چیف جسٹس جعلی صحافتی تنظیموں کا خاتمہ کریں
01 جولائی 2018 2018-07-01

اورسب بھول گیے صداقت لکھنا

رہ گیا ہمارا ہی کام بغاوت لکھنا

ماہ مئی گزر گیا ہے یہ وہ ماہ ہے جس کی 3 تاریخ کو صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے ورلڈ پریس فریڈم ڈے یہ دن ۱۹۹۳ کی اقوام متحدہ کی قرار داد کے پاس ہونے کے بعد سے اب تک منایا جاتا ہے جس کو صحافتی تنظیمں صحافیوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے سمینار، ریلیاں اور مختلف تقاریب میں زور خطابت کے ساتھ مناتی ہیں اور اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوتی اور حکومت کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر للکارا اور دھاڑا جاتا ہے۔ قائدین کی تقریروں کی تان یہاں آن کر ٹوٹتی ہے کہ ’’ہم اپنے صحافی بھائیوں کو ان کے بنیادی حقوق دلا کر دم لیں گے اور ان کی جان و مال کا تحفظ ہمارا اولین ترجیح ہو گی‘‘ مگرس کے بر عکس دوسری طرف ا خوددار صحافی آج بھی کس مپرسی کی زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں۔ صوبائی دارلحکومت لاہور میں درجن بھر سے زیادہ صحافتی تنظیمں بر سرپیکار اور سرگرم ہیں۔ اس کے باوجود میڈیا ہاؤسز کے ذمہ داران کارکن صحافیوں کا استحصال کرنے سے گریز نہیں کرتے اور بعض اداروں میں قلم مزدوروں کو ان کی اجرت کئی کئی ماہ ادا نہیں کرتے بلکہ بلاوجہ وجہ ان کو اپنا حق مانگنے پر ادارہ سے فارغ کر دیا جاتا ہے ۔صحافی عوام اور حکومت کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں اگر پل ہی کمزور ہو ہو جائے تو صحافی سچ کی کھوج لگا کر انتظامی اداروں اور عوامی مسائل کو کیسے عوام اور اداروں تک پہنچائے گا ؟صحافی حکومتوں کے اقدامات کے آ ئینہ دار بھی ہوتے ہیں اور بساا وقات ناقد بھی۔ یہ ورکنگ جرنلسٹ جو اپنے قلم سے سچ لکھ کر عوام کو حکومتی اقدامات سے ہر وقت اور بروقت آگا کرتے ہیں،اس دوران ان کو کئی قسم کے معاشی و جانی نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے مگر وہ اپنے پیشہ اور فرض سے روگردانی کرنے کی بجائے خطرات سے کھیل جاتے ہیں اور عوامی مفاد کی تحفظ کی خاطر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اس کٹھن راستے کی مسافت میں کئی صحافی اپنی جان سے گزرجاتے اور کئی معذور اور کئی بے روز گار کر دیے جاتے ہیں مگر وہ ان کا ضمیر برائے فروخت نہیں ہوتا۔میری نظر میں صحافیوں کے ان حالات کوئی حکومت ذمہ دار نہیں بلکہ اس کی اصل ذمہ دار وہ صحافی تنظیمں ہیں جو اجتماعی طور پر صحافیوں کے حقوق کی جنگ لڑنے کی بجائے اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ صحافی تنظیموں میں اخلاقی کرپشن عروج پر ہے۔ صحافت کو ریاستی مشینری کا چوتھا ستون تو کہا جاتا ہے جو کہ باقی تین ستونوں ،عدلیہ ،مقنہ ،اور انتظامیہ کو طاقت دیتا ہے جس سے ریاست کا ڈھانچہ ایک مضبوت عمارت کی مانند ہو جاتا ہے ۔

