عارضی ذلت اور دائمی جنت
01 جولائی 2018 2018-07-01

زیر نظر تحریر اگرچہ میرے قلم کی تخلیق نہیں مگر میرے دل کی آواز، احساسات کی عکاس اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ حقیقت ہی نہیں بلکہ حقیقت شناس بھی ہے۔ محترم بھائی ابو سعد لکھتے ہیں :آج صبح ہی سے گھر پر ایک خاص قسم کی ہلچل تھی،کوئی بھاگ رہا ہے ،کوئی دوڑ رہا ہے ،کوئی بازار میں سامان لینے جارہا ہے ،ابّا آج صبح سویرے بغیر نہائے دھوئے کام پہ نکل گئے ، بڑی بہن کی پھرتی قابلِ دید تھی ، وہ امّی کے ساتھ مل کر ٹفن تیار کررہی تھی ،چھوٹی بہن ادھر سے ادھر کودتی جارہی تھی کہ بھیّا آج مدرسے کو جائیں گے۔

غرضیکہ گھر بھر میں عید کا سماں تھا اور ایک میں تھا جو گال پُھلائے ،شکنیں چڑھائے ،زمانے بھر سے بیزار بیٹھاتھا ،دل میں تھا کہ آج تو جی کڑاکرکے کہہ دوں: مجھے مدرسہ وَدَرسہ نہیں جانا ،تم لوگ یہاں مزے کرتے ہو اور میں میلوں دور وہاں جھک ماری کرتا ہوں، بہت ہوگیا، اب کے میں کسی بھی حال میں مدرسہ نہیں جاؤں گا۔دل میں طرح طرح کے خیالات آتے رہے ،دماغ میں وسوسوں کا جال بُنتا اور پھر خود بہ خود ٹوٹ جاتا، اسی سوچ بچار میں کوچ کا وقت ہوگیا، بے دلی کے ساتھ دولقمے مارے اور اٹھ گیا، بے چاری امّی پکارتی رہیں کہ بیٹا!سفر ہے کچھ تو کھالو :مگر یہاں گھر چھوڑنے کے غم کے ساتھ غصہ اِس پر بھی تھا کہ ابّا نے صرف دوہزار روپے کیوں دیے ؟لہٰذا اس غصے کا اظہار ضروری تھا، ابّا یہ سارا ماجرا دیکھ کر سمجھ گئے کہ اصل درد کہاں ہے ،ابابغیر کھائے چپ چاپ اٹھے اور بیڈ روم سے اپنا کرتا اٹھالائے اور جیب میں جتنے پیسے تھے ریزگاری سمیت (تین سو روپے)سب نکال کر دے دیے،یہاں تک کہ آخر میں ایک روپے کا سکّہ نکل آیا ،انہوں نے وہ بھی دے دیا، خدا جانے ذہن پر کس قسم کا بھوت سوار تھا کہ کچھ سوچے بِنا وہ ایک روپیہ بھی لے لیا، کن اَکھیوں سے دیکھاکہ گھر کے سبھی افراد کو میری یہ حرکت نہایت ناگوار گزری ۔

خیر!ابا تو ایک لقمہ بھی نہ کھاسکے تھے ،امّی نے بھی زبردستی دو لقمے حلق سے اتارے اور اٹھ گئیں، سب لوگ ہاتھ دھوکر مجھے رخصت کرنے کے لیے تیار ہوگئے، چھوٹے بھائی نے میرا بیگ اٹھایا، امّی نے مسکراتے ہوئے ڈھیروں دعاؤں سے نوازا اور ماتھا چوم کر بَلائیں لیں، ابّو نے سر پر ہاتھ پھیرا، کچھ نصیحتیں کیں، جس کا آخری جملہ یہ تھابیٹا!محنت سے پڑھنا، وقت ضائع مت کرنا ،ہم بڑی مشقّتوں سے تمہیں پڑھا رہے ہیں۔نجانے اس جملے میں کیا کسَک تھی کہ بے اختیار آنکھیں اوپر اٹھ گئیں اور دل کانپ کر رہ گیا ،ابّو کا چہرہ گو سپاٹ اور ہر قسم کے تأثرات سے خالی تھا، تاہم آنکھوں میں چھپا درد جھلک رہا تھا بلکہ چھلکنے کو تھا، ہونٹوں پہ زخمی تبسّم اور آنکھوں میں درد کے سائے لہراہے تھے ، امّی تو ہر مرتبہ کی طرح اس بار بھی روپڑی تھیں، قبل اس کے، کہ مجھ سنگ دل کی آنکھیں اپنا کام کرتیں دھیمی آواز سے سلام کرکے تیزی سے زینے اترگیا ۔

