PM Imran Khan Interview
01 جنوری 2021 (19:49) 2021-01-01

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے انٹرویو میں بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت نے تاریخ میں پہلی دفعہ 2 سال میں 20 ارب ڈالر قرض واپس کیا ،اگر مسلم لیگ ن اور پی پی کیساتھ مل کر حکومت بناتے تو جس احتساب کی بات ہم کرتے تھے وہ کبھی بھی نہیں کر سکتے تھے ،وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہماری حکومت کبھی نظریہ پر کمپرومائز نہیں کرے گی ،اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان کے نظریے پر کمپرو مائز ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا اس وقت کوئی بیوقوف ہی ہوگا جسے یہ نہ پتہ ہو کہ ملک کے کیا مسائل ہیں ،پاکستان کے حل تکلیف دہ ہیں ،گھر پر قرض اس لیے چڑھتا ہے کہ آمدن کم ہو تی ہے اور اخراجات زیادہ ہوتے ہیں ،خرچے کم کرتے ہیں تو گھر میں تکلیف ہو تی ہے ،وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا پاکستان کی پہلی حکومت نے جس نے 2 سال میں 20 ارب ڈالر قرض واپس کر چکی ہے ،17 سال بعد کرنٹ اکائونٹ پانچ ماہ سے پوزیٹو ہے ،ریمنٹس اور ایکسپورٹ ہماری بڑھی ہے ،ہمارا روپیہ گرنے سے بچ گیا ،ہم سابقہ حکومتوں کی طرح مارکیٹ میں روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کیلئے ڈالر نہیں پھینک رہے ،انہوں نے کہا ہماری آمدنی کا زیادہ تر حصہ قرضوں کی قسطیں اتارنے میں چلی جا تی ہے ،حکومت میں آکر ملک میں لوٹنے کا سلسلہ احتساب کی صورت میں ہی رک سکتا ہے ۔

وزیر اعظم نے کہا میں شروع دن سے کہا تھا کہ پی پی اور ن لیگ سے ملکر حکومت بنانا پڑی تو اپوزیشن میں بیٹھوں گا ،مسلم لیگ ق ،ایم کیو ایم اور دیگر اتحادیوں سے تعلقات اچھے ہیں ،میری لڑائی دہشتگرد بانی متحدہ کیخلاف تھی ،ایم کیو ایم کے نظریات ہم سے ملتے جلتے ہیں ،انہوں نے کہا اگر پی پی اور ن لیگ کیساتھ مل کر حکومت بناتا تو ان کیخلاف احتساب نہیں کر سکتا تھا ،ہماری حکومت آئی تو ہمیں کہا گیا کہ حکومت ایک ماہ میں گئی ،دو ماہ میں گئی ،عالمی وبا آئی توان لوگوں کو سب سے زیادہ خوشی ہوئی کہ اب تو حکومت کو مزید مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑیگا ،لاک ڈائون لگےگا تو لوگ ہماری حکومت کیخلاف سڑکوںپر آجائینگے لیکن ہماری حکومت نے زبردست کام کیا ،انہوں نے کہا عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں پاکستان کا انشا اللہ بہت اچھا وقت آئے گا ۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہماری حکومت کبھی نظریہ پر کمپرومائز نہیں کرے گی ،اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان کے نظریے پر کمپرو مائز ہے ،انہوں نے کہا یوٹرن تب بُرا ہوتا ہے جب نظریے پر سمجھوتا ہو ،ہمارے دوسال بڑی مشکل میں گزرے ،اب پاکستان کا اچھا وقت آ رہا ہے ۔


ای پیپر