میں نے جب ۱۹۹۳ میں وادئ صحافت میں قدم رکھا تو اس وقت صحافیوں کے حقوق کے علمبردار دو گروپ تھے دستور، اور برنا ۔۔۔ دونوں صحافیوں کے حقوق کی جدو جہد کر تے نظر آتے تھے مگر آج وہ اپنی اپنی بقا اور شناخت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آج ان میں نا اتفاقی کی خلیج اتنی گہری ہوچکی ہے کہ اسے پاٹنا مشکل دکھئی دیتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اب مذکورہ تنظیمیں بھی کئی چھوٹے چھوٹے گروپس اور گروہوں میں تقسیم درتقسیم ہوچکی ہے۔ اتنے ٹکڑے ہوچکے ہیں کہ ’’ کوئی یہاں گرا، کوئی وہاں گرا‘‘ کا منظر پیش کرہا ہے۔ علاوہ ازیں اس انتشار کی وجہ سے کئی نام نہاد صحافی تنظیمیں در پردہ اور پس پردہ اپنے ناقابل اشاعت سرگرمیوں کو پروان چڑھا رہی ہیں۔ اس لائق نفریں عمل کو وہ اپنی فنی مہارت قرار دیتی ہیں۔ مگر کوئی بھی صحافیوں کے حقوق کی جنگ نہیں لڑ رہا۔ زبانی جمع خرچ تو ہر کوئی کرتا ہے، مگر صحافیوں کے حقوق کے لیے عملی طور پر کوئی بھی کچھ نہیں کر رہا۔ مذاق تو یہ ہے کہ ان تنظیموں میں سے کچھ تنظیموں کے عہدیدار ورکنگ جرنلسٹ بھی نہیں ہیں اور ان کے ممبران کی اکژیت بھی غیرصحافی ہے۔ اسی لیے ان نام نہاد صحافی تنظیموں کے علمبردار ں کو بعدازں میڈیا مالکان اپنے سرمائے کی چمک سے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں، ان کی جدو جہد اور توجہ بے روز گار اور ستم رسیدہ صحافیوں کے حقوق کی بجائے میڈیا مالکان کے ذاتی ملازم بن کر ان کے مفادات کے تحفظ کرنے پر مرکوز ہوتی ہے، چاہے بے روز گار صحافی بغیر تنحواہ کے بھوکا مر جائے ۔ اس صورت حال کی وجہ سے ے صحافیوں کے اصل نمائندے پس منظر میں چلے جاتے اور بہروپیے کھل کھیلتے ہیں۔

میری تمام صحافی تنظیموں سے بلا تفریق عاجزانہ استدعا ہے کہ صحافت کے اس گلشن کو اجڑنے سے بچائیں اور ذاتی رنجشوں اور چھوٹی چھوٹی غلط فہمیوں کو دور کریں اور ان تنظیموں کے بڑے آپس میں مل بیٹھ کر اجتماعی طور پر صحافیوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کریں اور پیشہ ور صحافی بھائیوں کا مزید معاشی استحصال نہ ہونے دیں اورحکومت وقت سے اپنے صحافیوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے ایک جرنلسٹ ویلفیئر کونسل کی تشکیل و تنظیم کریں اور بلا تفریق بے روز گار صحافیوں کی فلاح وبہبود کے لیے کام کریں نہ کے میڈیا مالکان کی کٹھ پتلیاں بن کر اپنے وقار کو داؤ پر لگائیں ۔ جس طرح سیاست میں سیاسی رہنماؤں کے لیے صادق وامین ہونا ضروری ہے اسی طرح صحافتی تنظیموں کے عہدیداروں کے لیے بھی صادق وامین ہونا لازم ہے۔ میری چیف جسٹس آف پاکستان عزت مآب جناب میاں ثاقب نثار صاحب سے مؤدبانہ گزارش ہے وہ صحافتی تنظیموں کے عہدیدار ان کے صادق وامین ہونے کا نوٹس لیں اور جو عہدیدار اس آئینی شق پر پورا نہ اترے اسے بھی صحافیوں کی نمائندگی کے لیے کرپٹ سیاست دانوں کی طرح تا حیات نا اہل کر دیں ۔

حق بات تہہ تیغ و سر دار کریں گے

یہ جرم جو زندہ ہیں توسو بار کریں گے


ای پیپر