چھوٹا بھائی کہنے لگا: بھیّا! آپ کے جاتے ہی چھوٹی بہن پھوٹ پھوٹ کر روتی ہے، امّی بیڈ روم میں جاکر بستر پر اوندھے منہ گر جاتی ہیں، بڑی بہن بالکنی میں کھڑے کپڑوں کے بجائے آنسو سُکھارہی ہوتی ہے، ابّو ان سب کو چھوڑ کر پتہ نہیں کیوں ہمیشہ باہرچلے جاتے ہیں، تمہارے جانے کے بعد اکثر گھر میں آٹھ آٹھ دن تک صرف کھچڑی پکتی ہے ،جسے سب گھر والے اَچار یا چٹنی کے ساتھ ملاکر کھالیتے ہیں، سب سے برا حال گھر پر امّی کا ہوتا ہے ،بسااوقات تین تین دن تک کچھ کھاتی نہیں ہیں، ایک چپ سی لگ جاتی ہے، پورا پورا ہفتہ گزر جاتا ہے اور ہم لوگ امّی کے منہ سے ایک جملہ سننے کو ترس جاتے ہیں ،رات کو چپکے چپکے میں دیکھتا ہوں، امّی کروٹیں بدلتی رہتی ہیں، تمہیں پتہ ہے ایک مرتبہ اچانک رات کو میر ی آنکھ کھلی ،امی کے رونے کی آواز آرہی تھی ،جب میں پوچھتا ہوں کہ کیا ہوا ؟ توروتی ہوئی بڑی بے بسی سے کہتی ہیں بس یونہی اچانک خیال آگیا کہ میرے معصوم بچے نے کچھ کھایا بھی ہوگا یا نہیں؟اسے کوئی ستاتا تو نہ ہوگا؟وہ اگر بیمار ہوگیا تو میرے لختِ جگر کو کون دیکھے گا؟ اسی قسم کے جملے کہہ کہہ کر خود بھی روتی اور ہمیں بھی رلاتی ہیں اور جس رات یہ قصہ پیش آتا ہے پھر وہ رات ابواور امّی کی مصلّے پر گذر جاتی ہے۔

ابھی یہ باتیں چل ہی رہی تھیں کہ میرا جگری دوست خالد آدھمکا اور اپنے بے تکلّفانہ انداز میں کہنے لگاآج صبح غضب ہوگیا ،تمہارے ابّو صبح سویرے حاجی جنید کے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے اور حاجی چلّا چلّا کر کہہ رہا تھا کہ:صبح صبح بھکاری قرض مانگنے آجاتا ہے، حیثیت نہیں ہے تو اپنے بیٹے کو نوکری پہ لگا ، کیوں حرام کا مدرسے میں ڈال رکھا ہے اور پتہ نہیں حاجی کیا کیا بَکتا رہا ، اخیر میں کالر پکڑ کے اس نے ابّا کو ایک تھپّڑ مار دیا اور جیب سے دو ہزار کے نوٹ نکال کر یہ کہتے ہوئے منہ پردے مارے کہ لے بھکاری!آئندہ ہفتے کسی بھی حال میں مجھے سب پیسے واپس چاہیئیں۔ تمہارے ابّو نیچے گرے ہوئے نوٹ اٹھاکر سر جھکائے آگے بڑھ گئے ،مجھ سے برداشت نہ ہوسکا ،میں نے لپک کر پوچھا:چچا جان! آپ تو محلّے کے شریف اور عزّت دار آدمی ہیں، آخر اس کمینے حرامی بُڈّھے سے اتنا دَبنے کی کیا ضرورت ہے ؟یہ سب ذلّتیں کیوں برداشت کررہے ہیں؟ابّاجی کی آنکھ میں آنسو آگئے ،کہنے لگے:اگر میں دو ہزار لے کر نہیں گیا تو میرا بیٹا مدرسے میں نہیں جاپائے گا اور میں اس کو پڑھا کر جنّت کمانا چاہتا ہوں دائمی جنّت کے لیے عارضی ذلّت برداشت کررہا ہوں ۔


ای پیپر