ڈبل PHD آئی جی اور ایماندار سی سی پی او
01 جولائی 2018 2018-07-01

عام انتخابات سے قبل افسران کے تقرر و تبادلے کر دئیے جاتے ہیں، نگران حکومت انتخابات کو صاف و شفاف کرانے کے لیے ایماندار اور سیاسی وفاداریوں کو پس پشت ڈال کر ڈیوٹیاں انجام دینے والے افسران کو اپنی انتظامیہ کا حصہ بناتی ہے، اسی ضمن میں ڈاکٹر سید کلیم امام کو آئی جی پنجاب لگایا گیا ہے،اب سید کلیم امام محکمہ پولیس کو انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے سے کیسے بچاتے ہیں، یہ وقت بتائے گا، یا وہ بھی گزشتہ نگران حکومتوں میں لگائے گئے آئی جیز کی طرح تنقید اور الزامات کو اپنی پروفائل کا حصہ بناتے ہیں ڈاکٹر سید کلیم امام کا اب تک کا پیشہ ور ریکارڈ قابل تحسین ہے، انہوں نے اپنی سروس کے دوران اندرون اور بیرون ملک کئی اہم عہدوں پر کام کیا ہے،سید کلیم امام ڈبل پی ایچ ڈی ہیں، انٹرنیشنل ریلیشنز اور سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ۔ فلسفہ میں ایم اے اور ہیومن رائٹس میں ایل ایل ایم ہیں ان کی یہ تعلیم ان کو دیگر پولیس افسران میں ممتاز کرتی ہے، ملکی سیاست پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں، انتخابی عمل کے داؤ پیچ کو بھی جانتے ہیں لگتا تو یہی ہے کہ سید کلیم امام انتخاب سے قبل اپنی ایک ایسی ٹیم تیار کرلیں گے جن کو سکھا دیا جائے گا کہ سیاسی کارکن کس طرح داؤپیچ کا استعمال کر کے انتخابات کو متاثر کرتے ہیں، ان کی ٹیم کو سیاسی کارکنوں کے داؤپیچ کو کیسے ناکام بنانا ہے محکمہ پولیس میں مختلف عہدوں پر نوکری کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، جرأت، بہادری، ایمانداری، کام کی مہارت اور فیصلوں کی طاقت کے باعث محکمہ پولیس میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، سید کلیم امام کی تیسری آئی جی شپ ہے، آئی جی اسلام آباد، آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویپولیس جبکہ حال ہی میں انہیں آئی جی پنجاب کی ذمہ داریاں سونپی گئیں ہیں، سید کلیم امام کو خدمات کے اعتراف میں درجنوں اعزازات سے نوازا گیا ہے،عام انتخابات چند ہفتے کی دوری پر ہیں، ایک جانب سیاسی گہما گہمی بھی ہے، سیاسی جوڑتوڑ بھی ہے، سیاسی کارکنوں کے تند و تیز وار بھی ہیں ہر جانب اندھا میدان جنگ ہے، کون کسی کو کرپٹ کہ دے، کون کسی پر جانبداری کا تاج سجا دے، کوئی پتا نہیں، اب آئی پنجاب سید کلیم امام کو عام انتخابات میں پوری ایمانداری، جرأت اور قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو صاف و شفاف انتخاب کرانے میں الیکشن کمیشن کی مدد کرنا ہوگی تاکہ انتخابات کے نتائج کے بعد کوئی سیاسی جماعت سید کلیم امام کو جانبدار اور انتخابات پر اثر انداز ہونے کا الزام نہ دے سکے۔

اب کالم کے دوسرے حصے میں لاہور پولیس کے چیف اور ان کی ٹیم کا زکر نہ کیا جائے تو یہ بالکل غیر مناسب ہوگا۔ جی ہاں بی اے ناصر یعنی بشیر احمد ناصر کو نگران حکومت کی جانب سے سی سی پی او لاہور کی نشست پر تعینات کیا گیا ہے۔گزشتہ روز بی اے ناصر اور ان کی تمام ٹیم سے ملاقات کا موقع ملا۔ملاقات کے دوران ہی اندازہ ہوگیا کہ سچ میں ایک ایماندار اور غیرجانبدار ٹیم کا انتخاب کیا گیا ہے۔ بے اے ناصر تمام صوبوں میں اہم عہدوں پر کام کرچکے ہیں۔30سال پولیس میں خدمات انجام دے چکے ہیں، انتہائی ایماندار ، بہادر، غیرجانبدار اور فیصلے کی طاقت رکھنے والے پولیس افسر ہیں۔ ملاقات کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اور آپ کی ٹیم الیکشن کے دوران کیا کردار ادا کرے گی تو بہترین جواب سننے کو ملا۔ ان کا کہنا تھا ہم نے اپنے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ الیکشن کو صاف و شفاف کرانے میں الیکشن کمیشن کی مدد کرنی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو کسی صورت بھی قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے۔ چاہے اس کے لیے کسی حد تک جانا پڑے۔ بشیر احمد ناصر نے یہ بھی بتایا کہ وہ کلیئرکٹ ویژن کے مالک ہیں ان کی اولین ترجیح الیکشن کرانا ہے اور لالچ بھی نہیں الیکشن کے بعد اس سیٹ پر زیادہ دیر کام کریں یا نہ کریں۔ بی اے ناصر سے گفتگو کے دوران یہ بھی اندازہ ہوا کہ وہ بغیر کسی لالچ اور طمع کے سونپی جانے والے ڈیوٹی کو احسن انداز میں انجام دینا چاہتے ہیں۔ آئی پنجاب سید کلیم امام نے سی سی پی او لاہور کے لیے بہترین پولیس افسر کا انتخاب کیا ہے۔ اب سی سی پی او لاہور بشیر احمد ناصر کو چاہیے کہ وہ آئی پنجاب کلیم امام کے ویژن اور سوچ کو عملی جامہ پہنائیں تاکہ عام انتخابات کے بعد وہ یہ کہہ سکیں کہ لاہور میں تعیناتی کے دوران انہوں نے منصفانہ الیکشن کرانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ کالم کے اختتام پر چند تجاویز سی سی پی او لاہور کو دینا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنی ٹیم کے زریعے ان تجاویز پر عمل درآمد کرا کے قومی فریضہ احسن انداز میں انجام دے سکیں۔ الیکشن کے دنوں میں اسلحہ کی نمائش میں اضافہ ہو جاتا ہے جو شہر میں خوف و حراس کا سبب بنتا ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے صرف کاغذی احکامات کی ضرورت نہیں بلکہ تمام ڈویژنل ایس پیز اور ایس ایچ اوز کے زریعے عمل درآمد کرانا ضروری ہے۔ دوسرا الیکشن کے دنوں میں سیاسی کارکنوں کے درمیان لڑائی جھگڑے معمول بن جاتے ہیں جو بعد میں سالہا سال چلنے والی دیرینہ دشمنیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں سپیشل سکواڈ تشکیل دینا چاہیے جو ایسے واقعات کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرائے تاکہ انتخاب کو فیسٹیول کے طور پر لیا جاسکے۔ الیکشن ڈے پر لاہور پولیس پولنگ اسٹیشن کے باہر خوش اخلاق افسران تعینات کرنے چاہیے جو ہر طرح عوام کو ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے تحفظ فراہم کریں تاکہ ووٹر احساس تحفظ کے ساتھ پولنگ اسٹیشن کا رخ کرے اور زیادہ سے زیادہ عوام باہر نکل کر اپنا قومی فریضہ انجام دے سکے۔


ای پیپر