اوراگر میں نے راز فاش کردیئے تو!
01 جولائی 2018 2018-07-01

ڈیڑھ دوارب مسلمانوں کا ایمان ہے، کہ ہمارا خالق جو ہمارا رب بھی ہے، وہ انتہائی رحیم وکریم ہے، بلکہ رحمت ، اس کی تمام صفات الہیہ سے بڑھ کر ہے اور ابررحمت ،سب کو محیط کیے ہوئے ہے، لیکن اکثر مسلمانوں کا یہ عالم ہے، کہ اس کے باوجود بھی وہ حالت اضطرار میں رہتے ہیں۔

کیونکہ کلمہ پڑھنے سے انسان مسلمان تو ہو جاتاہے، مگر مومن بننے کے لیے اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ کی ماننی پڑتی ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طورپر تجلیات برداشت نہ کرسکے، جبکہ کئی ولی اللہ دن میں کئی بار دیدار الٰہی کرلیتے تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، اور حضرت خضر علیہ السلام کا سورة کہف میں بیان کیا گیا قصہ میری بات کی تصدیق کرتا ہے، عرش پہ معراج مصطفیٰ، پہ اللہ تعالیٰ، اور حبیب مصطفیٰ کے درمیان جوبالمشافہ، ملاقات ہوئی، حضور کی واپسی پہ گلی کی نکڑ پہ کھڑے ایک مفلوک الحال فقیر نے حضور کو لفظ بلفظ سنا دی تھی۔ اور اصحاف صفہ ، جو دربار نبی پہ اب بھی موجود ہے، جو حضرت ابوہریرہؓ سے لے کر اب چودہ سوسال کے باوجود بھی ابھی تک قائم ودائم ہے، جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے اولیاءکرام اب بھی ایک دوسرے کی زبان نہ سمجھنے کے باوجود گھر کے فرد کی طرح آپس میں شیروشکر ہیں، اور کسی ایک بزرگ کے وصال کے بعد اس کی جگہ پُر کرنے کے لیے کوئی اور صاحب نصیب آجاتا ہے۔

ان فقیروں اور درویشوں کا درجہ دیکھئے ، کہ خود حضور کو اللہ نے ہدایت کی، اور حکم دیا کہ آپ ان کے درمیان کچھ وقت گزاراکریں، جب حضور نے اپنے صحابہ کرامؓ سے فرمایا کہ کوئی بھی انسان اپنے اعمال، عبادت وریاضت کی بنا پر جنت میں نہیں جائے گا، مگر جس کے لیے اذن الٰہی ہوگا، وہ اللہ تعالیٰ کی شان رحیمی وکریمی کے طفیل اور محض اس لیے جنت کا حق دار ہوسکے گا، اور صحابہ¿ کرام ؓ نے عرض کی ، کہ کیا آپ بھی، تو آپ نے فرمایا جی میں بھی، محض اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے جنت میں جاﺅں گا۔ میری اس عرض گزاشت کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا، کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی غفور ورحیم ہے، اب اس خیال صادق کی مثال حضرت ذوالنونؒمصری دیتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ میں دوران سفر ایک برف پوش علاقے میں سے گزرا، تو دیکھا کہ ایک آتش پرست ہرسمت دانے بکھیر رہا ہے، اورجب اس سے وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ وہ اس بیابان وویران جگہ پہ جہاں پرندوں کو کہیں سے بھی ایک دانہ حاصل نہیں ہوسکتا، اس لیے میں ثواب کی نیت سے دانہ بکھیر رہا ہوں، میں نے کہا کہ اللہ کے ہاں تو غیر کی روزی ناپسندیدہ ہے، لیکن اس نے عرض کیا، کہ میرے لیے بس اتنا ہی کافی ہے ، کہ رب میری نیت دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد میں نے ایام حج میں اس آتش پرست کو نہایت ذوق وشوق کے ساتھ کعبے کا طواف کرتے دیکھا، اور طواف سے فارغ ہونے کے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ میں نے جو صحرا میں دانہ بکھیرا تھا، اس کا ثمر اور ثواب کتنی بہتر شکل میں ملا ہے، یہ سنتے ہی میں نے پر جوش لہجے میں اللہ تعالیٰ سے عرض کیا، کہ تو نے تو چالیس برس آتش پرستی کرنے والے کو چند دانوں کے عوض اتنی عظیم نعمت کیسے عطا کردی۔ ندا سے آواز آئی، کہ ہم اپنی مرضی کے مختار ہیں، ہمارے امور میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں، قارئین کرام یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ومغرفت کی بین دلیل ہے، کیا ہم اسے حاصل کرنے کی سبیل کرتے ہیں ؟

