی ہوچکی ہے ۔ بائیں بازو کی سمجھی جانے والے قوتیں صرف فوج دشمنی میں نواز شریف کے بیانیے کو اپنا کر اپنا فرض پورا کررہی ہیں انہیں نہ تو پاکستان سے کوئی ہمدردی ہے اور نہ ہی پاکستان سے کوئی غرض۔عجیب بات ہے کہ بائیں بازو کے دوست ضیاء الحق سے نفرت کرتے ہیں جبکہ نواز شریف کے عشق میں مبتلا ہو کر اُس کی ہر ناجائز بات کو بھی جائز قرار دے رہے ہیں ۔ جڑ سے نفرت اور پھل سے پیار کا یہ منظر میں اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھ رہاہوں ۔ بائیبل کی ایک آیت ہے کہ اچھا درخت کبھی بُرا پھل نہیں دیتا اور بُرا درخت کبھی اچھا پھل نہیں دیتا۔ اب اگر ضیاء الحق بُرا تھا تو اُس کی پروڈکشن کیسے بہتر ہو سکتی ہے لیکن مادیت پرستوں کی اس دنیا میں مادہ پرستوں سے یہ توقع کرنا کے وہ اپنے مفادات سے ہٹ کر سوچیں، کوئی بہتر خیال نہیں ۔

میرے لیے یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ خواجہ سعد رفیق نے اپنے انتخابی جلسے میں اپنے آپ کو ’’ پولیٹیکل کامریڈ ‘‘ کے لقب سے نواز ا ۔ اب پرائیویٹ ایم ۔ اے پولیٹکل سائنس کرنے سے یہ توہو گا ۔جناب خواجہ سعد رفیق صاحب ! کامریڈ ایک پولیٹکل ٹرم ہی ہے اور یہ سوشلسٹ یا کمیونسٹ خیالات رکھنے والے انقلابیوں کیلئے استعمال ہوتی ہے ۔اب آپ نے یہ نئی ٹرم متعارف کروا کر جو چوں چوں کا مربہ تیار کیا ہے اُس کی وجہ میں سمجھ سکتا ہوں چونکہ نواز شریف اپنے آپ کو انقلابی اور باغی قرار دے چکے ہیں اور اداروں کے مخالف بھی کھڑے ہیں، سو ان حالات میں وہ لوگ جو نواز شریف کے ایجنڈے سے متفق ہیں وہ بھی اپنے آپ کو چھوٹے موٹے انقلابی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کہ شاید یہ القابات ہی اُن کے کام آجائیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو نواز شریف کسی انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتا ہے اور نہ ہی خواجہ سعد رفیق کا ڈی ۔این ۔اے کسی انقلابی سے میچ کرتا ہے ۔ سب مال بچانے کے چکر میں ہیں جو کسی صورت بھی بچتا فی الحال تو نظر نہیں آ رہا ۔ خواجہ سعد رفیق نے اندرونِ لاہور میں اپنے مکان کی قیمت ڈیرھ لاکھ روپے بتائی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ خواجہ سعد رفیق کی کل کائنات صرف یہی ایک مکان تھا جو خواجہ رفیق مقتول نے وراثت میں چھوڑا ۔اول تو اُس کی قیمت بتانے کے معاملے میں بھی سعد رفیق نے بخل سے کام لیا ہے اور دوسرا اگر سعد رفیق نے یہ مکان بھی نہیں بیچا تو اربوں روپے اکٹھے کرنے کیلئے بنیادی سرمایہ کہاں سے آیا ؟ لیکن اس کا جواب بھی اب خواجہ سعد رفیق نیب کو ہی دیں گے کہ لوہے کا یہ چنا عوامی جذبات کی حدت سے پگھلنے کیلئے تیار نہیں ۔

لاہور کی صورت حال دن بدن واضح ہوتی جا رہی ہے اور یہ کسی بھی سیاسی جماعت پر دوسرا زوال ہے جو میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ۔ اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کو لاہور سے جیتے اور پھر مکمل صاف ہوتے دیکھا اور اب یہی صورت حال نون لیگ کی ہے ۔ شریف فیملی اپنی عزت بچانے کیلئے صرف اپنی نشستوں بچانے کی سعی فرما رہی ہے اس کے علاوہ اُن کی دلچسپی کسی امیدوار میں نہیں ۔ لاہور میں جن صوبائی امیدواروں کو مسلم لیگ نون نے ٹکٹ الاٹ کیے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ وہ چیئرمین کا الیکشن جیتنے کی بھی اہلیت رکھتے ہیں ۔ اب اسے پی ٹی آئی کے امیدواروں کی خوش قسمتی یا نون لیگ کی بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے ۔ ابھی تک نون لیگی امیدوار لاہور میں کمپین کرتے نہیں پائے گئے اوراس کی وجہ ٹکٹوں کا الاٹ ہونا نہیں ، سوال تویہ ہے کہ جن حلقوں سے ٹکٹ کلیئر ہو چکے ہیں وہاں بھی نون لیگی ورکر دکھائی نہیں دے رہے ۔ رہی سہی کسر شہباز شریف نے لاہور سے بھاگ کر کراچی سے امیدوار بن کر پوری کر دی ہے اور وہاں ایک نجی ہوٹل میں ’’ اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم ۔۔۔۔تمہارے بنا ہم بھلا کیا جیئیں گے ‘‘ گاتے پائے گئے ہیں جو یقیناًنواز شریف کو احساس دلایا جا رہا ہے کہ سیاستدانوں کے ہر ایکٹ کے پس منظر میں کوئی نہ کوئی دوسرے حقائق بھی ضرور ہوتے ہیں ۔ شہباز شریف کو کراچی جا کر ہی محسوس ہو گیا ہے کہ نواز شریف انہیں اکیلا چھوڑکر جا چکا ہے اور اس کا احساس زیادہ شدت سے اُس وقت ہو گا جب وہ لاہور اور بالخصوص وسطی پنجاب کی کمپین کیلئے نکلیں گے کہ حالات اوروقت بہت بدل چکا ہے ۔اگر نہیں بدلا تو اتفاق کا سریا نہیں بدلا جو ابھی تک گردنوں میں پوری توانائی کے ساتھ موجود ہے ۔


ای پیپر