فواد چوہدری نے حکومت اور اپوزیشن کو الرٹ کر دیا
01 جنوری 2020 (21:24) 2020-01-01

اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر ہم نے اپنے معاملات درست نہ کئے اور آپس میں دست و گریباں رہے تو مستقبل ہاتھ سے نکل جائے گا، اگر الیکشن کمیشن کے ارکان کا تقرر بھی ہم خود نہیں کر سکتے، احتساب کے نظام پر اتفاق رائے نہیں کر سکتے تو اس طرح تو جمہوریت نہیں چل سکتی۔

الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری، احتساب کے نظام اور فوج کے قانون پر اتفاق رائے ہو سکتا ہے، اداروں کے درمیان آئین توازن طے کرتا ہے ، تمام ادارے نہ تو تمام معاملات میں قصور وارہیں اور نہ بے قصور ہیں۔

بدھ کو سینیٹ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پچھلے سال کافی تلخ باتیں بھی میں نے کیں، چاہتا ہوں کہ نئے سال کا آغاز مختلف طریقے سے کریں۔انہوں نے کہا کہ ان اداروں کے درمیان آئین توازن طے کرتا ہے آئین بتاتا ہے کہ ملک نے چلنا کیسے ہے، مسئلہ یہ ہے کہ لگ رہا ہے کہ ہم باہم دست وگریباں ہیں یوں لگ رہا ہے حکومت اور اپوزیشن میں بالکل کوئی معاملہ ممکن ہی نہیں ، تمام ادارے نہ تو تمام معاملات میں قصور وارہیں اور نہ بے قصور ہیں، غلطیاں ہم سے بھی ہوئی ہوں گی غلطیاں اپوزیشن سے بھی ہوئی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ 22کروڑ عوام میں سے 60فیصد 25سال کے نوجوان ہیں، پہلا نقطہ یہ ہونا چاہیے کہ ان بچوں کو بہتر مستقبل کیسے دے پائیں گے اگر ہم نے اپنے معاملات درست نہ کئے ،اگر ہم آپس میں دست و گریباں رہے تو مستقبل ہاتھ سے نکل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 100فیصد اتفاق رائے نہیں ہوا کرتا ، جمہوریت میں کم از کم اتفاق رائے ہونا چاہیے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جو تلخیاں ہیں بنیادی معاملات پر وہ تلخیاں رہیں لیکن اگر الیکشن کمیشن کے ارکان کا تقرر بھی ہم خود نہیں کر سکتے، احتساب کے نظام پر اتفاق رائے نہیں کر سکتے تو اس طرح تو جمہوریتیں نہیں چل سکتیں، الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری، احتساب کے نظام اور فوج کے قانون پر اتفاق رائے ہو سکتا ہے،ہمارے ادارے سب کے برابر ادارے ہیں،آئین کے اندر وزیراعظم کا احترام بھی لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں تمام پارلیمنٹیرینز کو آرٹیکل62-63پر جج کرنا چاہتی ہیں وہ ہمارا احتساب کرنا چاہتے ہیں لیکن خود جوڈیشری پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں آنے کو تیار نہیں، فواد چوہدری نے کہا کہ سب سے اہم ذمہ داری اس وقت حکومت اور اپوزیشن پر ہے،بہت سارے معاملات میں حکومت کی غلطیاں ہوں گی اور کچھ اپوزیشن کی بھی ہوں گی لیکن ایک کامن ایجنڈا دینا چاہیے۔


ای پیپر