آخر میں ، میں ایک اور مثال دے کر اپنا مقصد ومدعابیان کروں گا، اللہ تعالیٰ کے ایک مشہور ولی ، ساری رات، آہ وزاری، نالہ شب ،گریہ زاری، اور حق بندگی اس طرح سے کرتے تھے، کہ کسی کو اس عبادت وریاضت، اور اس کے طریق کار کی مطلق خبر ہی نہیں تھی، ان بزرگ کے اس انداز کو اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ نے پسند فرمایا ، مگر ایک دن اللہ تعالیٰ نے اُنہیں کہا، کہ جس طرح تم مجھے راضی اور خوش کرنے کی کوشش کرتے ہو، اگر میں تمہارا راز فاش کردوں، تو لوگ تمہیں پتھر ماریں گے، یہ سن کر اللہ کے اس پیارے ولی نے فرمایا، اور اگر میں تمہارے راز فاش کردوں، کہ آپ کتنے بڑے رحیم وکریم اور بخشن ہار ہیں، تولوگ آپ کو سجدہ کرنا ہی چھوڑ دیں۔

قارئین ،آج کل انتخابات سے پہلے ہروہ امیدوار، جس کو ٹکٹ نہیں ملا، وہ اپنی پارٹی کے راز فاش کرنے کی دھمکیاں دینے پر اتر آیا ہے ، اس خیال اور انداز طفلانہ پہ میں گزشتہ کالم میں اپنی رائے کا اظہار کرچکا ہوں اس لیے تو کہا جاتاہے کہ راز تب تک ہے جب تک وہ تمہارے دل میں رہتا ہے، مثلاً میں اگر کچھ راز فاش کرنا چاہوں، تو مجھے تو پتہ ہے قارئین کہ (1)وہ کون سا ایسا صحافی ہے جو ہمیشہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف لکھتا ہے، اور بولتا ہے، مگر خود ایکڑوں کے گھر میں رہتاہے؟(2)وہ کون شاطر صحافی ہے جو ہرپارٹی سے لفافے لے لیتا ہے؟اور یہ بھی کہ وہ صحافی کون ہے، جو پانچ ہزار یا دس ہزار لے کر لوگوں کے کام کرواتا تھا؟ اور اس کے تعلقات ، حکمرانوں، سیاستدانوں اور افسروں سے کیسے استوار ہوئے؟ وہ کونسا ایسا ناصح ہے جو مہنگے ترین سگار پیتا ہے، جو سولہ ہزار سے لے کر چالیس ہزار کا ہوتا ہے، مگر خود کو عوامی کہلاتا ہے، اور اسی نعرے پہ وہ انتخاب لڑے گا، آپ یہ بھی بتائیں، کہ وہ کون سا ایسا لیڈر ہے، کہ جو پگڑی پہن لے، تو اس کا ماضی بلکہ اوقات سامنے آجاتی ہے، مگر نیب نے یہ تفتیش کیوں نہیں کی، کہ وہ میٹر ریڈر سے اربوں پتی کیسے بن گیا ؟ اور وہ کونسی ایسی شخصیت ہے کہ جس کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، کہ میری ڈوری کوئی نہیں ہلاسکتا ، ہمارا کون سا ایسا آرمی چیف ہے، جو بغیر پروٹوکول کے اپنے خاندان کے ساتھ بازاروں میں گھومتا ہے، مگر کیوں؟ وہ کون سا ایسا مردمومن اور باوفا ہے، جس نے مشرف دور میں اپنے خلاف مقدمات ”کلیئر“ کرالیے تھے، اور وہ کون سا محسن کش ہے، جس نے تاریخ پاکستان میں اپنے بیٹے کو وزیراعلیٰ لگوا لیا تھا۔

اس شخص کا بتائیں، جس نے اب حالیہ ہونے والے انتخاب میں خصوصاً آزاد کشمیر میں ٹکٹوں کے نام پہ کروڑوں سے بھی زیادہ کما لیا ہے ، اور وہ ہمیشہ چودھری نثار کے خلاف خودہی سرکاری وکیل بن جاتا ہے ؟ وہ کون سا سابق وزیر ہے، جو مشرف سے دبئی جاکر ملتا ہے، وہ کون سے ایسے کالم نگار ہیں ، جو ایک دوسرے کی تعریفوں کے پل باندھ دیتے تھے، مگر آج کل ایک دوسرے کے خلاف کالم لکھتے ہیں، قارئین ان کی کس بات پہ اعتبار کریں؟ وہ کون سے ایسے صحافی ہیں، جن کا تعلق اسٹیبلشمنٹ سے ہے، اس لیے جو اینکر اور میزبان سے منہ موڑ کر، اور آنکھیں چرا کر بات کرتے ہیں، مگر ان میں سے ایک کا دعویٰ ہے، کہ وہ ایک مشہور سیاستدان کے اتالیق ہیں۔ وہ کون سا چینل ہے، کہ جو ”حساس“ سمجھا جاتا ہے، حساس کا مطلب آپ سمجھ گئے ہوں گے، وہ کون سا ایسا دوغلا صحافی ہے، جو بولتا کسی کے حق میں ہے ، مگر دفتر میں اسے گالیاں دیتا ہے؟ وہ کون سے ایسے صحافی ہیں، جن پر سیاسی جماعتوں سے وابستگی کے لیبل لگے ہوئے ہیں وہ کون سی سیاسی پارٹیاں ہیں، جو بظاہر ایک دوسرے کے دشمن مگر درپردہ ایک ہیں وہ کون سا ایسا اپوزیشن لیڈر ہے، جس سے حکومت وقت بڑی خوش تھی ۔ وہ کون سا ایسا چینل ہے، جس کے نیوز کاسٹروں، ادکاراﺅں، اور دوسرے آرٹسٹوں کے پیسے پروڈیوسرخود کھا جاتے ہیں، اور ایسا باہمی رضا مندی، اور ”مفاہمت زرداری “کے تحت ہوتا ہے ؟

وہ کون سے ایسے افسرتھے، جو دوران ملازمت ، روزانہ مشرف کے ساتھ چائے پیتے تھے؟ ڈیوٹی میں وقفے کے دوران وہ ایسا کون سا صحافی ہے، جو اعلانیہ گھر نہیں بناتا، پیسے ہونے کے باوجود اپنے نام پہ پلاٹ نہیں لیتا، مگر حکمران وقت سے ملنے کا شوقین ہے، وہ کون سا کالم نگار ہے جو ہمیشہ آدھا صفحہ عورتوں کی تعریف کے لیے وقف کردیتا ہے، اور اس خودساختہ علامہ کا نام بتائیں، جس نے اپنے آپ کو علامہ مشہور کردیا ہے اور اس صحافی کا نام ضرور بتائیں، جو اردو میں ڈاکٹریٹ کرنے کے باوجود بالکل غلط اردو لکھتا ہے ؟اس سے زیادہ لکھ کر ہر ایک سے میں اپنے تعلقات خراب نہیں کرسکتا۔ قارئین کرام، صفحے پہ مزید گنجائش نہ ہونے پر تھوڑے کو زیادہ سمجھیں، ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ راز دراصل اعتماد ہوتاہے، اور اعتماد ایک روح کی طرح ہوتا ہے، جو ایک دفعہ چلا جائے تو واپس نہیں آتا، میں آپ کا مشکور ہوں کہ قارئین آپ مجھ پر اعتماد کرتے ہیں، شکریہ ۔


ای پیپر